بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

حادثاتی‌موت‌مرنے‌والے‌کی‌رُوح‌کا‌ٹھکانا

سوال:۔

ایک صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو ہنگامی موت یا حادثاتی موت مرجاتے ہیں یا کسی کے مارڈالنے سے، سو ایسے لوگوں کی رُوحیں برزخ میں نہیں جاتیں، وہ کہیں خلاء میں گھومتی رہتی ہیں اور متعلقہ افراد کو بسااوقات دھمکیاں دینے آجاتی ہیں۔ مگر مجھے یہ سب باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، میرا خیال ہے کہ رُوح پرواز کے بعد علّییّن یا سجین میں چلی جاتی ہے اور ہر ایک کے لئے برزخ ہے اور قیامت تک وہ وہیں رہتی ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری تشفی فرمائیے۔

جواب:۔

ان صاحب کا دعویٰ غلط ہے اور دورِ جاہلیت کی سی توہم پرستی پر مبنی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کا نظریہ صحیح ہے، مرنے کے بعد نیک اَرواح کا مستقر علّییّن ہے اور کفار و فجار کی اَرواح سجین کے قیدخانہ میں بند ہوتی ہیں۔(۱)

  1. (۱) ان مقر أرواح المؤمنین فی علّیّین ۔۔۔ ومقر أرواح الکفار فی سجین۔ (تفسیر مظہری ج:۱۰ ص:۲۲۵)۔ أیضًا: فقالت (أی أُم بشر) أما سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن نسمۃ المؤمن تسرح من الجنّۃ حیث شاءت ونسمۃ الکافر فی سجین مسجونۃ، قال: بلٰی، قالت: فھو ذٰلك۔ (شرح الصدور ص:۳۵۹، ذکر مقر الأرواح أیضًا ص:۲۳۲)۔ أیضًا: وأخرج الطبرانی فی مراسیل عمرو بن حبیب قال: سألت النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن أرواح المؤمنین، فقال: فی حواصل طیر خضر تسرح فی الجنّۃ حیث شاءت۔ قالوا: یا رسول اللہ! وأرواح الکفار؟ قال: محبوسۃ فی سجین۔ (رسالۃ بشری الكئیب ص:۳۵۹، ذکر مقر الأرواح، وشرح الصدور ص:۲۳۲ باب مقر الأرواح، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔