بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

کیا‌رُوح‌اور‌جان‌ایک‌ہی‌چیز‌ہے؟

سوال:۔

کیا انسان میں رُوح اور جان ایک ہی چیز ہے یا رُوح علیحدہ اور جان علیحدہ چیز ہے؟ کیا جانوروں کے ساتھ بھی یہی چیز ہے؟ جب انسان دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو کیا جان اور رُوح دوبارہ ڈالی جائے گی؟

جواب:۔

انسان اور حیوان کے درمیان جو چیز امتیاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حیوان کے اندر تو ’’رُوحِ حیوانی‘‘ ہوتی ہے جس کو ’’جان‘‘ کہتے ہیں، اور انسان میں اس ’’رُوحِ حیوانی‘‘ کے علاوہ ’’رُوحِ انسانی‘‘ بھی ہوتی ہے، جس کو ’’نفسِ ناطقہ‘‘ یا ’’رُوحِ مجرد‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اور ’’رُوحِ حیوانی‘‘ اس نفسِ ناطقہ کے لئے مرکب کی حیثیت رکھتی ہے، موت کے وقت رُوحِ حیوانی تحلیل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے رُوحِ انسانی اور نفسِ ناطقہ کا انسانی بدن سے تدبیر و تصرف کا تعلق منقطع ہوجاتا ہے۔(۱) برزخ میں بدن سے رُوح کا تعلق تدبیر وتصرف کا نہیں رہتا، بس اتنا تعلق فی الجملہ باقی رہتا ہے جس سے میّت کو برزخی ثواب و عذاب کا ادراک ہوسکے۔ قیامت کے دن جب مردوں کو زندہ کیا جائے گا تو رُوح اور بدن کے درمیان پھر وہی تعلق قائم ہوجائے گا۔(۲)

  1. (۱) الروح الانسان، قال السیّد ھی اللطیفۃ العاملۃ المدركۃ من الْإنسان الراكبۃ علی الروح الحیوانی، نازل من عالم الأمر تعجز العقول عن ادراك كنھہ، وتلك الروح قد تکون مجردۃ قد تکون منطبقۃ فی البدن۔ الروح الحیوانی جسم لطیف منبعہ تجویف القلب الجسمانی وینتشر بواسطۃ العروق الضوارب الٰی سائر أجزاء البدن۔ (قواعد الفقہ ص:۳۱۱)۔
  2. (۲) واعلم أن أھل الحق اتفقوا علٰی ان اللہ تعالٰی یخلق فی المیّت نوع حیاۃ فی القبر قدر ما یتألم أو یتلذذ۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۲۲، طبع دہلی)۔