آخرتکیجزاوسزا
بروزِحشرشفاعتِمحمدیکیتفاصیل
سوال:۔
بروزِ محشر شفاعتِ اُمتِ محمدی کی تفاصیل کیا ہیں؟
جواب:۔
ان تفصیلات کو قلم بند کرنے کے لئے تو ایک دفتر چاہئے، مختصر یہ ہے کہ شفاعت کی کئی صورتیں ہوں گی۔
اوّل:۔ شفاعتِ کبریٰ: یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قیامت کے دن جب لوگوں کا حساب و کتاب شروع ہونے میں تأخیر ہوجائے گی تو لوگ نہایت پریشان ہوں گے، لوگ کہیں گے کہ چاہے ہمیں دوزخ میں ڈال دیا جائے مگر اس پریشانی سے نجات مل جائے، تب لوگ اپنے علماء سے اس مسئلے کا حل دریافت کریں گے، علمائے کرام کی طرف سے فتویٰ دیا جائے گا کہ اس کے لئے کسی نبی کی شفاعت کرائی جائے، لوگ علی الترتیب سیّدنا آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے مگر یہ سب حضرات معذرت کریں گے اور اپنے بعد والے نبی کا حوالہ دیتے جائیں گے۔(۱)
مسند ابوداؤد طیالسی (ص:۳۵۴ مطبوعہ حیدرآباد دکن) کی روایت میں ہے کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام شفاعت کی درخواست کرنے والوں سے فرمائیں گے:
’’یہ بتاؤ! اگر کسی برتن پر مہر لگی ہوئی ہو تو جب تک مہر کو نہ کھولا جائے اس برتن کے اندر کی چیز نکالی جاسکتی ہے؟‘‘
وہ عرض کریں گے: نہیں!
آپؑ فرمائیں گے کہ:
’’پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج یہاں تشریف فرما ہیں، ان کی خدمت میں حاضری دو۔‘‘
الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا مشورہ دیں گے، اور پھر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی درخواست قبول فرماکر شفاعت کے لئے ’’مقامِ محمود‘‘ پر کھڑے ہوں گے اور حق تعالیٰ شانہ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول فرمائیں گے، یہ شفاعتِ کبریٰ کہلاتی ہے، کیونکہ اس سے تمام اُمتیں اور تمام اوّلین و آخرین مستفید ہوں گے اور سب کا حساب شروع ہوجائے گا۔(۲)
دوم:۔ بعض حضرات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بغیر حساب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔(۳)
سوم:۔ بعض لوگ جو اپنی بدعملی کی وجہ سے دوزخ کے مستحق تھے، ان کو بغیر عذاب کے جنت میں داخل کیا جائے گا، یہ شفاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں دیگر مقبولانِ اِلٰہی کو نصیب ہوگی۔(۴)
چہارم:۔ جو گناہ گار دوزخ میں داخل ہوں گے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات انبیائے کرام علیہم السلام، حضراتِ ملائکہ اور اہلِ ایمان کی شفاعت سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ان سب حضرات کی شفاعت کے بعد حق تعالیٰ شانہ‘ تمام اہلِ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ کو دوزخ سے نکال لیں گے (یہ گویا ارحم الراحمین کی شفاعت ہوگی)، اور دوزخ میں صرف کافر باقی رہ جائیں گے۔(۵)
پنجم:۔ بعض حضرات کے لئے جنت میں بلندیٔ درجات کی شفاعت ہوگی۔(۶)
ششم:۔ بعض کافروں کے لئے دوزخ میں تخفیفِ عذاب کی شفاعت ہوگی۔(۷)
ان تمام شفاعتوں کی تفصیلات احادیثِ شریفہ میں وارِد ہیں۔
(۱ ) قولہ: (والشفاعۃ التی ادخرھا لھم حق، كما روی فی الأخبار) ش: الشفاعۃ أنواع: منھا ما ھو متفق علیہ بین الاُمّۃ، ومنھا ما خالف فیہ المعتزلۃ ونحوھم من أھل البدع۔
النوع الأوّل: الشفاعۃ الأولٰی، وھی العظمٰی، الخاصۃ بنبینا صلی اللہ علیہ وسلم من بین سائر إخوانہ من الأنبیاء والمرسلین، صلوات اللہ علیھم أجمعین۔ فی الصحیحین وغیرھما عن جماعۃ من الصحابۃ، رضی اللہ عنھم أجمعین، أحادیث الشفاعۃ۔
منھا: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: أتیَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلحم، فدفع إلیہ منھا الذراع، وکانت تعجبہ، فنھس منھا نھسۃ، ثم قال: أنا سیّد الناس یوم القیامۃ، وھل تدرون لِمَ ذٰلك؟ یجمع اللہ الأوّلین والآخرین فی صعید واحد، فیقول بعض الناس لبعض: ألَا ترون إلٰی ما أنتم فیہ؟ ألَا ترون إلٰی ما قد بلغكم؟ ألَا تنظرون من یشفع لكم إلٰی ربکم؟ فیقول بعض الناس لبعض: أبوكم آدم، فیأتون آدم، فیقولون: یا آدم! أنت أبوالبشر، خلقك اللہ بیدہ، ونفخ فیك من روحہ، وأمر الملائكۃ فسجدوا لك، فاشفع لنا إلٰی ربك، ألَا تریٰ إلٰی ما نحن فیہ؟ ألَا تریٰ ما قد بلغنا؟ فیقول آدم: إن ربّی قد غضب الیوم غضبًا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، وإنہ نھانی عن الشجرۃ فعصیتہ، نفسی، نفسی! نفسی، نفسی! إذھبوا إلٰی غیری، إذھبوا إلٰی نوح۔ فیأتون نوحًا، فیقولون: یا نوح! أنت أول الرسل إلٰی أھل الأرض، وسماك اللہ عبدًا شکورًا، فاشفع لنا إلٰی ربك، ألَا تریٰ إلٰی ما نحن فیہ؟ ألَا تریٰ ما قد بلغنا؟ فیقول نوح: إن ربّی قد غضب الیوم غضبًا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، وإنہ کانت لی دعوۃ دعوت بھا علٰی قومی، نفسی، نفسی! نفسی، نفسی! إذھبوا إلٰی غیری، إذھبوا إلٰی إبراھیم۔ فیأتون إبراھیم، فیقولون: یا إبراھیم! أنت نبی اللہ وخلیلہ من أھل الأرض، ألَا تریٰ إلٰی ما نحن فیہ؟ ألَا تریٰ ما قد بلغنا؟ فیقول: إن ربّی قد غضب الیوم غضبًا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، وذکر كذباتہ، نفسی، نفسی! نفسی، نفسی! إذھبوا إلٰی غیری، إذھبوا إلٰی موسٰی۔ فیأتون موسٰی: فیقولون: یا موسٰی! أنت رسول اللہ، اصطفاك اللہ برسالَاتہ وبتكلیمہ علی الناس، إشفع لنا إلٰی ربّك، ألَا تریٰ ما نحن فیہ؟ ألَا تریٰ ما قد بلغنا؟ فیقول لھم موسٰی: إن ربّی قد غضب الیوم غضبًا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، وإنی قتلت نفسًا لم أومر بقتلھا، نفسی، نفسی! نفسی، نفسی! إذھبوا إلٰی غیری، إذھبوا إلٰی عیسٰی۔ فیأتون عیسٰی، فیقولون: یا عیسٰی! أنت رسول اللہ وكلمتہ ألقاھا إلٰی مریم وروح منہ، قال: ھٰكذا ھو، وكلّمتَ الناس فی المھد، فاشفع لنا إلٰی ربّك، ألَا تریٰ ما نحن فیہ؟ ألَا تریٰ ما قد بلغنا؟ فیقول لھم عیسٰی: إن ربّی قد غضب الیوم غضبًا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، ولم یذکر لہ ذنبا، إذھبوا إلٰی غیری، إذھبوا إلٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فیأتونی، فیقولون: یا محمد! أنت رسول اللہ، وخاتم الأنبیاء، غفر اللہ لك ذنبك، ما تقدّم منہ وما تأخّر، فاشفع لنا إلٰی ربّك، ألَا تریٰ إلٰی ما نحن فیہ؟ ألَا تریٰ ما قد بلغنا؟ فأقوم، فآتی تحت العرش، فأقع ساجدًا لربّی عزَّ وجلَّ، ثم یفتح اللہ علیَّ ویلھمنی من محامدہ وحسن الثناء علیہ شیئًا لم یفتحہ علٰی أحد قبلی، فیقال: یا محمد! إرفع رأسك، سل تعطہ، إشفع تُشفَّع، فأقول: یا رَبّ اُمّتی اُمّتی! یا رَبّ اُمّتی اُمّتی! یا رَبّ اُمّتی اُمّتی! فیقول: أدخل من اُمّتك من لَا حساب علیہ من الباب الأیمن من أبواب الجنۃ، وھم شرکاء الناس فیما سواہ من الأبواب، ثم قال: والذی نفسی بیدہ! لما بین مصراعین من مصاریع الجنّۃ كما بین مکۃ وھجَر، أو كما بین مکۃ وبُصریٰ۔ أخرجاہ فی الصحیحین بمعناہ، واللفظ للإمام أحمد۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۲-۲۵۴ أیضًا بخاری ج:۲ ص:۱۱۱۸ طبع قدیمی الرد علی الجھمیۃ)۔
- (۲) حوالہ بالا
- (۳) النوع الخامس: الشفاعۃ فی أقوام أن یدخلوا الجنۃ بغیر حساب، ویحسن أن یستشھد لھٰذا النوع بحدیث عکاشۃ بن محصن، حین دعا لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یجعلہ من السبعین ألفًا الذین یدخلون الجنۃ بغیر حساب، والحدیث مخرّج فی الصحیحین۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۷ قولہ والشفاعۃ حق)۔
- (۴) النوع شفاعتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی أقوام تساوت حسناتھم وسیئاتھم فیشفع فیھم لیدخلوا الجنۃ، وفی أقوام آخری قد أمر بھم إلی النار، ان لَا یدخلونھا۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۷)۔
- (۵) النوع الثامن: شفاعتہ فی أھل الكبائر من اُمّتہ، ممن دخل النار، فیخرجون منھا، وقد تواترت بھٰذا النوع الأحادیث، وھٰذہ الشفاعۃ تشارکہ فیھا الملائكۃ والنبیون والمؤمنون أیضًا، وھٰذہ الشفاعۃ تتکرر منہ صلی اللہ علیہ وسلم أربع مرات، ومن أحادیث ھٰذا النوع، حدیث أنس ابن مالك رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: شفاعتی لأھل الكبائر من اُمّتی، رواہ الْإمام أحمد رحمہ اللہ، وروی البخاری رحمہ اللہ فی کتاب ’’التوحید‘‘ ۔۔۔ فقال: یا أبا حمزۃ! ھٰؤلَاء إخوانك من أھل البصرۃ، جاؤوك یسألونك عن حدیث الشفاعۃ، فقال: حدثنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قال: إذا کان یوم القیامۃ، ماج الناس بعضھم فی بعض، فیأتون آدم، فیقولون: اشفع لنا إلٰی ربّك، فیقول: لست لھا، ولٰـكن علیكم بإبراھیم، فإنہ خلیل الرحمٰن، فیأتون إبراھیم، فیقول: لست لھا، ولٰـكن علیكم بموسٰی، فإنہ کلیم اللہ، فیأتون موسٰی، فیقول: لست لھا، ولٰـكن علیكم بعیسٰی، فإنہ روح اللہ وكلمتہ، فیأتون عیسٰی، فیقول: لست لھا، ولٰـكن علیكم بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم، فیأتونی، فأقول: أنا لھا، فأستأذن علی ربی فیؤذن لی، ویلھمنی محامد أحمدہ بھا، لَا تحضرنی الآن، فأحمد بتلك المحامد، وأخِرّ لہ ساجدًا، فیقال: یا محمد! إرفع رأسك، وقل یُسمع لك، واشفع تُشفَّع، وسل تعط، فأقوال: یا رَبّ اُمّتی اُمّتی! فیقال: انطلق فأخرج منھا من کان فی قلبہ مثقال شعیرۃ من إیمان، فأنطلق فأفعل، ثم أعود فأحمدہ بتلك المحامد، ثم أخِرّ لہ ساجدًا، فیقال: یا محمد! إرفع رأسك، وقل یسمع لك، واشفع تُشفَّع، وسل تعط، فأقول: یا رَبّ اُمّتی اُمّتی! فیقال: إنطلق فأخرج منھا من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ أو خردلۃ من إیمان، فأنطلق فأفعل، ثم أعود بتلك المحامد، ثم أخِرّ لہ ساجدًا، فیقال: یا محمد! إرفع رأسك، وقل یسمع لك، وسل تعط، واشفع تشفَّع، فأقول: یا رَبّ اُمّتی اُمّتی! فیقول: إنطلق فأخرج من کان فی قلبہ أدنٰی أدنٰی مثقال حبۃ من خردل من إیمان، فأخرجہ من النار، فأنطلق فأفعل۔ قال: فلما خرجنا من عند أنس، قلت لبعض أصحابنا لو مررنا بالحسن، وھو متوار فی منزل أبی خلیفۃ، فحدثناہ بما حدثنا بہ أنس بن مالك، فأتیناہ، فسلّمنا علیہ، فأذن لنا، فقلنا: یا أبا سعید! جئناك من عند أخیك أنس بن مالك، فلم نر مثل ما حدثنا فی الشفاعۃ، فقال: ھیہ؟ فحدثناہ بالحدیث، فانتھی إلٰی ھٰذا الموضع، فقال: ھیہ؟ فقلنا: لم یزد لنا علٰی ھٰذا، فقال: لقد حدثنی وھو جمیعٌ، منذ عشرین سنۃ، فما أدری، أنسی أم کرہ أن تَتَّكِلُوا؟ فقلنا: یا أبا سعید! فحدثنا، فضحك وقال: خلق الْإنسان عجولًا! ما ذکرتہ إلّا وأنا أرید أن أحدثكم، حدثنی كما حدثكم بہ، قال: ثم أعود الرابعۃ، فأحمدہ بتلك المحامد، ثم أخِرّ لہ ساجدًا، فیقال: یا محمد! إرفع رأسك، وقل یُسمع، وسل تعطہ، واشفع تُشفَّع، فأقول: یا رَبّ! ائذن لی فیمن قال: لَا إلٰہ إلّا اللہ، فیقول: وعزّتی وجلالی، وكبریائی وعظمتی، لأخرجنّ منھا من قال: لَا إلٰہ إلّا اللہ۔ وھٰكذا رواہ مسلم۔ وروی الحافظ أبو یعلٰی عن عثمان رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ: الأنبیاء، ثم العلماء، ثم الشھداء۔ وفی الصحیح من حدیث أبی سعید رضی اللہ عنہ مرفوعًا، قال: فیقول اللہ تعالٰی: شفعت الملائكۃ، وشفع النبیون، وشفع المؤمنون، ولم یبق إلّا أرحم الراحمین، فیبقض قبضۃ من النار، فیخرج منھا قومًا لم یعملوا خیرًا قط۔ الحدیث۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۸-۲۶۰)۔
- (۶) النوع الرابع: شفاعتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی رفع درجات من یدخل الجنّۃ فیھا فوق ما کان یقتضیہ ثواب أعمالھم۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۷، قولہ الشفاعۃ حق، طبع المکتبۃ السلفیۃ لَاھور پاکستان)۔
- (۷) النوع السادس: الشفاعۃ فی تخفیف العذاب عمن یستحقہ، کشفاعۃ فی عمّہ أبی طالب أن یخفف عنہ عذابہ، ثم قال القرطبی فی التذکرۃ: فإن قیل: فقد قال تعالٰی: ’’فما تنفعھم شفاعۃ الشافعین‘‘ قیل لہ: لَا تنفعہ فی الخروج من النار، كم تنفع عصاۃ الموحدین، الذین یخرجون منھا ویدخلون الجنۃ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۷)۔

