موتکےبعدکیاہوتاہے؟
قبرکاعذابکسحسابسےاورکبتکدیاجاتاہے؟
سوال:۔
انسان کے مرنے کے بعد کیا قبر میں جزا و سزا مل جاتی ہے، اگر قبر میں جزا و سزا اس کے اعمال کے مطابق دے دی جاتی ہے تو قیامت کے بعد کس طرح فیصلہ کیا جائے گا؟ کیونکہ اعمال کی جزا و سزا تو قبر میں مل گئی۔ اگر ایک انسان اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے قبر میں سزا بھگت رہا ہے اور اس نے قبر میں سو سال، دو سو سال سزا پائی تو کیا قیامت میں اس کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا؟ کیا اس کے اعمالِ بد کی وجہ سے اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جبکہ وہ قبر میں کافی مدّت اپنی سزا پاچکا ہے؟ کیا قبر میں سزا کی مدّت مقرّر ہے کہ اتنی مدّت کے بعد اسے عذاب سے نجات مل جائے گی؟ یا اس کی مدّت روزِ قیامت ہے؟ ایسا ہے تو جو لوگ قیامت سے ہزار برس پہلے مرگئے وہ تو ایک بڑی مصیبت میں پڑگئے اور جو قیامت سے چند گھنٹے پہلے مرا اس کا فیصلہ جلد ہوگیا۔
جواب:۔
قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے۔(۱) قرآنِ کریم میں اِجمالاً اس کا ذکر ہے،(۲) اور بہت سی احادیث میں تفصیلاً،(۳)اور اس پر اہلِ حق اہلِ سنت والجماعت کا اجماع و اتفاق بھی ہے۔(۴) نیک و بد اَعمال کی کچھ نہ کچھ سزا و جزا دُنیا میں بھی ملتی ہے، اور کچھ قبر میں ملتی ہے،(۵) پوری آخرت میں ملے گی۔ دُنیوی سزا اور قبر کی سزا کے باوجود جس شخص کی بدیوں کا پلہ بھاری ہوگا، اس کو دوزخ کی سزا بھی ملے گی، حق تعالیٰ شانہ‘ اپنی رحمت سے معاف فرمادیں تو ان کی شانِ کریمی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مسلمان کے لئے دُنیوی سزا اور قبر کی سزا سے دوزخ کے عذاب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔(۶) عذابِ قبر کب تک رہتا ہے؟ اس سلسلے میں کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی، کیونکہ لوگوں کے حالات مختلف ہیں، اور ان کے حالات کے مطابق کم یا زیادہ عذاب ہوتا ہے۔ ان تحقیقات کے بجائے آدمی کے کام کی چیز یہ ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ کون کون سی چیزیں بطور خاص عذابِ قبر کی موجب ہیں، تاکہ ان سے بچنے کا اہتمام کیا جائے، اور کون کون سی چیزیں عذابِ قبر سے بچانے والی ہیں، تاکہ ان کے کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ افسوس ہے! کہ ہم لوگ غیرضروری باتیں پوچھتے ہیں اور ضرورت کی چیز نہیں پوچھتے۔
تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: کتاب الروح ص:۷۲ تا ۱۱۰، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت، وشرح الصدور ص:۱۶۰ تا ۱۸۲، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔
- (۱) وعذاب القبر للکافرین، ولبعض عصاۃ المؤمنین، وسؤال منکر ونکیر، ثابت بالدلَائل السمعیۃ، لأنھا من أمور الممکنۃ۔ (شرح عقائد ص:۹۸، ۹۹، طبع مکتبہ خیر کثیر کراچی)۔
- (۲) (الأصل الثالث) عذاب القبر، وقد ورد الشرع بہ، قال اللہ تعالٰی: ﵟ ٱلنَّارُ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا غُدُوّٗا وَعَشِيّٗاۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدۡخِلُوٓاْ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ أَشَدَّ ٱلۡعَذَابِ ٤٦ ﵞ واشتھر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والسّلف الصالح الْإستعاذۃ من عذاب القبر۔ (إحیاء علوم الدین ج:۱ ص:۱۱۴، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۳) وقد تواترت الأخبار عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ثبوت عذاب القبر ونعیمہ لمن کان لِذالك أھلًا۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۵۰)۔ قالت عائشۃ رضی اللہ عنھا: فما رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد، صلّٰی صلٰوۃ إلّا تعوّذ باللہ من عذاب القبر۔ متفق علیہ۔ (مشكٰوۃ ص:۲۵، باب إثبات عذاب القبر)۔
- (۴) فصل: فإذا عرفت ھٰذہ الأقوال الباطلۃ فلتعلم أنہ مذھب سلف الاُمّۃ وأئمتھا ان المیت إذا مات یکون فی نعیم أو عذاب وإن ذٰلك یحصل لروحہ وبدنہ۔ (کتاب الروح لِابن قیم ص:۷۳، ۷۴ المسئلۃ السادسۃ)۔ أیضًا: بل العذاب والنعیم علی النفس والبدن جمیعًا بإتفاق أھل السُّنَّۃ والجماعۃ ۔۔۔إلخ۔ (کتاب الروح ص:۷۲)۔
- (۵) وعن أبی سعید عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما یصیب المسلم من نصب ولَا وصب ولَا ھمّ ولَا حزن ولَا أذی ولَا غم حتّی الشوكۃ یشاکھا إلّا کفّر اللہ بھا من خطایاہ۔ متفق علیہ۔ (مشكٰوۃ ص:۱۳۴)۔ وعن أبی بکرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل الذنوب یغفر اللہ منھا ما شاء إلّا عقوق الوالدین فإنہ یعجّل لصحابہ فی الحیٰوۃ قبل الممات۔ وعن أبی بکرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من ذنب احری ان یعجّل اللہ لصاحبہ العقوبۃ فی الدنیا مع ما یدخّر لہ فی الآخرۃ من البغی وقطیعۃ الرحم۔ رواہ الترمذی، وأبوداوٗد۔ (مشكٰوۃ ص:۴۲۰، ۴۲۱، باب البر والصلۃ)۔
- (۶) لو کان علیہ ذنب لکفر بعذاب القبر، وان لم ینج منہ، أی: لم یتخلص من عذاب القبر ولم یکفر ذنوبہ بہ، وبقی علیہ شیء مما یستحق العذاب بہ، فما بعدہ أشد منہ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ ج:۱ ص:۱۷۲، باب إثبات عذاب القبر)۔

