بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

برزخی‌زندگی‌کیسی‌ہوگی؟

سوال:۔

روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی کے صفحہ ’’اقرأ‘‘ میں آپ کا مفصل مضمون رُوح کے بارے میں پڑھا جو کہ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا، اس مضمون کو پڑھنے کے بعد چند سوالات ذہن میں آئے ہیں، جو گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

آپ نے لکھا ہے کہ: ’’کفار و فجار کی رُوحیں تو ’’سجین‘‘ کی جیل میں مقید ہوتی ہیں، ان کے کہیں آنے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور نیک اَرواح کے بارے میں کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا گیا۔‘‘

اور آپ نے لکھا ہے: ’’اگر باذنِ اللہ (نیک اَرواح) کہیں آتی جاتی ہیں تو اس کی نفی نہیں کی جاسکتی۔‘‘

کیا ان دو باتوں کا ثبوت کہیں قرآن و حدیث سے ملتا ہے؟

حالانکہ قرآن میں سورۂ مؤمنون میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:۔ ’’(سب مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ (آڑ) حائل ہے، دُوسری زندگی تک‘‘ یعنی مرنے کے بعد دُنیا میں واپس نہیں آسکتے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔

جیسا کہ سورہ یٰسین میں آیا ہے:

ترجمہ:۔ ’’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا، اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘

اس بات کا ایک اور ثبوت ترمذی اور بیہقی کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ: کیا بات ہے میں تم کو غم زدہ پارہا ہوں۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ میں نے جواب میں عرض کیا کہ: والد ’’اُحد‘‘ میں شہید ہوگئے اور ان پر قرض باقی ہے اور کنبہ بڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جابر! کیا تم کو میں یہ بات بتاؤں کہ اللہ نے کسی سے بھی پردے کے بغیر بات نہیں کی مگر تمہارے والد سے آمنے سامنے ہوکر کہا کہ: عبداللہ! مانگو، تم کو دُوں گا۔ تمہارے باپ نے کہا: مالک مجھے پھر دُنیا میں واپس لوٹادے تاکہ میں دُوسری بار تیری راہ میں قتل کیا جاؤں! اس پر مالک عزّ وجل نے ارشاد فرمایا کہ: میری طرف سے یہ بات کہی جاچکی ہے کہ لوگ دُنیا سے چلے آنے کے بعد پھر اس کی طرف واپس نہ جاسکیں گے (ترمذی و بیہقی)۔

عموماً لوگ کہتے ہیں کہ یہاں مراد جسمانی جسم کے ساتھ ہے، کیونکہ جسم بغیر رُوح کے بے معنی ہے اور رُوح بغیر جسم کے۔ اگر یہ بات تسلیم کی جائے کہ صرف رُوح دُنیا میں آتی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رُوح سنتی بھی ہے اور دیکھتی بھی ہے تو یہ بات سورۂ مؤمنون کی آیات سے ٹکراتی ہے، سورۂ اَحقاف میں اللہ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ دُنیا سے گزرجانے والے لوگوں کو دُنیاوی حالات کی کچھ خبر نہیں رہتی، ارشاد ربانی ہے:

ترجمہ:۔’’اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے علاوہ دُوسروں کو آواز دے، حالانکہ وہ قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے وہ تو ان کی پکار سے غافل ہیں‘‘ (الاحقاف آیت:۵، ۶)۔

دراصل یہی وہ گمراہ کن عقیدہ ہے جو شرک کی بنیاد بنتا ہے، لوگ نیک بزرگوں کو زندہ و حاضر و ناظر سمجھ کر دستگیری اور حاجت روائی کے لئے پکارتے ہیں اور اللہ کے ساتھ ظلمِ عظیم کرتے ہیں۔

اَز راہِ کرم ان باتوں کو کسی قریبی اشاعت میں جگہ دیں، تاکہ لوگوں کے دِل میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات دُور ہوسکیں، اللہ ہمارا اور آپ کا حامی و ناصر ہوگا۔

جواب:۔

یہ تو اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ موت فنائے محض کا نام نہیں کہ مرنے کے بعد آدمی معدومِ محض ہوجائے، بلکہ ایک جہان سے دُوسرے جہان میں اور زندگی کے ایک دور سے دُوسرے دور میں منتقل ہونے کا نام موت ہے۔ پہلے دور کو ’’دُنیوی زندگی‘‘ کہتے ہیں،(۱) اور دُوسرے دور کا نام قرآنِ کریم نے ’’برزخ‘‘ رکھا ہے۔(۲)

برزخ اس آڑ اور پردے کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کے درمیان واقع ہو، چونکہ یہ برزخی زندگی ایک عبوری دور ہے اس لئے اس کا نام ’’برزخ‘‘ تجویز کیا گیا۔(۳)

آپ نے سوال میں جو احادیث نقل کی ہیں ان کا مدعا واضح طور پر یہ ہے کہ مرنے والے عام طور پر ’’برزخ‘‘ سے دوبارہ دُنیوی زندگی کی طرف واپس نہیں آتے (البتہ قرآنِ کریم میں زندہ کئے جانے کے جو واقعات مذکور ہیں، ان کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا)۔

اور میں نے جو لکھا ہے کہ: ’’اگر باذنِ اللہ نیک اَرواح کہیں آتی جاتی ہوں تو اس کی نفی نہیں کی جاسکتی‘‘ اس سے دُنیوی زندگی اور اس کے لوازمات کی طرف پلٹ آنا مراد نہیں کہ ان آیات و احادیث کے منافی ہو، بلکہ برزخی زندگی ہی کے دائرے میں آمد و رفت مراد ہے، اور وہ بھی باذنِ اللہ۔۔۔!

رہا آپ کا یہ ارشاد کہ:

’’دراصل یہی وہ گمراہ کن عقیدہ ہے جو شرک کی بنیاد بنتا ہے، لوگ نیک بزرگوں کو زندہ اور حاضر وناظر سمجھ کر دستگیری اور حاجت روائی کے لئے پکارتے ہیں۔‘‘

اگر اس سے آپ کی مراد ’’برزخی زندگی‘‘ ہے تو جیسا کہ اُوپر عرض کیا گیا یہ اسلامی عقیدہ ہے، اس کو گمراہ کن عقیدہ کہہ کر شرک کی بنیاد قرار دینا صحیح نہیں۔ جبکہ حضرت جابرؓ کی وہ حدیث جو آپ نے سوال میں نقل کی ہے وہ خود اس ’’برزخی زندگی‘‘ کا منہ بولتا ثبوت ہے اور پھر شہداء کو تو صراحتاً زندہ کہا گیا ہے اور ان کو مردہ کہنے کی ممانعت کی گئی ہے۔(۴) شہداء کی یہ زندگی بھی برزخی ہی ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ دُنیوی زندگی کا دور تو ان کا بھی پورا ہوچکا ہے۔ بہرحال ’’برزخی زندگی‘‘ کے عقیدے کو گمراہ کن نہیں کہا جاسکتا۔ رہا لوگوں کا بزرگوں کو حاضر و ناظر سمجھ کر انہیں دستگیری کے لئے پکارنا! تو اس کا ’’برزخی زندگی‘‘ سے کوئی جوڑ نہیں، نہ یہ زندگی اس شرک کی بنیاد ہے۔

اوّلاً:۔مشرکین تو پتھروں، مورتیوں، درختوں، دریاؤں، چاند، سورج اور ستاروں کو بھی نفع و نقصان کا مالک سمجھتے اور ان کو حاجت روائی اور دستگیری کے لئے پکارتے ہیں۔ کیا اس شرک کی بنیاد ان چیزوں کی ’’برزخی زندگی‘‘ ہے؟ دراصل جہلاء شرک کے لئے کوئی بنیاد تلاش نہیں کیا کرتے، شیطان ان کے کان میں جو افسوں پھونک دیتا ہے، وہ ہر دلیل اور منطق سے آنکھیں بند کرکے اس کے اِلقاء کی پیروی شروع کردیتے ہیں۔ جب پوجنے والے بے جان پتھروں تک کو پوجنے سے باز نہیں آتے تو اگر کچھ لوگوں نے بزرگوں کے بارے میں مشرکانہ غلوّ اختیار کرلیا تو اسلامی عقیدے سے اس کا کیا تعلق ہے۔۔۔؟

ثانیاً:۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، مشرکینِ عرب فرشتوں کو بھی خدائی میں شریک، نفع و نقصان کا مالک اور خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے،(۵) اور تقرّب الی اللہ کے لئے ان کی پرستش کو وسیلہ بناتے تھے،(۶) کیا ان کے اس جاہلانہ عقیدے کی وجہ سے فرشتوں کی حیات کا انکار کردیا جائے؟ حالانکہ ان کی حیات برزخی نہیں، دُنیوی ہے اور زمینی نہیں، آسمانی ہے۔ اب اگر کچھ لوگوں نے انبیاء واولیاء کی ذواتِ مقدسہ کے بارے میں بھی وہی ٹھوکر کھائی جو مشرکینِ عرب نے فرشتوں کے بارے میں کھائی تھی تو اس میں اسلام کے ’’حیاتِ برزخی‘‘ کے عقیدے کا کیا قصور ہے؟ اور اس کا انکار کیوں کیا جائے۔۔۔؟

ثالثاً:۔ جن بزرگوں کو لوگ بقول آپ کے زندہ سمجھ کر دستگیری اور حاجت روائی کے لئے پکارتے ہیں، وہ اسی دُنیا میں لوگوں کے سامنے زندگی گزار کر تشریف لے گئے ہیں۔ یہ حضرات اپنی پوری زندگی میں توحید و سنت کے داعی اور شرک و بدعت سے مجتنب رہے، اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِلتجائیں کرتے رہے، انہیں بھوک میں کھانے کی ضرورت ہوتی تھی، بیماری میں دوا دارو اور علاج معالجہ کرتے تھے، انسانی ضروریات کے محتاج تھے، ان کی یہ ساری حالتیں لوگوں نے سر کی آنکھوں سے دیکھیں، اس کے باوجود لوگوں نے ان کے تشریف لے جانے کے بعد ان کو نفع و نقصان کا مالک و مختار سمجھ لیا اور انہیں دستگیری و حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیا، جب ان کی تعلیم، ان کے عمل اور ان کی انسانی احتیاج کے علی الرغم لوگوں کے عقائد میں غلوّ آیا تو کیا ’’حیاتِ برزخی‘‘ (جو بالکل غیرمحسوس چیز ہے) کے انکار سے اس غلوّ کی اصلاح ہوجائے گی۔۔۔؟

الغرض نہ حیاتِ برزخی کے اسلامی عقیدے کو شرک کی بنیاد کہنا صحیح ہے، نہ اس کے انکار سے لوگوں کے غلوّ کی اصلاح ہوسکتی ہے، ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں قرآن و سنت اور خود ان بزرگوں کی تعلیمات سے پورے طور پر آگاہ کیا جائے۔

’’حیاتِ برزخی‘‘ کے ضمن میں آپ نے ’’سماعِ موتیٰ‘‘ کا مسئلہ بھی اُٹھایا ہے، چونکہ یہ مسئلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے زمانے سے اختلافی چلا آرہا ہے، اس لئے میں بحث نہیں کرنا چاہتا، البتہ یہ ضرور عرض کروں گا کہ سماعِ موتیٰ کا مسئلہ بھی اس شرک کی بنیاد نہیں، جس کا آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ اس کی دلیل میں ایک چھوٹی سی بات عرض کرتا ہوں، آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے فقہائے حنفیہ سماعِ موتیٰ کے قائل ہیں، اس کے باوجود ان کا فتویٰ یہ ہے:

’’وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ: قَالَ عُلَمَاؤُنَا مَنْ قَالَ أَرْوَاحُ الْمَشَائِخِ حَاضِرَةٌ تَعْلَمُ، يَكْفُرُ۔‘‘ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۴)

ترجمہ:۔ ’’فتاویٰ بزازیہ میں لکھا ہے کہ ہمارے علماء نے فرمایا جو شخص یہ کہے کہ: ’’بزرگوں کی رُوحیں حاضر و ناظر اور وہ سب کچھ جانتی ہیں‘‘ تو ایسا شخص کافر ہوگا۔‘‘

اس عبارت سے آپ یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ سماعِ موتیٰ کے مسئلے سے نہ بزرگوں کی اَرواح کا حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے، نہ عالم الغیب ہونا، ورنہ فقہائے حنفیہ جو سماعِ موتیٰ کے قائل ہیں، یہ فتویٰ نہ دیتے۔

آپ نے سورۂ اَحقاف کی جو آیت نقل فرمائی ہے، اس کو حضراتِ مفسرین نے مشرکینِ عرب سے متعلق قرار دیا ہے، جو بتوں کو پوجتے تھے، گویاﵟلَّا يَسۡتَجِيبُﵞاور ﵟغَٰفِلُونَﵞ(الأحقاف ٥)کی یہ دونوں صفات جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہیں، وہ بتوں کی صفات ہیں جو جمادِ محض تھے، لیکن اگر اس آیت کو تمام معبودانِ باطلہ کے لئے عام بھی مان لیا جائے، تب بھی اس سے ان کی حاجت روائی پر قادر نہ ہونا اور غائب ہونا تو لازم آتا ہے مگر اس سے حیات کی نفی ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ عموم کی حالت میں یہ آیت فرشتوں کو بھی شامل ہوگی، اور آپ جانتے ہیں کہ ان سے قدرت اور حاضر و ناظر ہونے کی نفی تو صحیح ہے، مگر حیات کی نفی صحیح نہیں، بلکہ خلافِ واقعہ ہے۔

آخر میں گزارش ہے کہ ’’برزخ‘‘ جو دُنیا و آخرت کے درمیان واقع ہے، ایک مستقل جہان ہے اور ہماری عقل و ادراک کے دائرے سے ماورا ہے، اس عالم کے حالات کو نہ دُنیوی زندگی پر قیاس کیا جاسکتا ہے، نہ اس میں اندازے اور تخمینے لگائے جاسکتے ہیں، یہ جہان چونکہ ہمارے شعور و احساس اور وجدان کی حدود سے خارج ہے، اس لئے عقلِ صحیح کا فیصلہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے جو حالات ارشاد فرمائے (جو صحیح اور مقبول احادیث سے ثابت ہوں) انہیں رَدّ کرنے کی کوشش نہ کی جائے، نہ قیاس و تخمین سے کام لیا جائے۔

اہلِ قبور کے بارے میں چند ارشاداتِ نبوی میں اپنے اس مضمون میں نقل کرچکا ہوں، جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اور چند اُمور یہ ہیں:

۱:۔ قبر میں میّت کے بدن میں رُوح کا لوٹایا جانا۔(۷)

۲:۔ منکر نکیر کا سوال و جواب کرنا۔(۸)

۳:۔ قبر کا عذاب و راحت۔(۹)

۴:۔ بعض اہلِ قبور کا نماز و تلاوت میں مشغول ہونا۔(۱۰)

۵:۔ اہلِ قبور (جو مؤمن ہوں) کا ایک دُوسرے سے ملاقات کرنا۔(۱۱)

۶:۔ اہلِ قبور کو سلام کہنے کا حکم۔(۱۲)

۷:۔ اہلِ قبور کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا۔(۱۳)

۸:۔ اہلِ قبور کو دُعا و اِستغفار اور صدقہ خیرات سے نفع پہنچانا۔(۱۴)

۹:۔ برزخی حدود کے اندر اہلِ ایمان کی اَرواح کا باذنِ اِلٰہی کہیں آنا جانا جیسا کہ شبِ معراج میں انبیاء علیہم السلام کا بیت المقدس میں اجتماع ہوا۔(۱۵)

خلاصہ یہ کہ جو چیزیں ثابت ہیں ان سے انکار نہ کیا جائے، اور جو ثابت نہیں ان پر اصرار نہ کیا جائے، یہی صراطِ مستقیم ہے، جس کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے، وَاللّٰهُ الْمُوَفِّقُ!

  1. (۱) قال العلماء: الموت لیس بعدم محض ولَا فناء صرف، وإنما ھو إنقطاع تعلق الروح بالبدن، ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما، وتبدل حال، وانتقال من دار إلٰی دار، وأخرج ابوالشیخ فی تفسیرہ وأبونعیم عن بلال بن سعد أنہ قال فی وعظہ: یا أھل الخلود! ویا أھل البقاء! إنكم لم تخلقوا للفناء، وإنما خلقتم للخلود والأبد، وإنكم تنقلون من دار إلٰی دار ۔۔۔إلخ۔ (شرح الصدور ص:۱۲، باب فضل الموت)۔ أیضًا: قال ابوعبداللہ، وقال شیخنا أحمد بن عمرو ۔۔۔ إن الموت لیس بعدم محض وإنما ھو إنتقال من حال إلٰی حال، ویدل علٰی ذٰلك أن الشھداء بعد قتلھم وموتھم أحیاء عند ربھم یرزقون فرحین مستبشرین ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۵۱ المسئلۃ الرابعۃ)۔۴۳۵
  2. (۲) ﵟ وَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ﵞ المؤمنون ١٠٠۔ فالحاصل أن الدور ثلاث، دار الدنیا، ودار البرزخ، ودار القرار ۔۔۔الخ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۵۲ طبع لَاہور)۔
  3. (۳) قال تعالٰی: ﵟ وَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ﵞفالبرزخ ھنا ما بین الدنیا والآخرۃ، وأصلہ الحاجز بین الشیئین۔ (کتاب الروح ص:۱۴۹ المسئلۃ الخامسۃ عشرۃ)۔
  4. (۴) ﵟ وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ ١٦٩ ﵞ آل عمران ١٦٩۔
  5. (۵) ثم قال منکرًا علیھم فیما نسبوہ إلیہ من البنات وجعلھم الملائكۃ إناثًا وإختیارھم لأنفسھم الذکور علی الْإناث بحیث إذا بُشِّر أحدھم بالاُنثٰی ظلّ وجھہ مسودًّا وھو كظیم، ھٰذا وقد جعلوا الملائكۃ بنات اللہ وعبدوھم مع اللہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۶ ص:۱۴، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  6. (۶) ثم أخبر تعالٰی عن عبّاد الأصنام من المشرکین أنھم یقولون: ما نعبدھم إلّا لیقرّبونا إلی اللہ زلفٰی، أی إنما یحملھم علٰی عبادتھم لھم أنھم عمدوا إلٰی أصنام اتخذوھا علٰی صور الملائكۃ المقرّبین فی زعمھم، فبعدوا تلك الصور تنزیلًا لذالك منزلۃ عبادتھم الملائكۃ لیشفعوا لھم عند اللہ فی نصرھم ورزقھم وما ینو بھم من اُمور الدنیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۳۹۷)۔
  7. (۷) واعادۃ الروح أی ردّھا أو تعلقھا الی العبد أی جسدہ بجمیع أجزائہ ۔۔۔ حق ۔۔۔ واعلم أن أھل الحق اتفقوا علٰی أن اللہ تعالٰی یخلق فی المیت نوع حیاۃ فی القبر قدر ما یتألم أو یتلذذ۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۱۲۱، ۱۲۲، طبع دہلی)۔
  8. (۸) ثم جاء ملَکان أسودان أزرقان ۔۔۔ اسمائھما منکر ونکیر ۔۔۔ الخ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج:۳ ص:۳۷۹)۔
  9. (۹) ایضاً حوالہ نمبر۱۔ أیضًا: وأخرج البیھقی فی عذاب القبر، وابن أبی الدنیا عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: القبر حفرۃ من حفر جھنم أو روضۃ من ریاض الجنۃ۔ (شرح الصدور ص:۱۵۳)۔
  10. (۱۰) عن أنس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ اسریَ بہٖ مرّ بموسٰی علیہ السلام وھو یصلی فی قبرہ ۔۔۔ وعن أنس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الأنبیاء أحیاء فی قبورھم یصلون ۔۔۔الخ۔ (الحاوی للفتاویٰ: انبیاء الأذکیاء بحیاۃ الأنبیاء ج:۲ ص:۱۴۷)۔
  11. (۱۱) قال عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما: ان أرواح المؤمنین تتلاقی ۔۔۔ الخ۔ (کتاب الروح ص:۱۴۲)۔ وأیضًا وعن سعید بن جبیر قال: اذا مات المیت استقبلہ ولدہ كما یستقبل الغائب، وعن ثابت البنانی قال: بلغنا أن المیت اذا مات احتوشہ أھلہ وأقاربہ الذین قد تقدموہ من الموتی ۔۔۔الخ۔ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۷۴، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
  12. (۱۲) کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمھم اذا خرجوا الی المقابر ۔۔۔ السلام علیكم أھل دیار من المؤمنین ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۱۴، طبع قدیمی، ابن ماجۃ ص:۱۱۲، طبع نور محمد، مسند احمد ج:۵ ص:۳۵۳، طبع بیروت)۔
  13. (۱۳) ثبت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: ما من مسلم یمرّ علٰی قبر أخیہ کان یعرفہ فی الدنیا، فیسلّم علیہ إلّا ردّ اللہ علیہ روحہ حتّٰی یردّ علیہ السلام، فھٰذا نص فی أنہ یعرفہ بعینہ ویرد علیہ السلام ۔۔۔ وقد شرع النبی صلی اللہ علیہ وسلم لاُمّتہ إذا سلّموا علٰی أھل القبور أن یسلّموا علیھم سلام من یخاطبونہ فیقول: السلام علیكم دار قوم مؤمنین، وھٰذا خطاب لمن یسمع ویعقل ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۱۰ المسئلۃ الاُولٰی، ایضًا مشکوٰۃ، باب زیارۃ القبور ص:۱۵۴)۔
  14. (۱۴) من صام أو صلّٰی وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز، ویصل ثوابھا إلیھم عند أھل السُّنّۃ والجماعۃ ۔۔۔ الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۲۴۳)۔ أیضًا: عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما المیت فی قبرہ إلّا شبہ الغریق المتغوث ینتظر دعوۃ تلحقہ من أب أو اُمّ أو ولد أو صدیق ثقۃ، فإذا لحقتہ کانت أحب إلیہ من الدنیا وما فیھا، وان اللہ تعالٰی لیدخل علٰی أھل القبور من دعاء أھل الأرض أمثال الجبال، وأن ھدیۃ الأحیاء إلی الأموات الْإستغفار لھم۔ (شرح الصدور ص:۳۰۵، باب ما ینفع المیت فی قبرہ)۔ أیضًا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن الصدقۃ لتطفیٔ عن أھلھا حر القبور۔ (شرح الصدور ص:۳۰۷، باب ما ینفع المیت فی قبرہ)۔
  15. (۱۵) إنّ أرواح المؤمنین فی برزخ من الأرض تذھب حیث شاءت ونفس الکافر فی سجّین ۔۔۔إلخ۔ (شرح الصدور ص:۲۳۶، باب مقر الأرواح)۔ أیضًا: عن قتادۃ عن أنس بن مالك (فی حدیث طویل) (قال ثم دخلت المسجد) أی المسجد الأقصٰی ۔۔۔ (فصلیت فیھا ركعتین) أی تحیۃ المسجد، والظاھر أن ھٰذہ ھی الصلاۃ التی اقتدیٰ بہ الأنبیاء وصار فیھا إمام الأصفیاء ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشكٰوۃ ج:۵ ص:۴۳۱، باب فی المعراج، الفصل الأوّل، طبع دھلی)۔