بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

کیا‌قیامت‌میں‌رُوح‌کو‌اُٹھایا‌جائے‌گا؟

سوال:۔

سنا ہے کہ مرنے کے بعد قبر کے اندر انسان جاتے ہیں، یہی اعضاء گل سڑکر کیڑوں مکوڑوں کی نذر ہوجاتے ہیں، اگر یہی اعضاء کسی ضرورت مند کو دے دئیے جائیں تو وہ شخص زندگی بھر اس عطیہ دینے والے کو دُعائیں دیتا رہے گا۔ کہا جاتا ہے کہ انسان جس حالت میں مرا ہوگا اسی حالت میں اُٹھایا جائے گا، یعنی اگر اس کے اعضاء نکال دئیے گئے ہوں گے تو وہ بغیر اعضاء کے اُٹھایا جائے گا، مثلاً اندھا وغیرہ، جبکہ اسلامی کتابوں سے ظاہر ہے کہ قیامت کے روز انسان کے جسموں کو نہیں بلکہ اس کی رُوح کو اُٹھایا جائے گا۔

جواب:۔

اعضاء کا گل سڑجانا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ میّت کے اعضاء بھی کاٹ لینا جائز ہے۔ معلوم نہیں آپ نے کون سی اسلامی کتابوں میں یہ لکھا دیکھا ہے کہ قیامت کے روز انسان کے جسم کو نہیں بلکہ صرف اس کی رُوح کو اُٹھایا جائے گا؟ میں نے جن اسلامی کتابوں کو پڑھا ہے ان میں تو حشرِ جسمانی لکھا ہے۔(۱)

  1. (۱) ﵟ ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تُبۡعَثُونَ ١٦ ﵞ المؤمنون ١٦۔ أیضًا: ﵟ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلٗا وَنَسِيَ خَلۡقَهُۥۖ قَالَ مَن يُحۡيِ ٱلۡعِظَٰمَ وَهِيَ رَمِيمٞ ٧٨ قُلۡ يُحۡيِيهَا ٱلَّذِيٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيمٌ ٧٩ ﵞيس ٧٨، ٧٩،ﵟ قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ﵞ يس ٥٢، أیضًا: والبعث الثانی یوم یرد اللہ الأرواح إلٰی أجسادھا ویبعثھا من قبورھا إلی الجنّۃ أو النار ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۱۰۲، المسئلۃ السابعۃ، الأمر العاشر)۔