آخرتکیجزاوسزا
آخرتمیںنجاتکامستحقکونہے؟
سوال:۔
اس آیت کا مطلب یا دُوسرے الفاظ میں تشریح بیان کردیجئے، ﵟلَّا يُحِبُّ ٱللَّهُﵞ(النساء١٤٨): ’’جو لوگ خدا پر اور روزِ آخرت پر اِیمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو قیامت کے دن نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے۔‘‘
جواب:۔
آیت کا مضمون بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون دُنیا کی تمام قوموں کے لئے یکساں ہے، پس خواہ کوئی شخص مسلمانوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہو یا یہودی، عیسائی یا ستارہ پرست ہوں، وہ اگر اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر اِیمان لائے، وہ آخرت میں نجات پائے گا۔
اللہ تعالیٰ پر اِیمان لانے میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں کو سچا سمجھے، مثلاً: قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’محمد رسول اﷲ‘‘ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اگر کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اِیمان رکھتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر بھی اِیمان رکھنا ہوگا۔ اور جو شخص اس پر اِیمان رکھے گا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول مان کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان بھی لائے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتوں کو تسلیم بھی کرے گا۔ پس جو شخص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کو قبول نہیں کرتا، وہ اللہ تعالیٰ پر اِیمان نہیں رکھتا۔(۱) ایسا شخص خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا عیسائی، یہودی اور ستارہ پرست کہلاتا ہو، وہ آخرت کی فلاح کا مستحق نہیں۔
- (۱) والْإیمان ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللہ تعالٰی أی تصدیق النبی بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ تعالٰی ۔۔۔ والْإقرار بہ أی باللسان ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقائد نسفیہ ص:۱۱۹، ۱۲۰) ، وأیضًا: واذا ثبت نبوتہ وقد دل کلامہ، وكلام اللہ المنزل علیہ علٰی انہ خاتم النبیّین، وانہ مبعوث الٰی کافۃ الناس بل الی الجن والْإنس، ثبت انہ آخر الأنبیاء، وان نبوتہ لَا تختص بالعرب كما زعم بعض النصاریٰ۔ (شرح عقائد ص:۱۳۷)۔

