بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

مرنے‌کے‌بعد‌رُوح‌دُوسرے‌قالب‌میں‌نہیں‌جاتی

سوال:۔

کیا انسان دُنیا میں جب آتا ہے تو دو وجود لے کر آتا ہے، ایک فنا اور دُوسرا بقا، فنا والا وجود تو بعدِ مرگ دفن کردینے پر مٹی کا بنا ہوا تھا، مٹی میں مل گیا۔ بقا ہمیشہ قائم رہتا ہے؟ مہربانی فرماکر اس سوال کا حل قرآن و حدیث کی رُو سے بتائیں، کیونکہ میرا دوست اُلجھ گیا ہے، یعنی دُوسرے جنم کے چکر میں۔

جواب:۔

اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد رُوح باقی رہتی ہے اور دوبارہ اس کو کسی اور قالب میں دُنیا میں پیدا نہیں کیا جاتا۔(۱) ’’اواگون‘‘ والوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ایک ہی رُوح لوٹ لوٹ کر مختلف قالبوں میں آتی رہتی ہے، کبھی انسانی قالب میں، کبھی کتے، گدھے اور سانپ وغیرہ کی شکل میں۔ یہ نظریہ عقلاً و نقلاً غلط ہے۔(۲)

  1. (۱) السابعۃ: ذھب أھل الملل من المسلمین وغیرھم إلٰی أن الروح تبقی بعد موت البدن وخالف فیہ الفلاسفۃ، دلیلنا قولہ تعالٰی: کل نفس ذآئقۃ الموت، والذائق لَابد أن یبقی بعد المذوق ۔۔۔ وفی کتاب ابن القیم: إختلف فی ان الروح تموت مع البدن أم الموت للبدن وحدہ؟ علٰی قولین، والصواب: أنہ إن أرید بذوقھا الموت مفارقتھا للجسد فنعم ھی ذائقۃ الموت بھٰذا المعنٰی، وإن أرید أنھا تعدم فلا، بل ھی باقیۃ بعد خلقھا بالْإجماع فی نعیم أو عذاب۔ (شرح الصدور ص:۳۲۴، خاتمۃ فی فوائد تتعلق بالروح، أیضًا کتاب الروح ص:۴۹)۔
  2. (۲) وقالت فرقۃ: مستقرھا بعد الموت أبدان ۔۔۔ فتصیر کل روح الٰی بدن حیوان یشاكل تلك الروح، وھٰذا قول التناسخیۃ منکری المعاد وھو قول خارج عن أھل الْإسلام کلھم۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۵۴)۔ وقالت فرقۃ: مستقرھا بعد الموت أرواح أُخر تناسب أخلاقھا وصفاتھا التی اکتسبتھا فی حال حیاتھا، فتصیر کل روح إلٰی بدن حیوان یشاكل تلك الأرواح فتصیر النفس السبعیۃ إلی أبدان السباع، والكلبیۃ إلٰی أبدان الكلاب، والبھیمیۃ إلٰی أبدان البھائم، والدنیۃ والسفلیۃ إلٰی أبدان الحشرات، وھٰذا قول المتناسخۃ، منکری المعاد، وھو قول خارج عن أقوال أھل الْإسلام کلھم۔ (کتاب الروح ص:۱۲۸ المسئلۃ الخامسۃ عشر)۔