موتکےبعدکیاہوتاہے؟
عذابِقبرکااحساسزندہلوگوںکوکیوںنہیںہوتا؟
سوال:۔
ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ گناہگار بندے کو قبر کا عذاب ہوگا، پُرانے زمانے میں مصری لاشوں کو محفوظ کرلیا کرتے تھے، اور آج کل اس سائنسی دور میں بھی لاشیں کئی ماہ تک سردخانوں میں پڑی رہتی ہیں، چونکہ قبر میں نہیں ہوتیں تو پھر اسے عذابِ قبر کیسے ہوگا؟
جواب:۔
آپ کے سوال کا منشا یہ ہے کہ آپ نے عذابِ قبر کو اس گڑھے کے ساتھ مخصوص سمجھ لیا ہے، جس میں مُردے کو دفن کیا جاتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں، بلکہ عذابِ قبر نام ہے اس عذاب کا جو مرنے کے بعد قیامت سے پہلے ہوتا ہے، خواہ میّت کو دفن کردیا جائے یا سمندر میں پھینک دیا جائے یا جلادیا جائے یا لاش کو محفوظ کرلیا جائے۔(۱) اور یہ عذاب چونکہ دُوسرے عالم کی چیز ہے، اس لئے اس عالم میں اس کے آثار کا محسوس کیا جانا ضروری نہیں، اس کی مثال خواب کی سی ہے، خواب میں بعض اوقات آدمی پر سخت تکلیف دہ حالت گزرتی ہے لیکن پاس والوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
- (۱) ومما ینبغی أن یعلم ان عذاب القبر ھو عذاب البرزخ فكل من مات وھو مستحق للعذاب نالہ نصیبہ منہ قبر أولم یقبر، فلو أكلتہ السباع أو احرق حتّٰی صار رمادًا ۔۔۔ وصل الٰی روحہ وبدنہ من العذاب ما یصل الی المقبور۔ (کتاب الروح ص:۸۱ طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

