موتکےبعدکیاہوتاہے؟
کیارُوحکودُنیامیںگھومنےکیآزادیہوتیہے؟
سوال:۔
رُوح کو دُنیا میں گھومنے کی آزادی ہوتی ہے یا نہیں؟ کیا وہ جن جگہوں کو پہچانتی ہے، مثلاً گھر، وہاں جاسکتی ہے؟
جواب:۔
کفار و فجار کی رُوحیں تو ’’سجین‘‘ کی جیل میں مقید ہوتی ہیں، ان کے کہیں آنے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور نیک اَرواح کے بارے میں کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا گیا، اس لئے اس سلسلے میں قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔(۱) اصل بات یہ ہے کہ رُوح اپنے تصرفات کے لئے جسم کی محتاج ہے، جس طرح جسم رُوح کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا، اسی طرح رُوح بھی جسم کے بغیر تصرفات نہیں کرسکتی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ موت کے بعد اس ناسوتی جسم کے تصرفات ختم کردئیے جاتے ہیں، اس لئے مرنے کے بعد رُوح اگر کوئی تصرف کرسکتی ہے تو مثالی جسم سے کرسکتی ہے، چنانچہ احادیث میں انبیائے کرام، صدیقین، شہداء اور بعض صالحین کے مثالی جسم دئیے جانے کا ثبوت ملتا ہے۔(۲) خلاصہ یہ کہ جن اَرواح کو مرنے کے بعد مثالی جسم عطا کیا جاتا ہے وہ اگر باذنِ اللہ کہیں آتی جاتی ہوں تو اس کی نفی نہیں کی جاسکتی۔
مثلاً: لیلۃ المعراج میں انبیائے کرام علیہم السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کے لئے بیت المقدس میں جمع ہونا،(۳) شہداء کا جنت میں کھانا پینا اور سیر کرنا،(۴) اس کے علاوہ صالحین کے بہت سے واقعات اس قسم کے موجود ہیں لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ اس کے لئے کوئی ضابطہ متعین کرنا مشکل ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب اُحد سے واپس ہوئے تو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی قبر پر ٹھہرے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہو۔ (پھر صحابہؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا) پس ان کی زیارت کرو، اور ان کو سلام کہو، پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! نہیں سلام کہے گا ان کو کوئی شخص مگر یہ ضرور جواب دیں گے اس کو قیامت تک(حاکم، وصححہ بیہقی، طبرانی)۔(۵)
مسند احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد نقل کیا ہے کہ:
’’میں اپنے گھر میں (یعنی حجرۂ شریفہ روضۂ مطہرہ میں) داخل ہوتی تو پردے کے کپڑے اُتار دیتی تھی، میں کہا کرتی تھی کہ یہ تو میرے شوہر (صلی اللہ علیہ وسلم) اور میرے والد ماجد ہیں، لیکن جب سے حضرت عمرؓ دفن ہوئے، اللہ کی قسم! میں کپڑے لپیٹے بغیر کبھی داخل نہیں ہوئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی بنا پر‘‘ (مشکوٰۃ باب زیارۃ القبور ص:۱۵۴)۔(۶)
- (۱) فقالت (أی أُم بشر) أما سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن نسمۃ المؤمن تسرح من الجنّۃ حیث شاءت ونسمۃ الکافر فی سجین مسجونۃ، قال: بلٰی، قالت: فھو ذٰلك۔ (شرح الصدور ص:۳۵۹، ذکر مقر الأرواح أیضًا ص:۲۳۲)۔ أیضًا: وأخرج الطبرانی فی مراسیل عمرو بن حبیب قال: سألت النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن أرواح المؤمنین، فقال: فی حواصل طیر خضر تسرح فی الجنّۃ حیث شاءت۔ قالوا: یا رسول اللہ! وأرواح الکفار؟ قال: محبوسۃ فی سجین۔ (رسالۃ بشری الكئیب ص:۳۵۹، ذکر مقر الأرواح، وشرح الصدور ص:۲۳۲ باب مقر الأرواح)۔
- (۲) وقد رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ الْإسراء موسٰی قائمًا یصلّی فی قبرہ، ورآہ فی السماء السادسۃ، والروح ھناك کانت فی مثال البدن لھا إتصال بالبدن ۔۔۔ قال الحافظ ابن حجر: أرواح المؤمنین فی علّیّین، وأرواح الکافرین فی سجین، ولكل روح بجسدھا إتصال معنوی لَا یشبہ الْإتصال فی الحیاۃ الدنیا، بل أشبہ شیء بہ حال النائم، وإن کان ھو أشد من حال النائم إتصالًا، قال: ولھٰذا یجمع بین ما ورد أن مقرھا فی علّیّین أو سجّین، وبین ما نقلہ ابن عبدالبر، عن الجمھور أیضًا أنھا عند أفنیۃ قبورھا، قال: ومع ذٰلك، فھی مأذون لھا فی التصرف، وتأوی إلٰی محلھا من علّیّین أو سجّین۔ (بشری الكئیب بلقاء الحبیب ص:۳۶۳ ذکر مقر الأرواح طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، أیضًا: شرح الصدور ص:۲۴۰، ۲۴۴ باب مقر الأرواح)۔
- (۳) المسجد الأقصا وھو بیت المقدس الذی بإیلیاء، معدن الأنبیاء من لدن إبراھیم الخلیل علیہ السلام، ولھٰذا جمعوا لہ ھنالك کلھم، فأمّھم فی محلّتھم ودارھم، فدلّ علٰی أنہ ھو الْإمام الأعظم والرئیس المقدم صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم أجمعین۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۸۱، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
- (۴) عن مسروق قال: سألنا عبداللہ بن مسعود عن ھٰذہ الآیۃ: ﵟ وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ ﵞ الآیۃ، قال: انا قد سألنا عن ذٰلك فقال: أرواحھم فی أجواف طیر خضر، لھا قنادیل معلّقۃ بالعرش، تسرح من الجنّۃ حیث شاءت، ثم تأوی الٰی تلك القنادیل، فاطلع الیھم ربھم اطلاعۃً فقال: ھل تشتھون شیئًا؟ قالوا: أیّ شیء نشتھی ونحن نسرح من الجنّۃ حیث شئنا، ففعل ذٰلك بھم ثلٰث مرّات ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۳۰، ۳۳۴، کتاب الجھاد)۔
- (۵) وأخرج الحاكم وصححہ، والبیھقی، عن أبی ھریرۃ، رضی اللہ عنہ، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ وقف علٰی مصعب بن عمیر حین رجع من أُحد فوقف علیہ وعلٰی أصحابہ، فقال: أشھد أنكم أحیاء عند اللہ، فزوروھم وسلموا علیھم، فوالذی نفسی بیدہ! لَا یسلم علیھم أحد إلّا ردوا علیہ إلٰی یوم القیامۃ۔ (شرح الصدور ص:۲۰۳، باب زیارۃ القبور وعلم الموتٰی بزوارھم، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
- (۶) عن عائشۃ قالت: كنت ادخل بیتی الذی فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وانی واضع ثوبی، وأقول انما ھو زوجی وأبی، فلما دفن عمر معھم فواللہ! ما دخلتہ اِلّا وأنا مشدودۃ علیّ ثیابی حیاء من عمر۔ رواہ أحمد۔ (مشکوٰۃ ص:۱۵۴)۔

