موتکےبعدکیاہوتاہے؟
عذابِقبرکےسلسلےمیںشبہاتکےجوابات
سوال:۔
ایک سوال کے جواب میں جو عذابِ قبر سے متعلق ہے، آپ نے جواب میں تحریر فرمایا ہے کہ:
’’قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے، قرآنِ کریم میں اجمالاً اس کا ذکر ہے۔‘‘
محترم! آپ اپنے جواب کے حوالے سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات عنایت کردیجئے، عین نوازش ہوگی:
سوال۱:۔
ان قرآنی آیات کی ذرا نشاندہی فرمادیجئے، جہاں عذابِ قبر کا تذکرہ ہے، کیونکہ آپ نے خود لکھا ہے کہ قرآن شریف میں ان کا اِجمالاً تذکرہ موجود ہے۔
سوال۲:۔
یہ عذابِ قبر کیا صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے؟ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے جو اپنے مردے جلا دیتے ہیں؟ بالخصوص ہندو، کیا ان کو عذابِ قبر نہیں ہوتا؟ اگر نہیں ہوتا، تو کیوں نہیں ہوتا؟ اگر ہوتا ہے، تو اس کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟
سوال۳:۔
مسلمانوں پر اس ’’نظرِ کرم‘‘ کی کوئی خاص وجہ؟ یا یوں کہہ لیں ہر اس قوم پر جو مردے دفناتی ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
سوال۴:۔
قرآن شریف میں بچے کو دُودھ پلانے کی مدّت اور بعض دیگر جزئیات تک کا ذکر ہے، اتنا اہم مسئلہ صرف اجمالی اہمیت کا حامل کیسے ٹھہر گیا؟
سوال۵:۔
آپ جواب میں آگے چل کر فرماتے ہیں:
’’نیک و بد اعمال کی کچھ نہ کچھ سزا و جزا دُنیا میں بھی ملتی ہے اور کچھ قبر میں ملتی ہے، پوری آخرت میں ملے گی، دُنیاوی سزا اور قبر کی سزا کے باوجود جس شخص کی بدیوں کا پلہ بھاری ہوگا اس کو دوزخ کی سزا بھی ملے گی، حق تعالیٰ شانہ‘ اپنی رحمت سے معاف فرمادیں تو ان کی شانِ کریمی ہے۔‘‘
دُوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ ایک ’’بادشاہ‘‘ ہے، اگر اس کا دِل چاہے گا تو معاف بھی کردے گا، تو سوال یہ ہے کہ اگر کسی نیکوکار سے وہ ’’بادشاہ‘‘ ناراض ہوگیا تو اسے بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا، یہ تو بادشاہت ہے ، کسی قانون، کسی آئین کے تحت تو ہو نہیں رہا، اس کی مرضی ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ بیچارہ نیکوکار معلوم ہوا جہنم میں پڑا سڑ رہا ہے؟ بادشاہت میں تو ایسا ہی ہوتا ہے، ذرا وضاحت کردیں۔
سوال۶:۔
جب عذابِ قبر کا خودساختہ وجود ہے، تو ثوابِ قبر کیوں نہیں ہوتا؟ گناہ گاروں کو تو سزا مل رہی ہے، نیکوکاروں کو جزا کیوں نہیں ملتی؟
سوال۷:۔
اللہ کی فطرت اس کے قوانین پوری انسانیت کے لئے ایک ہی ہیں، قرآن مجید میں کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے اللہ کی فطرت تبدیل نہیں ہوتی، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ جو دفنائے اسے تو آپ کے خودساختہ فرشتے آگھیریں اور جو جلا دیں ان کے مزے ہی مزے۔
سوال۸:۔
کیا بحیثیتِ مسلمان میں اپنے وصیت نامے میں یہ وصیت کرسکتا ہوں کہ مرنے کے بعد عذابِ قبر سے بچانے کے لئے میری لاش کو دفنایا نہ جائے، جلادیا جائے؟
سوال۹:۔
فرعون کی لاش دیگر کئی فراعین کے ساتھ صحیح سلامت موجود ہے، اس کے عذابِ قبر سے متعلق کیا خیال ہے؟
سوال۱۰:۔
عذابِ قبر رُوح کو ہوتا ہے یا بدن کو؟ اسے کیسے ثابت کریں گے اور کس معیار پر؟
سوال۱۱:۔
یورپ میں آج کل بہت ساری لاشیں تجربات کے لئے لمبے عرصے کے لئے شیشے کے مرتبانوں میں محفوظ کی جارہی ہیں، ان کے عذابِ قبر سے متعلق آپ کیا فرمائیں گے؟
سوال۱۲:۔
عذابِ قبر کی ضرورت کیا ہے؟ جب قیامت میں گناہ گار جہنم میں جائیں گے ہی تو انہیں یہ اضافی ’’بونس‘‘ دینے کی کیا تک ہے؟ کیا جہنم کا عذاب کافی نہیں؟
جواب۱:۔
سورۂ مؤمن میں ہے:
ﵟ ٱلنَّارُ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا غُدُوّٗا وَعَشِيّٗاۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدۡخِلُوٓاْ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ أَشَدَّ ٱلۡعَذَابِ ٤٦ وَإِذۡ يَتَحَآجُّونَ فِي ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا نَصِيبٗا مِّنَ ٱلنَّارِ ٤٧ ﵞ(المؤمن ٤٦ و ٤٧)
ترجمہ:۔ ’’وہ آگ ہے کہ دِکھلادیتے ہیں ان کو صبح اور شام، اور جس دن قائم ہوگی قیامت، حکم ہوگا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔ اور جب آپس میں جھگڑیں گے آگ کے اندر پھر کہیں گے کمزور غرور کرنے والوں کو: ہم تھے تمہارے تابع، پھر کچھ تم ہم پر سے اُٹھالوگے حصہ آگ کا؟‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
اور سورۂ نوح میں ہے:
ﵟمِّمَّا خَطِيٓـَٰٔتِهِمۡ أُغۡرِقُواْ فَأُدۡخِلُواْ نَارٗا فَلَمۡ يَجِدُواْ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارٗا ٢٥ﵞ(نوح٢٥)
ترجمہ:۔ ’’کچھ وہ اپنے گناہوں سے دبائے گئے پھر ڈالے گئے آگ میں، پھر نہ پائے اپنے واسطے انہوں نے اللہ کے سوا کوئی مددگار۔‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
جواب۲،۳:۔ مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں، کفار کو بھی ہوتا ہے،(۱) جن مُردوں کو جلا دیا جاتا ہے ان کو بھی ہوتا ہے۔(۲)
جواب۴:۔
نماز جیسی اہم چیز، جو دِین کا رُکنِ اعظم ہے، اس کا بھی اِجمالی ذکر ہے، نماز کی رکعتوں کی تعداد اور نماز پڑھنے کا طریقہ ارشاد نہیں فرمایا گیا۔ نماز کے بعد دُوسرا رُکن زکوٰۃ ہے، اس کا ذکر بھی اِجمالاً ہے،(۳) مقدارِ زکوٰۃ، شرائطِ زکوٰۃ اور کن کن مالوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تیسرا رُکن روزہ ہے، اس کی بھی مکمل تفصیلات ذکر نہیں کی گئیں۔(۴) چوتھا رُکن حج ہے، اس کی تفصیلات بھی علی الترتیب درج نہیں۔(۵) قرآنِ کریم کی جو تشریح صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی وہ اُمت کے لئے واجب الاعتقاد اور واجب العمل قرار دی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﵟثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهُۥﵞ(القيامة١٩) (پھر مقرّر ہمارا ذمہ ہے اس کو کھول کر بتلانا)، اسی طرح: ﵟوَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُﵞ(الحشر٧)(اور جو دے تم کو رسول سو لے لو)، وقولہ تعالیٰ: ﵟوَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ﵞ(النساء٦٤)(اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے) إِلٰى غَيْرِ ذٰلِك مِنَ الْآيَاتِ الْكَثِيْرَةِ!
جواب۵:۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کو ﵟمَلِكِ ٱلنَّاسِﵞ(الناس٢)اور ﵟمَٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِﵞ(آل عمران٢٦)فرمایا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے بادشاہ ہونے پر بھی آپ کو اعتراض ہے؟ اور یہ بات میری کس تقریر سے لازم آئی کہ جزا و سزا بغیر کسی قانون کے ہے؟
جواب۶:۔
قبر میں ثواب بھی ہوتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا!‘‘۔(۶)
جواب۷:۔
اُوپر بتاچکا ہوں کہ دفن ہونے والے اور جلا دئیے جانے والوں کے درمیان تفریق غلط ہے، سب کو قبر کا عذاب ہوسکتا ہے، اور ہوتا ہے۔ ہاں! ہماری فہم و ادراک سے بالاتر چیز ضرور ہے، جو صرف انبیائے کرام علیہم السلام کی وحی سے معلوم ہوسکتی ہے، اور فرشتے ۔۔۔نعوذ باللہ۔ ۔ ۔ میرے ’’خود ساختہ‘‘ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں، جن کے وجود کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے،(۷) اگر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر اِیمان لانے کے لئے تیار نہیں، تو انتظار کیجئے! وہ وقت جلد آیا چاہتا ہے جب آپ کو اس عذاب کا مشاہدہ اور تجربہ ہوجائے گا، اس وقت یقین لایئے گا، لیکن افسوس! کہ اس وقت کا ایمان لانا مفید نہ ہوگا۔
جواب۸:۔
میں تو عذابِ قبر کے منکر کو سچا مسلمان ہی نہیں سمجھتا،(۸) کیونکہ وہ قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر ارشادات کے علاوہ اُمتِ اسلامیہ کے قطعی عقیدے کی اپنی جہالت و ناواقفی کی وجہ سے تکذیب کرتا ہے۔ (۹)اور یہ بھی بتاچکا ہوں کہ لاش محفوظ ہو، گل سڑ جائے، یا جلا دی جائے، کوئی حالت بھی عذابِ قبر سے مانع نہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ جلانے کی وصیت ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ کرنا چاہتے ہیں تو آپ بہتر جانتے ہیں۔ کیا اس کے بجائے یہ آسان نہیں کہ اِیمان بالغیب کے طور پر آپ اس عقیدے ہی کو مان لیں، اگر قبر میں واقعی عذاب ہوتا ہے تو آپ بچ جائیں گے، اور اگر نہیں ہوتا تو آپ کا کوئی نقصان نہیں۔
جواب۹:۔
فرعون کی لاش کو بھی عذاب ہو رہا ہے، قرآنِ کریم کی جن آیات کا اُوپر حوالہ دیا ہے، وہ فرعون اور آلِ فرعون ہی سے متعلق ہیں۔
جواب۱۰:۔
قبر کا عذاب بلا واسطہ رُوح کو ہوتا ہے اور بالواسطہ بدن کو، جس طرح کہ دُنیا کی تکلیف بلاواسطہ بدن کو ہوتی ہے اور بالواسطہ رُوح کو، اور معیار اَحادیث شریفہ ہیں۔(۱۰)
جواب۱۱:۔
ان کے بارے میں وہی کہوں گا جو نمبر:۹ کے بارے میں کہہ چکا ہوں، ان کو بھی عذاب ہوتا ہے، مگر مجھے اور آپ کو اس کا ادراک نہیں ہوتا، جس طرح خواب دیکھنے والے پر جو کچھ گزرتی ہے اس کا ادراک پاس بیٹھے جاگنے والے کو نہیں ہوتا۔
جواب۱۲:۔
میرا اور آپ کا کام خدا و رسول کی بات پر اِیمان لانا ہے، ان کے کاموں کی ضرورتیں بتانا نہیں۔ جب قبر میں فرشتے عذاب دیں گے، ان سے دریافت فرمالیجئے گا کہ: ’’اس کی کیا ضرورت تھی؟ سیدھا دوزخ میں بھیج دو! اضافی ’’بونس‘‘ کیوں دیا جارہا ہے۔۔۔؟‘‘۔
نصیحت:۔ سوالات کا مضائقہ نہیں، مگر آدمی کو گستاخانہ لہجہ نہیں اختیار کرنا چاہئے، خصوصاً اللہ و رسول کی بات پر گستاخانہ لہجہ اختیار کرنا ایمان کے منافی ہے، واﷲ اعلم!
- (۱) والقرآن والسُّنَّۃ تدل علٰی خلاف ھٰذا القول، وإن السؤال للکافر والمسلم، قال اللہ تعالٰی: (یثبت اللہ الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیٰوۃ الدنیا وفی الآخرۃ، ویضل اللہ الظّٰلمین ویفعل اللہ ما یشآء) وقد ثبت فی الصحیح أنھا نزلت فی عذاب القبر حین یسأل: من ربك؟ وما دینك؟ ومن نبیك؟ وفی الصحیحین عن أنس بن مالك عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: إن العبد إذا وضع فی قبرہ وتولّٰی عنہ أصحابہ إنہ یسمع قرع نعالھم، وذکر الحدیث۔ زاد البخاری: وأما المنافق والکافر فیقال لہ: ما كنت تقول فی ھٰذا الرجل؟ فیقول: لَا أدری! كنت أقول ما یقول الناس، فیقال: لَا دریت ولَا تلیت، ویضرب بمطرقۃٍ من حدید یصیح صیحۃ یسمعھا من یلیہ إلّا الثقلین، ھٰكذا فی البخاری ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۱۱۶، المسئلۃ الحادیۃ عشرۃ)۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مذکورہ کتاب ص:۱۱۶ تا ۱۱۹۔
- (۲) قال الْإمام النووی: مذھب أھل السُّنَّۃ اثبات عذاب القبر ۔۔۔ ولَا یمنع من ذٰلك کون المیت قد تفرقت أجزاؤہ كما یشاھد فی العادۃ أو أكلتہ السبع والطیور وحیتان البحر لشمول علم اللہ تعالٰی وقدرتہ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۶۳، باب إثبات عذاب القبر)۔
- (۳) مثلاً: ﵟ أَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ ﵞ البقرة ٤٣، أیضًا: قال تعالٰی:ﵟ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣ ﵞ البقرة ٣۔
- (۴) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٨٣ ﵞ البقرة ١٨٣۔
- (۵) قال تعالٰی: ﵟ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ ﵞ آل عمران ٩٧، وقال تعالٰی: ﵟ وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ ﵞ البقرة ١٩٦۔
- (۶) عن أبی سعید قال ۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انما القبر روضۃ من ریاض الجنّۃ أو حفرۃ من حفر النّار۔ (ترمذی ج:۲ ص:۶۹، أبواب صفۃ القیامۃ، طبع دھلی)۔
- (۷) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا أقبر المیت أتاہ ملکان أسودان أزرقان، یقال لأحدھما المنکر وللآخر النکیر ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵، باب إثبات عذاب القبر)۔
- (۸) جحد أحد وعدًا أو وعیدًا ذکرہ اللہ تعالٰی فی القرآن عند الفزع فی القبر وفی القیامۃ یکفر ۔۔۔ وكذٰلك لو قال لَا أعترف عذاب القبر فھو کافر۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۴۰، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
- (۹) (الأصل الثالث) عذاب القبر وقد ورد الشرع بہ قال اللہ تعالٰی: ﵟ ٱلنَّارُ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا غُدُوّٗا وَعَشِيّٗاۚ ﵞ ۔۔۔ واشتھر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والسلف الصالح الْإستعاذۃ من عذاب القبر، وھو ممکن فیجب التصدیق بہ۔ (إحیاء علوم الدین ج:۱ ص:۱۱۴، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۱۰) بل العذاب والنعیم علی النفس والبدن جمیعًا باتفاق أھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔ (کتاب الروح ص:۷۲ المسئلۃ السادسۃ)۔ أیضًا: وجعل أحکام البرزخ علی الأرواح والأبدان تبعًا لھا، فكما تبعت الأرواح الأبدان فی أحکام الدنیا فتألمت بألمھا والتذت براحتھا ۔۔۔ والأرواح ھناك ظاھرۃ والأبدان خفیۃ فی قبورھا تجری أحکام البرزخ علی الأرواح فتسری إلٰی أبدانھا نعیمًا أو عذابًا ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۸۹ المسئلۃ السابعۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

