موتکےبعدکیاہوتاہے؟
حشرکےحسابسےپہلےعذابِقبرکیوں؟
سوال:۔
حشر کے روز اِنسان کو اس کے حساب کتاب کے بعد جزا یا سزا ملے گی، پھر یہ حساب کتاب سے پہلے عذابِ قبر کیوں؟ ابھی تو اس کا مقدمہ ہی پیش نہیں ہوا اور فیصلے سے پہلے سزا کا عمل کیوں شروع ہوجاتا ہے؟ مجرم کو قید تو کیا جاسکتا ہے، مگر فیصلے سے پہلے اسے سزا نہیں دی جاتی، پھر یہ عذابِ قبر کس مد میں جائے گا؟ برائے کرم تفصیل سے جواب عنایت فرماکر مشکور فرمائیں۔
جواب:۔
پوری جزا و سزا تو آخرت ہی میں ملے گی۔ جبکہ ہر شخص کا فیصلہ اس کے اعمال کے مطابق چکایا جائے گا، لیکن بعض اعمال کی کچھ جزا و سزا دُنیا میں بھی ملتی ہے، جیسا کہ بہت سی آیات و احادیث میں یہ مضمون آیا ہے، اور تجربہ و مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اسی طرح بعض اعمال پر قبر میں بھی جزا و سزا ہوتی ہے، اور یہ مضمون بھی احادیثِ متواترہ میں موجود ہے۔(۱) اس سے آپ کا یہ شبہ جاتا رہا کہ ابھی مقدمہ ہی پیش نہیں ہوا تو سزا کیسی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پوری سزا تو مقدمہ پیش ہونے اور فیصلہ چکائے جانے کے بعد ہی ہوگی، برزخ میں جو سزا ہوگی اس کی مثال ایسی ہے جیسے مجرم کو حوالات میں رکھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے برزخ کی سزا کفارۂ سیئات بن جائے، جیسا کہ دُنیوی پریشانیاں اور مصیبتیں اہلِ ایمان کے لئے کفارۂ سیئات ہیں۔ بہرحال قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سے ہر مؤمن کو پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد عذابِ قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ متفق علیہ (مشکوٰۃ ص:۲۵)۔(۲)
- (۱) عن ابن عباس قال: مرّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقربین فقال: إنھما لیعذبان وما یعذبان فی كبیر، أما أحدھما فکان لَا یستتر من البول، وفی روایۃ لمسلم: لَا یستترہ من البول، وأما الآخر فکان یمشی بالنمیمۃ ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ، باب آداب الخلاء ص:۴۲)۔
- (۲) عن عائشۃ ۔۔۔ قالت عائشۃ: فما رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد صلّٰی صلٰوۃ اِلّا تعوَّذ باللہ من عذاب القبر۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ، باب اثبات عذاب القبر ص:۲۵)۔

