بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

خدا‌کے‌فیصلے‌میں‌شفاعت‌کا‌حصہ

سوال:۔

اگر شفاعت فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوسکتی تو اس کا فائدہ معلوم نہیں، اور اگر یہ فیصلے پر اثرانداز ہوتی ہے تو یہ تصرف ہے، اس لئے شفاعت کے بارے میں آپ کا جواب اطمینان بخش نہیں ہے۔

جواب:۔

ﵟ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ ﵞتو قرآن مجید میں ہے، (۱)اس لئے شفاعت بالاذن پر اِیمان لانا تو واجب ہے،(۲) رہا تصرف کا شبہ تو اگر حاکم ہی یہ چاہے کہ اگر اس گناہ گار کی کوئی شفاعت کرے تو اس کو معاف کردیا جائے، گو معاف وہ ازخود بھی کرسکتا ہے، مگر شفاعت میں شفیع کی وجاہت اور حاکم کی عظمت کا اظہار مقصود ہو، تو اس میں اِشکال کیا ہے۔۔۔؟

  1. (۱) ﵟ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ ﵞ البقرة ٢٥٥۔
  2. (۲) قال القاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی: مذھب أھل السُّنّۃ جواز الشفاعۃ عقلًا ووجوبھا سمعًا بصریح قولہ تعالٰی: ﵟ يَوۡمَئِذٖ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَرَضِيَ لَهُۥ قَوۡلٗا ﵞ، وقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ ﵞ، وأمثالھما وبخبر الصادق صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ۔ (شرح صحیح مسلم للنووی ج:۱ ص:۱۰۴)۔