موتکےبعدکیاہوتاہے؟
عذابِقبرکےاسباب
سوال:۔
جناب مولانا صاحب! مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں نے جب سے مؤرخہ ۲۳؍نومبر ۱۹۹۱ء کے اخبار جنگ میں یہ خبر پڑھی:
’’دو مرتبہ لحد کی زمین مل گئی، تیسری مرتبہ سانپ اور بچھو نکل آئے۔
دو سانپوں نے میّت سے لپٹ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا، راولپنڈی کے قریب ایک میّت کی عبرت انگیز تدفین۔
راولپنڈی (جنگ رپورٹ) چند روز قبل پیرودھائی راولپنڈی کے قدیم قبرستان میں رونما ہونے والے ایک عبرت انگیز اور ناقابلِ یقین واقعہ نے ایک میّت کی تدفین کے لئے آنے والے سیکڑوں افراد پر رقت طاری کردی۔ تفصیلات کے مطابق ایک شخص کی میّت کو جونہی قبر میں اُتارا گیا، لحد کی جگہ والی زمین یوں آپس میں مل گئی جیسے اسے کھودا ہی نہیں گیا تھا۔ وہاں موجود ایک عالم دین کی ہدایت پر دُوسری قبر کھودی گئی، مگر پھر ویسے ہی ہوا، اس پر تمام لوگوں نے استغفار کا وِرد شروع کردیا۔ مولوی صاحب کی ہدایت پر دوبارہ لحد کھودنے کی کوشش کی گئی تو اس جگہ سے سانپ، بچھو اور مختلف اقسام کے کیڑے مکوڑے یوں نکلے جیسے کسی چشمے سے پانی اُبلتا ہے۔ مولوی صاحب کی ہدایت پر میّت کو قبر میں اُتار دیا گیا، میّت کے قبر میں رکھتے ہی ایک سانپ کمر کے نیچے سے کندھوں کے اُوپر سے، اور دُوسرا سانپ پاؤں کے نیچے سے ہوتا ہوا اُوپر آیا اور دونوں سانپ آپس میں مل گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے میّت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی، جیسے اسے کسی آرے سے چیر دیا گیا ہو، یہ منظر دیکھتے ہی میّت کے ہمراہ آنے والے سیکڑوں لوگوں پر سکتہ طاری ہوگیا۔‘‘
میں عجیب کیفیت میں مبتلا ہوگیا ہوں، اور سوچتا رہتا ہوں کہ اس آدمی نے ایسے کون سے گناہ کئے ہوں گے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی سزا دی، حالانکہ آج کل کے معاشرہ میں گناہ عام ہوتے جارہے ہیں، لیکن آخر کیا وجہ تھی جو اس کو اللہ تعالیٰ نے ایسی سزا دی؟ بے شک اللہ کے بھید اللہ ہی جانتا ہے، لیکن اگر اس کے بارے میں کسی کتاب میں یا آپ کے علم میں ہو تو ضرور بتائیں۔
جواب:۔
عذابِ قبر کا سبب کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ہے، جو شخص کسی سنگین کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو اور توبہ کئے بغیر مرجائے، وہ قبر کے ہولناک عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ خصوصاً جو شخص کسی اعلانیہ گناہ کا بغیر کسی جھجک کے مرتکب ہو، اَحکامِ شرعیہ کی تحقیر کرے، یا کمزوروں کے حقوق پامال کرے، اس کے بارے میں زیادہ خدشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنی پناہ میں رکھیں! احادیث و روایات میں بہت سے اہلِ معاصی کا عذابِ قبر میں مبتلا ہونا مذکور ہے، ان سے چند واقعات نقل کرتا ہوں:
۱،۲:۔چغل خوری اور پیشاب سے پرہیز نہ کرنا:
بہت سی احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ان دونوں قبروں والوں کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے، اور کسی بڑی بات پر عذاب نہیں ہو رہا (کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا)، ایک تو چغلی کیا کرتا تھا، اور دُوسرا پیشاب سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔(۱)
اس مضمون کی احادیث متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہیں۔
۳:۔کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا:
متعدد احادیث میں یہ واقعہ منقول ہے کہ ایک جہاد میں ایک صاحب نے (جس کا نام محلم بن جثامہ تھا) کسی شخص کو باوجود اس کے کلمہ پڑھنے کے قتل کردیا۔ چند دن بعد قاتل کا انتقال ہوگیا، تو زمین نے اس کی لاش اُگل دی، متعدد بار دفن کیا گیا، لیکن زمین ہر بار اس کی لاش کو اُگل دیتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ: زمین تو اس سے برے لوگوں کو بھی چھپالیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ منظر تم کو اس لئے دکھایا تاکہ تم کو آپس کی حرام چیزوں (جان و مال اور عزت و آبرو) کو پامال کرنے کے بارے میں نصیحت و عبرت ہو (بیہقی، دلائل نبوّت ج:۶ ص:۳۰۹، مصنف عبدالرزاق ج:۱۱ ص:۱۷۳، ابن ماجہ ص:۲۸۱، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۲۹۴)۔(۲)
۴:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھوٹ بولنا:
متعدد احادیث میں آیا ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھوٹ بولا تھا، ان کی لاش کو بھی زمین نے قبول نہیں کیا، بلکہ باہر اُگل دیا (صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۱۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۷۰، بیہقی، دلائل نبوّت ج:۶ ص:۲۴۵)۔(۳)
۵:۔جھوٹی افواہیں پھیلانا:
صحیح بخاری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک طویل خواب مذکور ہے، (اور انبیائے کرام علیہم السلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے) جس میں برزخ کے بہت سے مناظر دکھائے گئے۔ اسی میں ہے کہ جھوٹی افواہیں پھیلانے والے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ زنبور سے اس کا ایک کلا گدی تک چیرا جاتا ہے، پھر دُوسرے کلے کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے، اتنے میں پہلا کلا ٹھیک ہوجاتا ہے، اس کو پھر چیرتے ہیں، قیامت تک اس کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا۔(۴)
۶:۔قرآن کریم سے غفلت:
قرآن کریم سے غفلت کرنے والے کے بارے میں دیکھا کہ وہ لیٹا ہوا ہے، ایک شخص بڑا بھاری پتھر لئے اس کے سر پر کھڑا ہے، وہ پتھر سے اس کے سر کو اتنے زور سے پھوڑتا ہے کہ وہ پتھر لڑھک کر دُور جاگرتا ہے، وہ شخص دوبارہ پتھر اُٹھاکر لاتا ہے، اتنے میں اس کا سر ٹھیک پہلے کی طرح ہوچکا ہوتا ہے، قیامت تک اس کے ساتھ یہی کیا جائے گا۔(۵)
۷:۔زنا:
زناکار مردوں اور عورتوں کو ایک غار میں دیکھا جو تنور کی طرح نیچے سے فراخ اور اُوپر سے تنگ ہے، اس میں آگ جل رہی ہے، جب آگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو وہ لوگ تنور کے منہ تک آجاتے ہیں، اور جب آگ نیچے بیٹھتی ہے تو وہ لوگ بھی نیچے چلے جاتے ہیں، قیامت تک ان کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا۔(۶)
۸:۔سود کھانا:
سود خور کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ خون کی نہر میں کھڑا ہے، اور ایک شخص نہر کے کنارے پر کھڑا ہے، جس کے سامنے بہت سے پتھر ہیں، جب وہ سود خور خونی نہر کے کنارے پر آنا چاہتا ہے تو کنارے پر کھڑا شخص ایک پتھر اُٹھاکر زور سے اس کے منہ پر مارتا ہے، اور وہ پھر اپنی پہلی جگہ چلا جاتا ہے، قیامت تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا رہے گا۔(۷)
امام بیہقی نے دلائل نبوّت (ج:۲ ص:۳۹۲) میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، جس میں چند مناظر کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں دکھائے گئے، (حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے نشر الطیب (ص:۵۰، مطبوعہ تاج کمپنی) میں بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے) وہ مناظر حسبِ ذیل ہیں:
۹:۔حلال چھوڑ کر حرام کھانے والے:
فرمایا: میں نے دیکھا کہ کچھ خوان رکھے ہیں، جن پر پاکیزہ گوشت رکھا ہے، مگر ان پر کوئی شخص نہیں اور دُوسرے خوانوں پر سڑا ہوا، بدبودار گوشت رکھا ہے، ان پر بہت سے آدمی بیٹھے کھارہے ہیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو حلال کو چھوڑتے ہیں اور حرام کو کھاتے ہیں۔(۸)
۱۰:۔سود کھانے والے:
آگے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ کوٹھریوں جیسے ہیں، جب ان میں سے کوئی شخص اُٹھنا چاہتا ہے تو فوراً گرپڑتا ہے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سود کھانے والے ہیں۔(۹)
۱۱:۔یتیموں کا مال کھانے والے:
آگے دیکھا کہ کچھ لوگ جن کے ہونٹ اُونٹوں کے سے ہیں، اور وہ آگ کے انگارے نگل رہے ہیں، جو ان کے اسفل سے (پاخانے کی جگہ سے) نکل رہے ہیں، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ظلماً کھاتے ہیں۔(۱۰)
۱۲:۔بدکار عورتیں:
آگے دیکھا کہ کچھ عورتیں پستانوں سے بندھی ہوئی لٹک رہی ہیں، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ: یہ زنا کرنے والی بدکار عورتیں ہیں۔(۱۱)
۱۳:۔چغل خور عیب چین:
آگے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پہلو سے گوشت کا ٹکڑا انہی کو کھلایا جاتا ہے، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ: یہ غیبت کرنے والے، چغل خور اور عیب چین لوگ ہیں۔(۱۲)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل نبوّت (ج:۲ ص:۳۹۸، ۳۹۹) میں واقعاتِ معراج ہی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، (جسے نشر الطیب میں واقعہ ششم کے ذیل میں نقل کیا ہے) اس میں مندرجہ ذیل مناظر کا ذکر ہے:
۱۴:۔نماز فرض سے روگردانی کرنے والے:
فرمایا کہ: پھر ایک قوم پر گزر ہوا، جن کے سر پتھر سے پھوڑے جاتے ہیں، اور جب وہ کچلے جاچکتے ہیں تو پہلی حالت پر ہوجاتے ہیں اور اس کا سلسلہ ذرا بند نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ: یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نماز سے روگردانی اور سستی کرتے ہیں۔(۱۳)
۱۵:۔زکوٰۃ نہ دینے والے:
فرمایا: پھر ایک ایسی قوم پر گزر ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے، اور وہ مویشیوں کی طرح چر رہے تھے، اور زقوم اور جہنم کے پتھر کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ: یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا، اور آپ کا ربّ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔(۱۴)
۱۶:۔غیرعورتوں سے آشنائی کرنے والے:
فرمایا: پھر ایک ایسی قوم پر گزر ہوا، جن کے سامنے ایک ہنڈیا میں پکا ہوا گوشت رکھا ہے، اور ایک ہنڈیا میں کچا سڑا ہوا گوشت رکھا ہے، وہ لوگ اس سڑے ہوئے گوشت کو کھا رہے ہیں، اور پکا ہوا گوشت نہیں کھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ: یہ آپ کی اُمت میں سے وہ مرد ہے جس کے پاس حلال طیب بیوی ہو اور پھر وہ ناپاک عورت کے پاس جائے، اسی میں وہ عورت ہے جو اپنے حلال طیب شوہر کے پاس سے اُٹھ کر کسی ناپاک مرد کے پاس جائے اور رات کو اس کے پاس رہے، یہاں تک کہ صبح ہوجائے۔(۱۵)
۱۷:۔لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنے والا:
فرمایا: پھر ایک شخص پر گزر ہوا، جس نے ایک بڑا گٹھا لکڑیوں کا جمع کر رکھا ہے، وہ اس کو اُٹھا نہیں سکتا، اور وہ اس میں اور لالاکر لادتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ: یہ کون شخص ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ: یہ آپ کی اُمت کا وہ شخص ہے جس کے ذمہ لوگوں کے بہت سے حقوق اور امانتیں ہیں، جن کے ادا کرنے پر وہ قادر نہیں اور وہ اور زیادہ لادتا چلا جاتا ہے۔(۱۶)
۱۸:۔فتنہ انگیز خطیب اور واعظ:
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کی زبانیں اور ہونٹ آہنی مقراضوں سے کاٹے جارہے ہیں، اور جب کٹ چکتے ہیں تو پھر سابقہ حالت پر ہوجاتے ہیں، اور یہ سلسلہ بند نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ: یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ: یہ گمراہی میں ڈالنے والے فتنہ انگیز خطیب اور واعظ ہیں۔(۱۷)
۱۹:۔بڑی بات کہہ کر نادم ہونے والا:
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک چھوٹے پتھر پر ہوا جس میں سے ایک بڑا بیل نکلتا ہے، پھر وہ بیل دوبارہ اندر جانا چاہتا ہے مگر نہیں جاسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ: یہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ: یہ اس شخص کا حال ہے جو ایک بڑی بات منہ سے نکالے، پھر نادم ہوکر اس کو واپس لینا چاہے، مگر اس کے واپس لینے پر قادر نہیں۔(۱۸)
۲۰:۔ملاوٹ کرنے والا:(۱۹)
حافظ ابن قیمؒ نے کتاب الروح میں اور حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے شرحِ صدور میں حافظ ابن ابی الدنیاؒ کی کتاب القبور سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ: عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت بیٹھا تھا، اتنے میں کچھ لوگ آئے اور ذکر کیا کہ: ہم لوگ حج کے لئے آئے تھے، ہمارے ایک رفیق کا انتقال ہوگیا، ہم نے اس کے لئے قبر کھودی اور لحد بنائی، جب لحد سے فارغ ہوئے تو دیکھتے کیا ہیں کہ اس میں ایک کالا ناگ بیٹھا ہے، وہ اتنا بڑا تھا کہ اس نے پوری لحد بھر رکھی تھی۔ ہم نے دُوسری جگہ قبر کھودی تو وہاں بھی وہی کالا ناگ موجود تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ: یہ کالا ناگ اس کے گلے کا طوق ہے، جو اس کو پہنایا جائے گا، جاؤ! جو قبریں تم نے کھود رکھی ہیں، انہی میں سے کسی میں دفن کردو، پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم اس قبر کے لئے ساری زمین بھی کھود ڈالو تو یہ کالاناگ تمہیں ہر جگہ موجود ملے گا۔ چنانچہ ہم واپس گئے اور مردے کو انہی گڑھوں میں سے ایک میں دفن کردیا۔ جب ہم حج سے واپس لوٹے تو ہم نے اس کا سامان اس کے گھر پہنچایا اور اس کا قصہ سنایا، اور اس کی بیوی سے پوچھا کہ: یہ شخص کیا عمل کرتا تھا؟ اس نے بتایا کہ: غلّہ فروخت کرتا تھا، روزانہ گھر کی ضرورت کا غلّہ نکال لیتا اور اتنی مقدار چھٹائی کا بھوسہ خرید کر اس میں ملادیا کرتا تھا (کتاب الروح ص:۹۸، شرح صدور ص:۱۷۴)۔
۲۱:۔ماں کی گستاخی کرنے والا:
حافظ سیوطیؒ نے شرح صدور میں، اصبہانی کی ترغیب و ترہیب کے حوالے سے عوام بن حوشب سے نقل کیا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک قبیلے میں گیا، اس کے قریب ایک قبرستان ہے، عصر کے بعد کا وقت ہوا تو ایک قبر پھٹی اور اس میں سے ایک شخص نکلا، جس کا سر گدھے کے سر جیسا تھا اور باقی بدن انسان جیسا تھا، اس نے تین مرتبہ گدھے کی سی آواز نکالی، پھر قبر بند ہوگئی۔ میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ یہ شخص شراب نوشی کیا کرتا تھا، جب شام ہوتی تو اس کی والدہ اس کو کہا کرتی کہ: بیٹا! اللہ سے ڈرو! اس کے جواب میں یہ کہتا کہ: تو گدھے کی طرح ہینکتی ہے! یہ شخص عصر کے بعد مرا، اسی دن سے آج تک روزانہ عصر کے بعد اس کی قبر پھٹتی ہے اور وہ گدھے کی طرح تین مرتبہ ہینکتا ہے، اس کے بعد اس کی قبر بند ہوجاتی ہے۔(۲۰)
۲۲:۔بغیر طہارت کے نماز پڑھنے اور مظلوم کی مدد نہ کرنے والا:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک بندے کو قبر میں سو کوڑے لگانے کا حکم ہوا، وہ اللہ تعالیٰ سے سوال و دعا کرتا رہا، بالآخر تخفیف ہوتے ہوتے ایک کوڑا رہ گیا،اس کے کوڑا لگا تو پوری قبر آگ سے بھرگئی، جب یہ عذاب ختم ہوا اور اسے ہوش آیا تو اس نے فرشتوں سے پوچھا کہ: تم لوگوں نے کس گناہ پر مجھے کوڑا لگایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: تو نے ایک دن نماز بغیر وضو کے پڑھی تھی، اور تو ایک مظلوم کے پاس سے گزرا تھا، مگر تو نے اس کی مدد نہیں کی تھی (مشکل الآثار ج:۴ ص:۱۳۱)۔(۲۱)
۲۳:۔صحابہ کرامؓ کو برا کہنے والا:
ابن ابی الدنیاؒ نے کتاب القبور میں ابواسحاق سے نقل کیا ہے کہ: مجھے ایک میّت کو غسل دینے کے لئے بلایا گیا، میں نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ ایک بڑا بھاری سانپ اس کی گردن میں لپٹا ہوا ہے، میں واپس آگیا، اس کو غسل نہیں دیا، پس لوگوں نے ذکر کیا کہ یہ شخص صحابہؓ کو برا کہا کرتا تھا (کتاب الروح ص:۹۸، شرح صدور ص:۱۷۳)۔(۲۲)
اس قسم کے اور بہت سے واقعات کتاب الروح اور شرحِ صدور میں نقل کئے ہیں۔ حافظ ابن قیمؒ نے کتاب الروح میں ان اسباب کو تفصیل سے لکھا ہے، جو عذابِ قبر کا سبب ہیں، یہاں ان کی عبارت کا ترجمہ نقل کرتا ہوں۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’نواں مسئلہ:۔ سائل کا یہ سوال کہ وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے قبر والوں کو عذاب ہوتا ہے؟
اس کا جواب دو طرح پر ہے: ایک مجمل اور ایک مفصل۔
مجمل جواب: تو یہ ہے کہ اہل قبور کو عذاب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے جہل پر، اس کے حکم کو ضائع کرنے پر اور اس کی نافرمانیوں کے ارتکاب پر۔ پس اللہ تعالیٰ ایسی رُوح کو عذاب نہیں دیتے جس کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو، اور جو اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتی ہو، اس کے حکم کی تعمیل کرتی ہو، اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرتی ہو، اور نہ ایسے بدن کو عذاب دیتے ہیں، جس میں ایسی پاکیزہ رُوح ہو، کیونکہ قبر کا عذاب اور آخرت کا عذاب بندے پر اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضی کا اثر ہے۔ پس جس شخص نے اس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کو غضب ناک اور ناراض کیا، پھر توبہ کئے بغیر مرگیا تو جس قدر اس نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا تھا، اسی کے بقدر اس کو برزخ میں عذاب ہوگا۔ پس کوئی کم لینے والا ہے اور کوئی زیادہ لینے والا، کوئی تصدیق کرنے والا ہے، اور کوئی تکذیب کرنے والا۔
رہا مفصل جواب! تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو شخصوں کے بارے میں بتایا جن کو قبر میں عذاب ہو رہا تھا کہ ایک چغل خوری کرکے لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا تھا، اور دُوسرا پیشاب سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔ پس مؤخر الذکر نے طہارتِ واجبہ کو ترک کیا، اور اول الذکر نے اپنی زبان سے ایسے سبب کا ارتکاب کیا جو لوگوں کے درمیان فتنہ اور شرانگیزی کا باعث ہو، اگرچہ وہ سچی بات ہی نقل کرتا تھا۔ اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو شخص جھوٹ طوفان اور بہتان تراشی کے ذریعہ لوگوں کے درمیان فتنہ ڈالنے کا سبب بنے، اس کا عذاب چغل خور سے بھی بڑھ کر ہے، جیسا کہ پیشاب سے پرہیز نہ کرنے میں اس پر تنبیہ ہے کہ جو شخص نماز کا تارک ہو، کہ پیشاب سے صفائی حاصل کرنا جس کے واجبات و شروط میں سے ہے، اس کا وبال اس سے بھی بڑا ہوگا۔
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس شخص کا قصہ گزر چکا ہے کہ جس کی قبر پر ایک کوڑا مارا تو وہ آگ سے بھرگئی، کیونکہ اس نے ایک نماز بغیر طہارت کے پڑھی تھی، اور وہ مظلوم کے پاس سے گزرا تھا مگر اس کی مدد نہیں کی تھی۔
اور صحیح بخاری میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی گزرچکی ہے، جس میں جھوٹی افواہیں پھیلانے والے کے عذاب کا ذکر ہے۔ نیز اس شخص کے عذاب کا جو قرآن پڑھ کر رات کو سو رہتا ہے اور دن کو اس پر عمل نہیں کرتا۔ نیز بدکار مردوں اور عورتوں کا عذاب اور سود کھانے والے کا عذاب جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے برزخ میں مشاہدہ فرمایا۔
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی گزر چکی ہے، جس میں بڑے پتھر کے ساتھ ان لوگوں کے سر پھوڑنے کا ذکر ہے جو نماز میں سستی کیا کرتے تھے، اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کا ذکر ہے کہ وہ جہنم کے زقوم اور پتھروں کو چر رہے تھے، اور جو زناکاری کی وجہ سے سڑا ہوا بدبودار گوشت کھارہے تھے، اور فتنہ پرور گمراہ کرنے والے خطیبوں اور واعظوں کا ذکر ہے جن کے ہونٹ آہنی مقراضوں سے کاٹے جارہے تھے۔
اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی گزرچکی ہے جن میں چند اہل جرائم کے عذاب کا ذکر ہے، بعض کے پیٹ کوٹھریوں جیسے تھے، اور آلِ فرعون (جہنمیوں) کے قافلے ان کو روند رہے تھے، یہ سود کھانے والے ہیں۔ بعض کے منہ کھول کر ان میں آگ کے اَنگارے ٹھونسے جارہے تھے جو ان کے اسفل سے نکل جاتے تھے، یہ یتیموں کا مال کھانے والے ہیں۔ بعض عورتیں پستانوں سے بندھی ہوئی لٹک رہی تھیں، یہ بدکار عورتیں ہیں۔ بعض کے پہلوؤں سے گوشت کاٹ کر انہی کو کھلایا جارہا تھا، یہ غیبت اور عیب چینی کرنے والے ہیں۔ بعض کے تانبے کے ناخن ہیں، جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی عزت و آبرو سے کھیلتے ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ جس غلام نے خیبر کے مالِ غنیمت سے ایک چادرہ چرالیا تھا، وہ چادرہ اس کی قبر میں بھڑکتی ہوئی آگ بن گیا، باوجودیکہ مالِ غنیمت میں خود اس کا بھی حق تھا۔ اب غور کیجئے! کہ جو شخص دُوسرے کا مال ناحق ہڑپ کرجائے، جس میں اس کا کوئی حق نہیں، اس کا کیا حال ہوگا۔۔۔؟
خلاصہ:۔ یہ کہ قبر کا عذاب دل، آنکھ، کان، منہ، زبان، پیٹ، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں اور پورے بدن کے گناہوں پر ہے، پس جن لوگوں کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے، وہ یہ ہیں:
۱:۔چغل خور۔ ۲:۔جھوٹ بولنے والا۔ ۳:۔غیبت کرنے والا۔ ۴:۔جھوٹی گواہی دینے والا۔ ۵:۔کسی پاک دامن پر تہمت لگانے والا۔ ۶:۔لوگوں کے درمیان فتنہ و فساد ڈالنے والا۔ ۷:۔لوگوں کو بدعت کی طرف بلانے والا۔ ۸:۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ایسی بات کہنے والا جس کا اس کو علم نہیں۔ ۹:۔اپنی گفتگو میں گپ تراشی کرنے والا۔ ۱۰:۔سود کھانے والا۔ ۱۱:۔یتیموں کا مال کھانے والا۔ ۱۲:۔رشوت، بھتہ وغیرہ کے ذریعہ حرام کھانے والا۔ ۱۳:۔مسلمان بھائی کا مال ناحق کھانے والا۔ ۱۴:۔اسلامی مملکت کے غیرمسلم شہری کا مال ناحق کھانے والا۔ ۱۵:۔نشہ پینے والا۔ ۱۶:۔ملعون درخت کا لقمہ کھانے والا۔ ۱۷:۔زانی۔ ۱۸:۔لوطی۔ ۱۹:۔چور۔ ۲۰:۔خیانت کرنے والا۔ ۲۱:۔عہد شکنی کرنے والا۔ ۲۲:۔دھوکادہی کرنے والا۔ ۲۳:۔جعل سازی اور مکر و فریب کرنے والا۔ ۲۴:۔سود لینے والا۔ ۲۵:۔سود دینے والا۔ ۲۶:۔سود کی تحریر لکھنے والا۔ ۲۷:۔سود کی گواہی دینے والا۔ ۲۸:۔حلالہ کرنے والا۔ ۲۹:۔حلالہ کرانے والا۔ ۳۰:۔اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ساقط کرنے اور حرام چیزوں کا ارتکاب کرنے کے لئے حیلے کرنے والا۔ ۳۱:۔مسلمانوں کو ایذا پہنچانے والا۔ ۳۲:۔ان کے عیوب کی ٹوہ لگانے والا۔ ۳۳:۔حکمِ الٰہی کے خلاف فیصلے کرنے والا۔ ۳۴:۔شریعت کے خلاف فتوے دینے والا۔ ۳۵:۔گناہ اور ظلم کے کام میں دُوسرے کی مدد کرنے والا۔ ۳۶:۔کسی کو ناحق قتل کرنے والا۔ ۳۷:۔اللہ کے حرم میں الحاد اور کج روی اختیار کرنے والا۔ ۳۸:۔اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے حقائق کو بدلنے والا۔ ۳۹:۔اسمائے الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والا۔ ۴۰:۔اپنی رائے کو، اپنے ذوق کو اور اپنی سیاست کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر مقدم کرنے والا۔ ۴۱:۔نوحہ کرنے والی عورت۔ ۴۲:۔نوحہ کو سننے والا۔ ۴۳:۔جہنم میں نوحہ کرنے والے، یعنی راگ گانے والے، سننے والے جس کو اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ ۴۴:۔راگ سننے والے۔ ۴۵:۔قبروں پر عمارتیں بنانے والے اور ان پر قندیلیں اور چراغ روشن کرنے والے۔ ۴۶:۔ناپ تول میں کمی کرنے والے کہ جب لوگوں سے اپنا حق لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب لوگوں کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ ۴۷:۔جبار اور سرکش لوگ۔ ۴۸:۔متکبر لوگ۔ ۴۹:۔ریاکار لوگ۔ ۵۰:۔لوگوں کی عیب چینی کرنے والے۔ ۵۱:۔ناحق کا جھگڑا اور کٹ حجتی کرنے والے۔ ۵۲:۔سلف صالحین (صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ دینؒ) پر طعن کرنے والے۔ ۵۳:۔جو لوگ کاہنوں، نجومیوں اور قیافہ شناسوں کے پاس جاتے ہیں، ان سے سوال کرتے ہیں، اور جو کچھ یہ لوگ بتائیں اس کو سچ جانتے ہیں۔ ۵۴:۔ظالموں کے مددگار، جنہوں نے اپنی آخرت کو دوسروں کی دُنیا کے عوض بیچ دیا۔ ۵۵:۔وہ شخص کہ جب تم اس کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاؤ اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر نصیحت کرو، تو باز نہ آئے، اور جب اس کے جیسی مخلوق سے ڈراؤ اور بندوں کا خوف دلاؤ تو باز آجائے۔ ۵۶:۔وہ شخص کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے حوالے سے ہدایت کی جائے، تو ہدایت پر نہ آئے اور اس کی طرف سر اُٹھاکر بھی نہ دیکھے، اور جب اس کو کسی ایسے شخص کی بات پہنچے جس کے ساتھ وہ حسنِ ظن رکھتا ہے (حالانکہ وہ صحیح بات بھی کہہ سکتا ہے اور غلط بھی) تو اس کی بات کو خوب مضبوطی سے پکڑ لے اور اس کی مخالفت نہ کرے۔ ۵۷:۔وہ شخص کہ جب اس کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو اس سے متأثر نہ ہو، بلکہ بسااوقات اس سے گرانی محسوس کرے، اور جب وہ شیطان کا قرآن (یعنی گانا اور قوالی) سنے، جو زنا کا منتر اور نفاق کا مادّہ ہے، تو اس کا جی خوش ہوجائے اور اس پر اس کو وجد آنے لگے، اور اس کے دل سے خوشی کے مظاہر پھوٹنے لگیں، اور اس کا جی چاہے کہ گانے والا بس گاتا ہی جائے، خاموش نہ ہو۔ ۵۸:۔اور ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر توڑ ڈالے (اور توڑنے کی پروا نہ کرے)، لیکن یہی شخص اگر کسی بہادر کی قسم کھالے، یا اپنے شیخ سے بری ہونے کی قسم کھالے، یا اپنے کسی عزیز و قریب کی قسم کھالے، یا جواںمردی کی قسم کھالے، یا کسی ایسے شخص کی زندگی کی قسم کھائے جس سے وہ محبت رکھتا ہے اور اس کی تعظیم کرتا ہے، تو قسم کھانے کے بعد اس کو توڑنے کے لئے کسی طرح بھی آمادہ نہ ہو، خواہ اس کو کتنا ہی ڈرایا دھمکایا جائے۔ ۵۹:۔کھلے بندوں گناہ کرنے والا، جو اپنے گناہ پر فخر کرے اور اپنے ہم جولیوں کے مقابلے میں کثرت سے اس گناہ کو کرے۔ ۶۰:۔ایسا شخص جس کو تم اپنے مال اور اہل و عیال پر امین نہ بناسکو۔ ۶۱:۔ایسا بدخلق اور بدزبان آدمی کہ لوگ اس کی بدزبانی اور شر سے ڈرتے ہوئے اس کو منہ نہ لگائیں۔ ۶۲:۔جو شخص کہ نماز کو آخری وقت تک مؤخر کردے، اور جب نماز پڑھے تو چار ٹھونگے لگالے اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے، مگر بہت کم۔ ۶۳:۔جو شخص کہ خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ ادا نہ کرے۔ ۶۴:۔حج کی وسعت کے باوجود حج نہ کرے۔ ۶۵:۔قدرت کے باوجود اپنے ذمہ کے حقوق ادا نہ کرے۔ ۶۶:۔جو شخص دیکھنے میں، بولنے میں، کھانے پینے میں، چلنے پھرنے میں احتیاط اور پرہیزگاری سے کام نہ لے۔ ۶۷:۔جو شخص مال کے حاصل کرنے میں اس کی پروا نہ کرے کہ حلال سے آیا ہے یا حرام سے؟ ۶۸:۔جو شخص صلہ رحمی نہ کرے، نہ مسکین پر رحم کرے، نہ بیوہ پر، نہ یتیم پر، نہ جانوروں اور چوپاؤں پر، بلکہ یتیم کو دھکے دے، مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دے، لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے اور برتنے کی چیزوں سے بھی لوگوں کو منع کرے۔ ۶۹:۔اور جو شخص کہ اپنے عیب کے بجائے لوگوں کے عیوب میں، اور اپنے گناہ کے بجائے لوگوں کے گناہوں میں مشغول ہو۔ پس ان تمام لوگوں کو اور ان جیسے دُوسرے لوگوں کو ان جرائم پر قبر میں عذاب ہوتا ہے، ان جرائم کی قلت و کثرت اور صغیرہ و کبیرہ ہونے کے مطابق چونکہ اکثر لوگ ان جرائم کے مرتکب ہیں، اس لئے اہل قبور کی اکثریت عذابِ قبر میں مبتلا ہے، اور عذابِ قبر سے نجات پانے والے بہت کم لوگ ہیں۔ پس قبریں باہر سے مٹی نظر آتی ہیں، لیکن ان کے اندر حسرتیں ہیں اور عذاب ہے۔ باہر مٹی اور منقش پتھروں سے بنی ہوتی ہیں، لیکن ان کے اندر مصائب کے پہاڑ اور سانپوں اور بچھوؤں کی بھرمار ہے، وہ حسرتوں میں ایسی اُبل رہی ہیں، جیسے ہنڈیا اُبلتی ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ اہل قبور کے درمیان اور ان کی خواہشوں اور آرزوؤں کے درمیان دیوار حائل ہوگئی ہے، اللہ کی قسم! قبریں ایسا وعظ کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے کسی واعظ کے لئے بولنے کی گنجائش نہیں چھوڑی، اور وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ:
’’اے دُنیا کے آباد کرنے والو! تم ایسے گھر کو آباد کر رہے ہو جو بہت جلد زوال پذیر ہے، اور تم اس گھر کو ویران کر رہے ہو جس میں تم بڑی تیزی سے منتقل ہو رہے ہو، تم نے ان گھروں کو آباد کیا جن کے منافع اور سکونت دوسروں کے لئے ہے، اور تم نے ان گھروں کو ویران کیا کہ تمہاری رہائش ان کے سوا اور کہیں نہیں، یہ گھر دوڑ میں ایک دُوسرے سے آگے نکلنے کا ہے، یہاں اعمال امانت رکھے جاتے ہیں، یہ کھیتی کا بیج ہے، یہ عبرتوں کا محل ہے، ’’جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے، یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا!‘‘ (یہ آخری فقرہ حدیثِ پاک کا ایک جملہ ہے)۔‘‘(۲۳)
ابن قیم رحمہ اللہ کی عبارت کا ترجمہ ختم ہوا۔
عذابِ قبر کے سلسلے میں چند ضروری گزارشات:
۱:۔ اللہ کی پناہ! قبر کے عذاب کا منظر بڑا ہی ہولناک اور خوفناک ہے! بندے کو چاہئے کہ اپنی قبر سے غافل نہ ہو، اور کوئی ایسا کام نہ کرے جو عذابِ قبر کا موجب ہو۔ حدیث میں ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کسی قبر پر جاتے تو اتنا روتے کہ ریش مبارک تر ہوجاتی، عرض کیا گیا کہ: آپ جنت و دوزخ کے تذکرے سے اتنا نہیں روتے جتنا اس سے روتے ہیں؟ فرمایا کہ: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد خود سنا ہے کہ:
’’إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِّنْ مَّنَازِلِ الْآخِرَۃِ! فَإِنْ نَجٰی مِنْہُ، فَمَا بَعْدَہٗ أَیْسَرٌ مِّنْہُ، وَإِنْ لَّمْ یُنْجَ مِنْہُ فَمَا بَعْدَہٗ أَشَدُّ مِنْہُ! قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَیْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْہُ! رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۶)
ترجمہ:۔’’قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے! پس اگر اس سے نجات مل گئی تو بعد کی منزلیں اِن شاء اللہ! اس سے زیادہ آسان ہوں گی، اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو بعد کی منزلیں اس سے بھی مشکل ہوں گی! اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نے کوئی منظر قبر سے زیادہ ہولناک نہیں دیکھا!‘‘
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
’’إِنَّ يَهُوْدِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللّٰهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ! فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَقَالَ: نَعَمْ! عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۵)
ترجمہ:۔’’ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذابِ قبر سے پناہ میں رکھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: میں نے اس یہودی عورت کا قصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو فرمایا کہ: ہاں! عذابِ قبر برحق ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: میں نے نہیں دیکھا کہ اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی نماز پڑھی ہو جس میں عذابِ قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔‘‘
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ:
’’وَيْلٌ لِأَهْلِ الْمَعَاصِيْ مِنْ أَهْلِ الْقُبُوْرِ! تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ فِيْ قُبُوْرِهِمْ حَيَّاتٌ سُوْدٌ، أَوْ دُهْمٌ، حَيَّةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَحَيَّةٌ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، تَقْرُصَانِهِ حَتَّى يَلْتَقِيَا فِيْ وَسْطِهِ، فَذٰلِكَ الْعَذَابُ فِي الْبَرْزَخِ الَّذِيْ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﵟوَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ﵞ۔‘‘(تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۴۹۳)
ترجمہ:۔’’ہلاکت ہے اہل قبور میں سے اہل معاصی کو! کالے سانپ ان کی قبروں میں داخل ہوتے ہیں، ایک سانپ سر کی جانب سے اور دُوسرا سانپ پاؤں کی جانب سے، دونوں طرف سے مردے کو کاٹتے ہیں، یہاں تک کہ درمیان میں آکر مل جاتے ہیں (اور مردے کے دو ٹکڑے کردیتے ہیں)، پس یہ ہے برزخ کا وہ عذاب جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور ان کے ورے ایک آڑ ہے اس دن تک کہ لوگ اُٹھائے جائیں گے۔‘‘
۲:۔عذابِ قبر کا تعلق چونکہ دُوسرے جہان سے ہے، جس کو برزخ کہا جاتا ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اہل دُنیا سے پردۂ غیب میں رکھا ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’إِنَّ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِھَا، فَلَوْ لَا اَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللہَ اَنْ یُّسْمِعَکُمْ مِّنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِیْ اَسْمَعُ مِنْہُ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۸۶)
ترجمہ:۔’’اہل قبور کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دوگے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی عذابِ قبر سنادے جو میں سنتا ہوں۔‘‘
لیکن اللہ تعالیٰ، بندوں کی عبرت کے لئے کبھی کبھی عذابِ قبر کا مشاہدہ بھی کرادیتے ہیں (جیسا کہ چند واقعات اُوپر گزر چکے ہیں)، واقعہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کے واقعات جمع کئے جائیں تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔
۳:۔ عذابِ قبر سے بچنے کے لئے چند اُمور کا اہتمام ضروری ہے:
اوّل:۔یہ کہ ان تمام اُمور سے اجنتاب کیا جائے جو عذابِ قبر کا سبب ہیں، اور جن کا خلاصہ اُوپر ابن قیم رحمہ اللہ کے کلام میں گزر چکا ہے، حاصل یہ کہ تمام گناہوں سے بچنے کی کوشش کی جائے۔
دوم:۔یہ کہ جو کوتاہیاں اور لغزشیں اب تک ہوچکی ہیں، صدقِ دل سے ان سے توبہ کی جائے، اور جو حقوق اپنے ذمہ ہوں ان کو اہتمام سے ادا کیا جائے، اگر کسی کو ایذا پہنچائی ہو تو اس سے معافی تلافی کرائی جائے، غرضیکہ آدمی ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہے کہ جب وہ دُنیا سے رُخصت ہو تو حقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے کوئی حق اس کے ذمہ نہ ہو۔
سوم:۔یہ کہ عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کا اہتمام کیا جائے، اُوپر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث گزرچکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کا اہتمام و التزام فرماتے تھے۔
’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللّٰهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۸۷)
ترجمہ:۔’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: جب تم میں سے کوئی شخص آخری التحیات سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے شر سے۔‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کو یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے، فرماتے تھے کہ: یہ دعا کیا کرو:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ رواہ مسلم‘‘(مشکوٰۃ ص:۸۷)
ترجمہ:۔’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور آپ کی پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور آپ کی پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور زندگی اور موت کے فتنہ سے۔‘‘
چہارم:۔سونے سے پہلے سورۂ تبارک الذی (الملک) پڑھنے کا اہتمام کیا جائے، حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’یہ عذابِ قبر سے بچاتی ہے۔‘‘ ایک اور حدیث میں ہے:
’’عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الـٓمٓ تَنْزِيْلُ، وَﵟ تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ ﵞ۔رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیْ وَالدَّارِمِیُّ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۱۸۸)
ترجمہ:۔’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ سونے سے پہلے الٓمٓ تنزیل اورﵟ تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ ﵞپڑھا کرتے تھے۔‘‘
(۱) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: مرّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقبرین فقال: إنھما لیعذبان وما یعذبان فی كبیر، أما أحدھما فکان لَا یستتر من البول، وفی روایۃ لمسلم: لَا یستنزہ من البول، وأما الآخر فکان یمشی بالنمیمۃ ۔۔۔ متفق علیہ۔ (مشكٰوۃ ص:۴۲ کتاب الطھارۃ، باب آداب الخلاء)۔
(۲) عن عمران بن حصین ۔۔۔ قال ۔۔۔ إن شئتم حدثتكم حدیثًا سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قالوا: وأنت سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ قال: نعم! شھدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقد بعث جیشًا من المسلمین إلی المشرکین فلما لقوھم قاتلوھم قتالًا شدیدًا فمنحوھم اکتافھم فحمل رجل من لحمتی علٰی رجل من المشرکین بالرمح فلما غشیہ، قال: أشھد أن لَا إلٰہ إلّا اللہ انی مسلم، فطعنہ فقتلہ، فأتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ! ھلکت، قال: وما الذی صنعت؟ مرۃ أو مرتین، فأخبرہ بالذی صنع، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فھلا شققت عن بطنہ؟ فعلمت ما فی قلبہ! قال: یا رسول اللہ! لو شققت قلبہ لكنت أعلم ما فی قلبہ، قال: فلا أنت قبلت ما تكلم بہ ولَا أنت تعلم ما فی قلبہ، قال: فسکت عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلم یلبث إلّا یسیرًا حتی مات فدفناہ فأصبح علٰی ظھر الأرض، فقالوا: لعل عدوا نبشہ، فدفناہ ثم أمرنا غلماننا یحرسونہ فأصبح علٰی ظھر الأرض، فقلنا لعل الغلمان نعسوا، فدفناہ ثم حرسناہ بأنفسنا فأصبح علٰی ظھر الأرض، فألقیناہ فی بعض تلك الشعاب۔ (وفی روایۃ) ۔۔۔ فأخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم وقال: إن الأرض لتقبل من ھو أشر منہ ولٰـكن اللہ أحب أن یریكم تعظیم حرمۃ لَا إلٰہ إلّا اللہ۔ (ابن ماجۃ ص:۲۸ واللفظ لہٗ، بیھقی ج:۶ ص:۳۰۹، مصنَّف عبدالرزاق ج:۱۱ ص:۱۷۳، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۲۹۴)۔
(۳) عن أنس قال: کان رجل نصرانی فأسلم وقرأ البقرۃ وآل عمران فکان یکتب لنبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعاد نصرانیًا فکان یقول: ما یدری محمد إلّا ما کتبت لہ، فأماتہ اللہ فدفنوہ فأصبح ولقد لفظتہ الأرض فقالوا: ھٰذا فعل محمد وأصحابہ لما ھرب منھم نبشوا عن صاحبنا فألقوہ فحفروا لہٗ فأعمقوا لہٗ فی الأرض ما استطاعوا فأصبح وقد لفظتہ الأرض، فقالوا: ھٰذا فعل محمد وأصحابہ نبشوا عن صاحبنا، فألقوہ فحفروا لہٗ فأعمقوا لہٗ فی الأرض ما استطاعوا فأصبح قد لفظہ الأرض فعلموا أنہ لیس من الناس فألقوہ۔ (بخاری ج:۱ ص:۵۱۱ واللفظ لہٗ، باب علامات النبوۃ فی الْإسلام، أیضًا مسلم ج:۲ ص:۳۷۰، دلَائل النبوۃ ج:۶ ص:۲۴۵)۔
(۴) عن سمرۃ بن جندب قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا صلّٰی صلاۃ أقبل علینا بوجھہ فقال: من رأی منكم اللیلۃ رُؤیا؟ قال: فإن رأی أحد قصھا، فیقول: ما شاء اللہ! فسألنا یومًا فقال: ھل رأی منكم أحد رُؤیا؟ قلنا: لَا! قال: لٰـكنی رأیتی اللیلۃ رجلین أتیانی، فأخذ بیدیَّ، فأخرجانی إلٰی أرض مقدسۃ، فإذا رجل جالس ورجل قائم بیدہ کلُّوب من حدید یدخلہ فی شدقہ حتّٰی یبلغ قفاہ ثم یفعل بشدقہ الآخر مثل ذٰلك ویلتئم شدقہ ھٰذا فیعود فیصنع مثلہ، فقلت: ما ھٰذا؟ قالَا: إنطلق! فانطلقنا حتّٰی أتینا علٰی رجل مضطجع علٰی قفاہ ورجل قائم علٰی رأسہ بفھر أو صخرۃٍ فیشدخ بھا رأسہ فإذا ضربہ تدھدہ الحجر فانطلق إلیہ لیأخذہ، فلا یرجع إلٰی ھٰذا حتّٰی یلتئم رأسہ وعاد رأسہ كما ھو، فعاد إلیہ فضربہ، قلتُ: من ھٰذا؟ قالَا: إنطلق! فانطلقنا إلٰی نقب مثل التنور أعلاہ ضیق وأسفلہ واسع تستوقد تحتہ نار، فإذا اقترب ارتفعوا حتّٰی کادوا یخرجون، فإذا خمدت رجعوا فیھا، وفیھا رجال ونساء عراۃ، فقلت: ما ھٰذا؟ قالَا: إنطلق! فانطلقنا حتّٰی أتینا علٰی نھر من دم فیہ رجل قائم، وعلٰی شط النھر رجل بین یدیہ حجارۃ، فأقبل الرجل الذی فی النھر، فإذا أراد أن یخرج رمی الرجل بحجر فی فیہ فردہ حیث کان، فجعل کلما جاء لیخرج رمٰی فی فیہ بحجر فیرجع كما کان، فقلت: ما ھٰذا؟ قالَا: إنطلق! فانطلقنا حتّٰی أتینا إلٰی روضۃ ۔۔۔ قلت: طوّفتمانی اللیلۃ فأخبرانی عما رأیتُ، قالَا: نعم! أما الذی رأیتہ یشق شدقہ كذاب یحدث بالكذبۃ فتحمل عنہ حتّٰی تبلغ الآفاق فیصنع بہ إلٰی یوم القیامۃ، والذی رأیتہ یشدخ رأسہ فرجل علّمہ اللہ القرآن فنام عنہ باللیل ولم یعمل فیہ بالنھار، یفعل بہ إلٰی یوم القیامۃ، والذی رأیت فی النقب فھم الزناۃ، وأما الذی رأیتہ فی النھر فآكل الربا۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۱۸۵، کتاب الجنائز، باب ما قیل فی أولَاد المشرکین، أیضًا: بخاری ج:۲ ص:۱۰۴۳ کتاب التعبیر)۔ أیضًا قال ابن القیم (بعد ذکر ھٰذا الحدیث الطویل) وھٰذا نص فی عذاب البرزخ، فإن رُؤیا الأنبیاء وحی مطابق لما فی نفس الأمر۔ (کتاب الروح ص:۸۳ المسئلۃ السادسۃ، شرح الصدور ص:۱۶۷ باب فی القبر حساب)۔
(۵) حوالہ بالا
(۶) حوالہ بالا
(۷)حوالہ بالا
(۸ تا۱۱) عن ابی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم (فی حدیث الْإسراء): مضیت ھنیۃً فإذا أنا بأخوِنَۃ یعنی الخوان المائدۃ التی یوكل علیھا لحم مشرح لیس یقربھا أحد، وإذا أنا بأخونۃ أخریٰ علیھا لحم قد أروح ونتن عندھا أناس یأكلون منھا، قلت: یا جبریل من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰؤلَاء من اُمّتك یترکون الحلال ویأتون الحرام، ثم مضیت ھنیۃ، فإذا أنا بأقوام بطونھم أمثال البیوت کلما نھض أحدھم خرّ یقول: اللّٰھم لَا تقم الساعۃ، قال: وھم علٰی سابلۃ آل فرعون ۔۔۔ قلت: یا جبریل! من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰؤلَاء من اُمّتك الذین یأكلون الربا ۔۔۔ ثم مضیت ھنیۃ فإذا أنا بأقوام مشافرھم كمشافر الْإبل، قال: فتفتح علی أفواھھم ویلقون ذٰلك الحجر، ثم یخرج من أسافلھم ۔۔۔ فقلت: یا جبریل! من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰؤلَاء من اُمّتك یأكلون أموال الیتامٰی ظلمًا ۔۔۔ قال: ثم مضیت ھنیۃ فإذا أنا بنساء یعلقن بثدیھن فسمعتھن یصحن إلی اللہ عزّ وجلّ، قلتُ: یا جبریل! من ھٰؤلَاء النساء؟ قال: ھٰؤلَاء الزناۃ من اُمّتك۔ قال: ثم مضیت ھنیۃ فإذا أنا بأقوام تقطع من جنوبھم اللحم، فیلقمون، فیقال لہ: كُلْ كما كنت تأكل من لحم أخیك، قلت: یا جبریل! من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰؤلَاء الھمازون من اُمّتك اللمازون۔ (دلَائل النبوۃ ج:۲ ص۳۹۲ واللفظ لہٗ، باب الدلیل علٰی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عرج إلی السماء، طبع المکتبۃ الأثریۃ)۔
(۱۲) حوالہ بالا
(۱۳) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال فی ھٰذہ الآیۃ: ﵟ سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ﵞ ۔۔۔ ثم أتی علٰی قوم تُرضخ رُؤوسھم بالصخر کلما رضحت عادت كما کانت لَا یفتر عنھم من ذٰلك شیئًا فقال: یا جبریل! من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰؤلَاء الذین تتشاقل رؤوسھم عن الصلاۃ، قال: ثم أتٰی علٰی قوم علٰی إقبالھم رقاع وعلٰی أدبارھم رقاع یسرحون كما تسرح الأنعام علی الضریع الزقوم، ورضف جھنم وحجارتھا، قال: ما ھٰؤلَاء یا جبریل؟ قال: ھٰؤلَاء الذین لَا یؤدّون صدقات أموالھم وما ظلمھم اللہ، وما اللہ بظلّام للعبید، ثم أتٰی علٰی قوم بین أیدیھم لحم فی قدر نضج ولحم آخر خبیث، فجعلوا یأكلون من الخبیث ویدعون النضیج الطیب، فقال: یا جبریل! من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰذا الذی یقوم وعندہ إمرأۃ حلالًا طیبًا فیأتی المرأۃ الخبیث فتبیت معہ حتّٰی تصبح، ۔۔۔ ثم مَرَّ علٰی رجل قد جمع حزمۃ عظیمۃ لَا یستطیع حملھا وھو یزید علیھا قال: یا جبریل! ما ھٰذا؟ قال: ھٰذا رجل من اُمّتك علیہ أمانۃ لَا یستطیع أدائھا وھو یزید علیھا، ثم أتٰی علٰی قوم تقرض ألسنتھم وشفاھھم بمقاریض من حدید، کلما قرضت عادت كما کانت، ولَا یفتر عنھم شیء، قال: یا جبریل! من ھٰؤلَاء؟ قال: ھٰؤلَاء خطباء الفتنۃ، ثم أتٰی علٰی جحر صغیر یخرج منہ ثور عظیم فجعل الثور یرید أن یدخل من حیث خرج ولَا یستطیع، قال: ما ھٰذا یا جبریل؟ قال: ھٰذا الرجل یتكلم بكلمۃ فیندم علیھا فیرید أن یردھا فلا یستطیع۔ (دلَائل النبوۃ واللفظ لہٗ ج:۲ ص:۳۹۷-۳۹۸، باب الدلیل علٰی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عُرج بہ إلی السماء، طبع المکتبۃ الأثریۃ لَاہور، پاکستان، أیضًا: کتاب الروح لِابن قیم ص:۸۳، ۸۴، المسئلۃ السادسۃ، شرح الصدور ص:۱۷۰، باب إثبات عذاب القبر، نشر الطیب ص:۳۸-۴۰ واقعہ معراج، واقعہ ششم، طبع سہارنپور مفتی محلہ)۔
(۱۴) حوالہ بالا
(۱۵ و ۱۶) حوالہ بالا
(۱۷ و ۱۸) حوالہ بالا
(۱۹) عن عبدالحمید بن محمود قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فأتاہ قوم فقالوا: إنا خرجنا حجاجًا ومعنا صاحب لنا، إذا أتینا فإذا الصفاح مات، فھیأناہ، ثم انطلقنا، فحفرنا لہ، ولحدنا لہ، فلما فرغنا من لحدہ إذا نحن بأسود قد ملأ اللحد، فحفرنا لہ آخر فإذا بہ قد ملأ لحدہ، فحفرنا لہ آخر فإذا بہ ۔۔۔ فقال ابن عباس: ذٰلك الغل الذی یغل بہ، انطلقوا فادفنوہ فی بعضھا، فوالذی نفسی بیدہ! لو حفرتم الأرض کلھا لوجدتموہ فیہ، فانطلقنا فوضعناہ فی بعضھا، فلما رجعنا أتینا أھلہ بمتاع لہ معنا، فقلنا لِامرأتہ: ما کان یعمل زوجك؟ قالت: کان یبیع الطعام، فیأخذ منہ کل یوم قوت أھلہ، ثم یفرض الفضل مثلہ فیلقیہ فیہ۔ (کتاب الروح واللفظ لہٗ ص:۹۸ المسئلۃ السابعۃ، ایضًا شرح الصدور ص:۱۷۴ باب عذاب القبر، طبع بیروت، طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
(۲۰) وأخرج الأصبھانی فی الترغیب، عن العوام بن حوشب قال: نزلت مرۃ حیًا وإلٰی جانب ذٰلك الحی مقبرۃ، فلما کان بعد العصر انشق منھا قبر، فخرج من رجل رأسہ رأس حمار وجسدہ جسد إنسان، فنھق ثلاث نھقات، ثم انطبق علیہ القبر، فسألت عنہ فقیل: إنہ کان یشرب الخمر، فإذا راح تقول اُمّہ: إتق اللہ یا ولدی! فیقول: إنما أنتِ تنھقین كما ینھق الحمار۔ فمات بعد العصر، فھو ینشق عنہ القبر کل یوم بعد العصر، فینھق ثلاث نھقات، ثم ینطبق علیہ القبر۔ (شرح الصدور ص:۱۷۲، باب عذاب القبر، طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
(۲۱) عن ابن مسعود عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: أمر بعبد من عباد اللہ أن تضرب فی قبرہ مأۃ جلدۃ فلم یزل یسأل اللہ ویدعوہ حتّٰی صارت واحدۃ، فامتلأ قبرہ علیہ نارًا، فلما ارتفع عنہ أفاق، فقال: علام جلدتمونی؟ قالوا: إنك صلّیت صلاۃ بغیر طھور ومررت علٰی مظلوم فلم تنصرہ۔ (مشكل الآثار ج:۴ ص:۱۳۱، أیضًا کتاب الروح ص:۸۳ المسئلۃ السادسۃ)۔
(۲۲) وقال ابن أبی الدنیا: حدثنی محمد بن الحسین، قال: حدثنی أبو إسحاق صاحب الشاط قال: دعیت إلٰی میّت لِأغسلہ، فلما کشفت الثوب عن وجھہ إذا بحیۃ قد تطوقت علٰی حلقہ، فذکر من غلظھا، قال: فخرجت فلم أغسلہ، فذکروا أنہ کان یسب الصحابۃ رضی اللہ عنھم۔ (کتاب الروح ص:۹۸ المسئلۃ السابعۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ، أیضًا شرح الصدور ص:۱۷۳، باب عذاب القبر، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔
(۲۳) المسئلۃ التاسعۃ: وھی قول السائل: ما الأسباب التی یعذب بھا أصحاب القبور؟
جوابھا من وجھین: مجمل ومفصل، أما المجمل فإنھم یعذبون علٰی جھلھم باللہ، وإضاعتھم لأمرہ، وارتکابھم لمعاصیہ، فلا یعذّب اللہ روحًا عرفتہ وأحبتہ وامثلت أمرہ واجتنبت نھیہ، ولَا بدنًا کانت فیہ أبدًا فإن عذاب القبر وعذاب الآخرۃ أثر غضب اللہ وسخطہ علٰی عبدہ، فمن أغضب اللہ وأسخطہ فی ھٰذہ الدار ثم لم یتب ومات علٰی ذٰلك کان لہ من عذاب البرزخ بقدر غضب اللہ وسخطہ علیہ، فمستقلٌ ومسکثرٌ، ومصدقٌ، ومکذب۔
وأمّا الجواب المفصل: فقد أخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الرجلین اللذین رآھما یعذّبان فی قبورھما یمشی أحدھما بالنمیمۃ بین الناس ویترك الآخر الْإستبراء من البول، فھٰذا ترك الطھارۃ الواجبۃ، وذٰلك ارتكب السبب الموقع للعداوۃ بین الناس بلسانہ وإن کان صادقًا، وفی ھٰذا تنبیہ علٰی أن الموقع بینھم العداوۃ بالكذب والزور والبھتان أعظم عذابًا، كما أن فی ترك الْإستبراء من البول تنبیھًا علٰی ان من ترك الصلاۃ التی الْإستبراء من البول بعض واجباتھا وشروطھا فھو أشد عذابًا، وفی حدیث شعبۃ أما أحدھما فکان یأكل لحوم الناس فھٰذا مغتاب وذٰلك نمام، وقد تقدم حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ فی الذی ضرب سوطًا امتلأ القبر علیہ بہ نارًا، لکونہ صلّٰی صلاۃ واحدۃ بغیر طھور ومرّ علٰی مظلوم فلم ینصرہ۔
وقد تقدم حدیث سمرۃ فی صحیح البخاری فی تعذیب من یكذب الكذبۃ فتبلغ الآفاق، وتعذیب الزناۃ والزوانی، وتعذیب آكل الربا، كما شاھدھم النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی البرزخ۔
وتقدم حدیث أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ الذی فیہ رضخ رؤوس أقوام بالصخر لتشاقل رؤوسھم عن الصلاۃ، والذین یسرحون بین الضریع والزقوم لتركم زکاۃ أموالھم، والذین یأكلون اللحم المنتن الخبیث لزناھم، والذین تقرض شفاھم بمقاریض من حدیث لقیامھم فی الفتن بالكلام والخطب۔
وتقدم حدیث أبی سعید وعقوبۃ أرباب تلك الجرائم فمنھم من بطونھم أمثال البیوت وھم علٰی سابلۃ آل فرعون وھم أكلۃ الربا، ومنھم من تفتح أفواھھم فیلقمون الجمر حتّٰی یخرج من أسافلھم وھم أكلۃ أموال الیتامٰی، ومنھم المعلقات بثدیھنّ وھنّ الزوانی، ومنھم من تقطع جنوھم ویطعمون لحومھم وھم المغتابون، ومنھم من لھم أظفار من نحاس یخمشون وجوھھم وصدورھم وھم الذین یغمتون أعراض الناس۔
وقد أخبرنا النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن صاحب الشملۃ التی غلّھا من المغنم أنھا تشتغل علیہ نارًا فی قبرہ ھٰذا ولہ فیھا حق، فکیف بمن ظلم غیرہ ما لَا حق لہ فیہ، فعذاب القبر عن معاصی القلب، والعین، والاُذن، والفم، واللسان، والبطن، والفرج، والید، والرجل، والبدن کلہ، فالنمام، والكذّاب، والمغتاب، وشاھد الزور، وقازف المحصن، والموضع فی الفتنۃ، والدعی إلی البدعۃ، والقائل علی اللہ ورسولہ ما لَا علم لہ بہ، والمجازف فی کلامہ، وآكل الربا، وآكل أموال الیتامٰی، وآكل السحت من الرشوۃ والبرطیل ونحوھما، وآكل مال أخیہ المسلم بغیر حق أو مال المعاھد، وشارب المسکر، وآكل لقمۃ الشجرۃ الملعونۃ والزانی، واللوطی، والسارق، والخائن، والغادر، والمخادع، والماکر، وآخذ الربا ومعطیہ وکاتبہ وشاھداہ، والمحلل والمحلل لہ، والمحتال علٰی إسقاط فرائض اللہ وارتکاب محارمہ، ومؤذی المسلمین ومتتبع عوراتھم، والحاكم بغیر ما أنزل اللہ، والمفتی بغیر ما شرعہ اللہ، والمعین علی الْإثم والعدوان، وقاتل النفس التی حرم اللہ، والملحد فی حَرَم اللہ، والمعطل لحقائق أسماء اللہ وصفاتہ الملحد فیھا، والمقدم رأیہ وذوقہ وسیاستہ علٰی سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، والنائحۃ والمستمع إلیھا، ونواحو جھنم وھم المغنون الغناء الذی حرّمہ اللہ ورسولہ والمستمع إلیھم، والذین یبنون المساجد علی القبور، ویوقدون علیھا القنادیل والسُّرُج، والمطففون فی استیفاء ما لھم إذا أخذوہ وھضم ما علیھم إذا بذلوہ، والجبارون، والمتكبرون، والمراؤون، والھمازون اللمازون، والطاعنون علی السلف، والذین یأتون الکھنۃ والمنجّمین والعرّافین فیسألونھم ویصدقونھم، وأعوان الظلمۃ الذین قد باعوا آخرتھم بدنیا غیرھم، والذی إذا خوفتہ باللہ وذكّرتہ بہ لم یرعو ولم ینزجر فإذا خوّفتہ بمخلوق مثلہ خاف وارعوی وكَفَّ عما ھو فیہ، والذی یھدم بكلام اللہ ورسولہ فلا یھتدی ولَا یرفع بہ رأسًا فإذا بلغہ عمن یحسن بہ الظن ممن یصیب ویخطیء عضّ علیہ بالنواجذ ولم یخالفہ، والذی یقرأ علیہ القرآن فلا یؤثر فیہ، وربما استثقل بہ، فإذا سمع قرآن الشیطان ورقیۃ الزنا ومادۃ النفاق طاب سرہ، وتواجد وھاج من قبلہ دواعی الطرب وودَّ ان المغنی لَا یسکت، والذی یحلف باللہ ویكذب فإذا حلف بالبندق أو بریء من شیخہ أو قریبہ أو سراویل الفتوۃ أو حیاۃ من یحبہ ویعظمہ من المخلوقین لم یكذب ولو ھدد وعوقب، والذی یفتخر بالمعصیۃ ویتکثر بھا بین إخوانہ وأضرابہ وھو المجاھر، والذی لَا تأمنہ علٰی مالك وحرمتك، والفاحش اللسان البذی، الذی ترکہ الخلق إتقاہ شرہ وفحشہ، والذی یؤخر الصلاۃ إلٰی آخر وقتھا وینقرھا ولَا یذکر اللہ فیھا إلّا قلیلًا، ولَا یؤدی زكٰوۃ مالہ طیبۃ بھا نفسہ، ولَا یحج مع قدرتہ علی الحج، ولَا یؤدی ما علیہ من الحقوق مع قدرتہ علیھا، ولَا یتورع من لحظۃ ولَا لفظۃ ولَا آكلۃ ولَا خطوۃ ولَا یبالی بما حصل من المال من حلال أو حرام، ولَا یصل رحمہ، ولَا یرحم المسکین، ولَا الأرملۃ ولَا الیتیم ولَا الحیوان البھیم، بل یدع الیتیم ولَا یحض علٰی طعام المسلمین، ویرائی للعالمین ویمنع الماعون، ویشتغل بعیوب الناس عن عیبہ، وبذنوبھم عن ذنبہ، فكل ھٰؤلَاء وأمثالھم یعذّبون فی قبورھم بھٰذہ الجرائم بحسب کثرتھا وقلّتھا وصغیرھا وكبیرھا۔
ولما کان أکثر الناس كذالك کان أکثر أصحاب القبور معذبین، والفائز منھم قلیل، فظواھر القبور تراب وبواطنھا حسرات، وعذاب، ظواھرھا بالتراب والحجارۃ المنقوشۃ مبنیات وفی باطنھا الدواھی والبلیات تغلی بالحسرات كما تغلی القدور بما فیھا، ویحق لھا وقد حیل بینھا وبین شھواتھا وأمانیھا، تاللہ لقد وعظت فما ترکت لواعظٍ مقالًا، ونادت: یا عمار الدنیا! لقد عمرتم دارًا موشكلۃ بکم زوالًا وخربتم دارًا أنتم مسرعون إلیھا إنتقالًا، عمّرتم بیوتًا لغیركم منافعھا وسكناھا، وخرّبتم بیوتًا لیس لكم مساكن سواھا، ھٰذہ دار الْإستباق ومستودع الأعمال وبذر الذرع، وھٰذہ محل للعبر ریاض الجنۃ أو حفر من حفر النار۔ (کتاب الروح ص:۱۰۷ تا ۱۱۰ طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔

