بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

کیا‌جمعہ‌کے‌دن‌وفات‌پانے‌والے‌سے‌سوالِ‌قبر‌نہیں‌ہوتا؟

سوال:۔

جو شخص جمعۃ المبارک کے دن فوت ہوگا یا رمضان شریف میں، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیں گے، بغیر حساب کے۔ بعض کا یہ کہنا ہے کہ حساب ضرور ہوگا، آپ سے گزارش یہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب سے مشکور فرمائیں۔

جواب:۔

حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے ’’شر ح الصدور‘‘ میں ابو القاسم سعدی کی ’’کتابُ الروح‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جمعہ کے دن یا شبِ جمعہ کو وفات پانے والے سے سوالِ قبر نہیں ہوتا۔(۱) اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے ایک مرسل روایت نقل کی ہے کہ جمعہ کے دن وفات پانے والے کو شہید کا ثواب ملتا ہے،(۲) واللہ اعلم!

  1. (۱) قال أبو القاسم السعدی فی کتاب الروح: ورد فی أخبار الصحاح أن بعض الموتی لَا ینالھم فتنۃ القبر ولَا یأتیھم الفتانان ۔۔۔ وأخرج أحمد والترمذی وحسنہ وابن أبی الدنیا والبیھقی عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من مسلم یموت یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ إلّا وقَّاہ اللہ فتنۃ القبر۔ (شرح الصدور ص:۱۴۶، ۱۴۹ باب من لَا یسئل فی القبر، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
  2. (۲) (قولہ والمیّت لیلۃ الجمعۃ) أخرج حمید بن زنجویہ فی فضائل الأعمال عن مرسل أیاس بن بکیر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من مات یوم الجمعۃ کتب لہ أجر شھید۔ (شامی ج:۲ ص:۲۵۲، طبع سعید)۔