بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

کیا‌مُردے‌کو‌عذاب‌اسی‌قبر‌میں‌ہوتا‌ہے؟

سوال:۔

ہمارے ایک جاننے والے کہتے ہیں کہ مُردے کو عذاب جس قبر میں دفناتے ہیں، اس میں اس کو عذاب نہیں ہوتا، کیونکہ اگر کوئی دریا میں ڈُوب کر مرجائے یا کسی کو جنگل میں کوئی درندہ کھالے تو اس کی قبر کہاں ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ مُردے کو عذاب برزخ میں ہوتا ہے۔ آپ جناب وضاحت فرمادیں۔

جواب:۔

مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھنے تک جو وقفہ گزرتا ہے، اس کو ’’برزخ‘‘ کہتے ہیں، اور اس وقفے میں جو زندگی انسان کو حاصل ہوتی ہے اس کو ’’برزخی زندگی‘‘ کہتے ہیں، قبر کا عذاب و ثواب اسی گڑھے میں ہوتا ہے، مگر اس کا تعلق دُنیا سے نہیں، برزخ سے ہے۔(۱)

  1. (۱) واعلم أن عذاب القبر ھو عذاب البرزخ ۔۔۔ الٰی قولہ ۔۔۔ فالحاصل ان الدور ثلاث، دار الدنیا، دار البرزخ، دار القرار ۔۔۔ و جعل أحکام البرزخ علی الأرواح والأبدان تبع لھا ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویہ ص:۴۵۲)۔ (الأمر التاسع) أنہ ینبغی أن یعلم ان عذاب القبر ونعیمہ اسم لعذاب البرزخ ونعیمہ وھو ما بین الدنیا والآخرۃ، قال تعالٰی: ﵟ وَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ﵞ وھٰذا البرزخ یشرف أھلہ فیہ علی الدنیا والآخرۃ، وسمی عذاب القبر ونعیمہ وانہ روضۃ أو حفرۃ نار بإعتبار غالب الحق فالمصلوب والحرق والغرق وأکیل السباع والطیور لہ من عذاب البرزخ ونعیمہ قسطہ الذی تقتضیہ أعمالہ وإن تنوعت اسباب النعیم والعذاب وکیفیاتھما۔ (کتاب الروح ص:۱۰۲، المسئلۃ السابعۃ)۔