بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

موت‌کے‌بعد‌مُردے‌کے‌تأثرات

سوال:۔

موت کے بعد غسل، جنازے اور دفن ہونے تک انسانی رُوح پر کیا بیتتی ہے؟ اس کے کیا احساسات ہوتے ہیں؟ کیا وہ رشتہ داروں کو دیکھتا اور ان کی آہ و بکا کو سنتا ہے؟ جسم کو چھونے سے اسے تکلیف ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب:۔

موت کے بعد اِنسان ایک دُوسرے جہان میں پہنچ جاتا ہے، جس کو ’’برزخ‘‘ کہتے ہیں، وہاں کے پورے حالات کا اس جہان میں سمجھنا ممکن نہیں ہے، اس لئے نہ تو تمام کیفیات بتائی گئی ہیں، نہ ان کے معلوم کرنے کا اِنسان مکلف ہے۔ البتہ جتنا کچھ ہم سمجھ سکتے تھے، عبرت کے لئے اس کو بیان کردیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: ’’میّت پہچانتی ہے کہ کون اسے غسل دیتا ہے، کون اسے اُٹھاتا ہے، کون اسے کفن پہناتا ہے، اور کون اسے قبر میں اُتارتا ہے‘‘ (مسندِ احمد، معجمِ اوسط طبرانی)۔(۱)

ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’جب جنازہ اُٹھایا جاتا ہے تو اگر نیک ہو تو کہتا ہے کہ: مجھے جلدی لے چلو۔ اور نیک نہ ہو تو کہتا ہے کہ: ہائے بدقسمتی! تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۶)۔(۲)

ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’جب میّت کا جنازہ لے کر تین قدم چلتے ہیں تو وہ کہتا ہے: اے بھائیو! اے مری نعش اُٹھانے والو! دیکھو! دُنیا تمہیں دھوکا نہ دے، جس طرح اس نے مجھے دھوکا دیا، اور وہ تمہیں کھلونا نہ بنائے جس طرح اس نے مجھے کھلونا بنائے رکھا، میں جو کچھ پیچھے چھوڑے جارہا ہوں، وہ تو وارثوں کے کام آئے گا، مگر بدلہ دینے والا مالک قیامت کے دن اس کے بارے میں مجھ سے جرح کرے گا اور اس کا حساب کتاب مجھ سے لے گا۔ ہائے افسوس! کہ تم مجھے رُخصت کر رہے ہو اور تنہا چھوڑ کر آجاؤگے‘‘(ابنِ ابی الدنیا، فی القبور)۔(۳)

ایک اور حدیث میں ہے (جو بہ سندِ ضعیف ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے) کہ: ’’میّت اپنے غسل دینے والوں کو پہچانتی ہے، اور اپنے اُٹھانے والوں کو قسمیں دیتی ہے، اگر اسے رَوح و رَیحان اور جنتِ نعیم کی خوشخبری ملی ہو تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو۔ اور اگر اسے جہنم کی بدخبری ملی ہو تو کہتا ہے: خدا کے لئے مجھے نہ لے جاؤ‘‘ (ابو الحسن بن براء، کتاب الروضہ)۔(۴)

یہ تمام روایات حافظ سیوطیؒ کی ’’شرح الصدور‘‘ (ص: ۹۴ تا ۹۶) سے لی گئی ہیں۔

  1. (۱) أخرج أحمد والطبرانی فی الأوسط وابن أبی الدنیا والمروزی وابن مندہ عن ابی سعید الخدری أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن المیت یعرف من یغسلہ ویحملہ ویکفنہ ومن یدلیہ فی حفرتہ۔ (شرح الصدور ص:۹۴، باب معرفۃ المیت من یغسلہ طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت، أیضًا الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۷۱، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
  2. (۲) کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: اذا وضعت الجنازۃ واحتملھا الرّجال علٰی أعناقھم، فان کانت صالحۃ قالت: قدّمونی، وان کانت غیر صالحۃ قالت لأھلھا: یا ویلھا أین تذھبون بھا ۔۔۔الخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۶، باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدّمونی، أیضًا شرح الصدور ص:۹۶، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
  3. (۳) وأخرج ابن أبی الدنیا فی القبور، عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من میت یوضع علٰی سریرہ فیخطی بہ ثلاث إلّا تكلم بكلام یسمعہ من شاء اللہ إلّا الثقلین الْإنس والجن، یقول: یا أخوتاہ! ویا حملۃ نعشاہ! لَا تغرنكم الدنیا كما غرتنی، ولَا یلعبن بکم الزمان كما لعب بی، خلفت ما ترکت لورثتی، والدیان یوم القیامۃ یخاصمنی ویحاسبی، وأنتم تشیعونی وتدعونی۔ (شرح الصدور ص:۹۶، باب معرفۃ المیت من یغسلہ)۔
  4. (۴) وأخرج أبو الحسن بن البراء فی کتاب الروضۃ بسند ضعیف عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من میت یموت إلّا وھو یعرف غاسلہ، ویناشد حاملہ إن کان بُشِّر بروح وریحان وجنۃ نعیم أن یعجلہ، وإن کان بُشِّر بنزل من حمیم وتصلیۃ جحیم أن یحبسہ۔ (شرح الصدور ص:۹۴، باب معرفۃ المیت من یغسلہ)۔