موتکےبعدکیاہوتاہے؟
قبرمیںجسمسےرُوحکاتعلق
سوال:۔
انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی رُوح اپنے مقام پر چلی جاتی ہے لیکن مُردے سے جب قبر میں سوال و جواب ہوتا ہے تو کیا پھر رُوح کو مردہ جسم میں لوٹادیا جاتا ہے؟ یا اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے مُردے کو قوّتِ گویائی عطا کردیتا ہے؟ قبر میں عذاب صرف جسم کو ہوتا ہے یا رُوح کو بھی برابر کا عذاب ہوتا ہے؟
جواب:۔
حدیث پاک میں رُوح کے لوٹانے کا ذکر آتا ہے، جس سے مراد ہے جسم سے رُوح کا تعلق قائم کردیا جانا۔(۱) رُوح خواہ علّییّن میں ہو یا سجین میں، اس کو بدن سے ایک خاص نوعیت کا تعلق ہوتا ہے، جس سے بدن کو بھی ثواب و عذاب اور رنج وراحت کا ادراک ہوتا ہے۔(۲) عذاب و ثواب تو رُوح و بدن دونوں کو ہوتا ہے، مگر دُنیا میں رُوح کو بواسطہ بدن راحت و الم کا ادراک ہوتا ہے، اور برزخ یعنی قبر میں بدن کو بواسطہ رُوح کے احساس ہوتا ہے،(۳) اور قیامت میں دونوں کو بلاواسطہ ہوگا۔(۴)
نوٹ:۱:۔ ’’علّییّن‘‘ کا مادّہ علوّ ہے، اور اس کا معنی بلندی ہے، یعنی علّییّن آسمانوں پر ایک بہت ہی عالی شان مقام ہے، جہاں نیک لوگوں کی اَرواح پہنچائی جاتی ہیں، وہاں ملاء اعلیٰ کی جماعت ان مقرّبین کی اَرواح کا استقبال کرتی ہے۔(۵)
۲:۔ ’’سجّین‘‘ کا مادّہ سجن ہے اور سجن عربی زبان میں قیدخانے کو کہتے ہیں، اس میں تنگی، ضیق اور پستی کا معنی پایا جاتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ سجین ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔(۶) غرض بدکاروں کے اعمال و اَرواح مرنے کے بعد اسی قیدخانے میں رکھی جاتی ہیں، جبکہ نیک لوگوں کے اعمال اور اَرواح ساتوں آسمانوں سے اُوپر موجود علّییّن میں نہایت اِعزاز و اِکرام کے ساتھ رکھی جاتی ہیں۔
- (۱) أیضًا: (وفی حدیث طویل) عن البراء بن عازب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ۔۔۔ وأما الکافر فذکر موتہ قال: ویعاد روحہ فی جسدہ ۔۔۔إلخ۔ (مشكٰوۃ ص:۲۵، باب إثبات عذاب القبر)۔ واعادۃ الروح الی العبد أی جسدہ ۔۔۔ فی قبرہ حق۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۲۱)۔
- (۲) ان مقر أرواح المؤمنین فی علّیّین ۔۔۔ ومقر أرواح الکفار فی سجّین ومع ذٰلك لكل روح منھا اتصال بجسدہ ۔۔۔ ویحس اللذۃ والألم ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر مظہری ج:۱۰ ص:۲۲۴، ۲۲۵)۔
- (۳) وقد سئل شیخ الْإسلام عن ھٰذہ المسئلۃ، ونحن نذکر لفظ جوابہ فقال: بل العذاب والنعیم علی النفس والبدن جمیعًا بإتفاق أھل السنۃ والجماعۃ۔ (کتاب الروح ص:۷۲ المسئلۃ السادسۃ)۔ وأیضًا: (الأمر الثالث) ان اللہ سبحانہ جعل الدور ثلاثًا، دار الدنیا، ودار البرزخ، ودار القرار، وجعل لكل دار أحکامًا تختص بھا، وركَّب ھٰذا الْإنسان من بدن ونفس وجعل أحکام دار الدنیا علی الأبدان والأرواح تبعًا لھا، ولھٰذا جعل أحکامہ الشرعیۃ مرتبۃ علٰی ما یظھر من حرکات اللسان والجوارح وإن أضمرت النفوس خلافہ، وجعل أحکام البرزخ علی الأرواح والأبدان تبعًا لھا ۔۔۔ فالأبدان ھنا ظاھرۃ والأرواح خفیۃ، والأبدان کالقبور لھا، والأرواح ھناك ظاھر والأبدان خفیۃ فی قبورھا، تجری أحکام البرزخ علی الأرواح فتسری إلٰی أبدانھا نعیمًا أو عذابًا ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۸۸، ۸۹ المسئلۃ السابعۃ)۔
- (۴) فإذا کان یوم القیامۃ الكبریٰ وُفِّیَ أھل الطاعۃ وأھل المعصیۃ ما یستحقونہ من نعیم الأبدان والأرواح وعذابھا ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۱۰۴ المسئلۃ السابعۃ، الأمر العاشر، ان الموت معاد وبعث أول)۔
- (۵) ان أرواح المؤمنین اذا قبضت صعد بھا الی السماء وفتحت لھا أبواب السماء وتلقتہ الملٰئكۃ بالبشریٰ ۔۔۔ فی علّیّین ھی فوق السماء السابعۃ ۔۔۔ وقیل معناہ علو فی علو مضاعف کأنہ لَا غایۃ لہ۔ (تفسیر قرطبی ج:۱۹ ص:۲۶۲)۔
- (۶) سجین أسفل الأرض السابعۃ ۔۔۔ وقال أبو عبیدۃ والأخفش ’’لَفِی سِجِّیْن‘‘ لفی حبس وضیق شدید۔ (تفسیر قرطبی ج:۱۹ ص:۲۵۸، طبع دار الکتب المصریۃ)۔

