موتکےبعدکیاہوتاہے؟
رُوحکےنکلنےمیںانسانکوکتنیتکلیفہوتیہے؟
سوال:۔
موت ہر شخص کے لئے برحق ہے، لیکن رُوح نکلنے میں جو تکلیف ہوتی ہے وہ نیک انسان کو بھی ہوتی ہے اور بُرے انسان کو بھی، دونوں کے رُوح نکلنے میں کس طرح کی تکلیف ہوتی ہے؟
جواب:۔
مرنے والا اگر نیک آدمی ہو تو اس کی رُوح کو تکلیف نہیں ہوتی، بُرے آدمی کی رُوح کو تکلیف ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ موت کی سختیوں سے محفوظ رکھیں۔(۱)
- (۱) عن بریدۃ رضی اللہ عنہ قال: قـال رسـول اللہ صلی اللہ علـیہ وسلـم: المـؤمـن یموت بعرق الجبین۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۱۴۰، طبع کراچی)۔ أیضًا وروی عن سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إرقبوا للمیت عند موتہ ثلاثًا: إن رشح جبینہ، وذرفت عیناہ، وانتشر منخراہ فھی رحمۃ من اللہ نزلت بہ، وإن غط غطیط البکر المخنوق وخمد لونہ، وازبد شدقاہ، فھو عذاب من اللہ تعالٰی قد حل بہ۔ (التذکرۃ للقرطبی ص:۱۹ باب المؤمن یموت بعرق الجبین طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔ أیضًا: عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن نفس المؤمن تخرج رشحًا، وإن نفس الکافر تُسلّ كما تُسل نفس الحمار، وإن المؤمن لیعمل الخطیئۃ فیشدد علیہ عند الموت لیکفّر بھا عنہ ۔۔۔إلخ۔ (التذکرۃ للقرطبی ص:۱۹، باب منہ فی خروج نفس المؤمن والکافر، شرح الصدور ص:۲۸ باب من دنا أجلہ وکیفیۃ الموت وشدتہ)۔

