موتکےبعدکیاہوتاہے؟
دفنانےکےبعدرُوحاپناوقتکہاںگزارتیہے؟
سوال:۔
دفنانے کے بعد رُوح اپنا وقت آسمان پر گزارتی ہے یا قبر میں یا دونوں جگہ؟
جواب:۔
اس بارے میں روایات بھی مختلف ہیں اور علماء کے اقوال بھی مختلف ہیں۔ مگر تمام نصوص کو جمع کرنے سے جو بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ نیک اَرواح کا اصل مستقر علّییّن ہے(۱) (مگر اس کے درجات بھی مختلف ہیں)، بد اَرواح کا اصل ٹھکانا سجین ہے۔(۲) اور ہر رُوح کا ایک خاص تعلق اس کے جسم کے ساتھ کردیا جاتا ہے، خواہ جسم قبر میں مدفون ہو یا دریا میں غرق ہو، یا کسی درندے کے پیٹ میں۔ الغرض جسم کے اجزاء جہاں جہاں ہوں گے، رُوح کا ایک خاص تعلق ان کے ساتھ قائم رہے گا اور اسی خاص تعلق کا نام ’’برزخی زندگی‘‘ ہے۔ جس طرح نورِ آفتاب سے زمین کا ذرّہ چمکتا ہے، اسی طرح رُوح کے تعلق سے جسم کا ہر ذرّہ ’’زندگی‘‘ سے منوّر ہوجاتا ہے، اگرچہ برزخی زندگی کی حقیقت کا اس دُنیا میں معلوم کرنا ممکن نہیں۔(۳)
- (۱) ان کتاب الأبرار مرفوع فی علّیّین علٰی قدر مرتبتھم، وقال الضحاك ومجاھد وقتادۃ یعنی السماء السابعۃ فیھا أرواح المؤمنین۔ (تفسیر قرطبی ج:۱۹ ص:۲۶۲، طبع مصر)۔
- (۲) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: ان أرواح الفجار وأعمالھم لفی سجّین۔ (تفسیر قرطبی ج:۱۹ ص: ۲۵۷)۔
- (۳) الأمر الثامن: أنہ غیر ممتنع أن یرد الروح إلی المصلوب، والغریق والمحرق، ونحن لَا نشعر بھا، لأن ذٰلك الرد نوع آخر غیر معھود، فھٰذا المغمی علیہ، والمسکوت، والمبھوت أحیاء وأرواحھم معھم، ولَا تشعر بحیاتھم، ومن تفرقت أجزاؤہ لَا یمتنع علٰی من ھو علٰی کل شیء قدیر أن یجعل للروح إتصالًا بتلك الأجزاء ۔۔۔ وفی تلك الأجزاء شعور بنوع من الألم واللذۃ۔ (کتاب الروح ص:۱۰۰، ۱۰۱ المسئلۃ السابعۃ)۔ أیضًا: وأعلم ان أھل الحق إتفقوا علٰی أن اللہ تعالٰی یخلق فی المیت نوح حیاۃ فی القبر قدر ما یتألم أو یتلذذ۔ (شرح فقہ أكبر ص:۱۲۲ طبع دھلی)۔ أیضًا: وقد مثل ذٰلك بعضھم بالشمس فی السماء وشعاعھا فی الأرض۔ (شرح الصدور ص:۳۶۳ ذکر مقر الأرواح، طبع بیروت)۔

