موتکےبعدکیاہوتاہے؟
قبرکاعذاببرحقہے؟
سوال:۔
فرض کریں تین اشخاص ہیں، تینوں کی عمریں برابر ہیں اور تینوں برابر کے گناہ کرتے ہیں، لیکن پہلا شخص صدیوں پہلے مرچکا ہے، دُوسرا قیامت سے ایک روز پہلے مرے گا اور جبکہ تیسرا قیامت تک زندہ رہتا ہے۔ اگر قبر کا عذاب برحق ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا تو اس رُو سے پہلا شخص صدیوں سے قیامت تک قبر کے عذاب میں رہے گا، دُوسرا شخص صرف ایک دن قبر کا عذاب اُٹھائے گا، جبکہ تیسرا قبر کے عذاب سے بچ جائے گا، کیونکہ وہ قیامت تک زندہ رہتا ہے، لیکن قبر کے عذاب میں یہ تفریق نہیں ہوسکتی، کیونکہ تینوں کی عمریں برابر ہیں اور گناہ بھی برابر ہیں۔ آپ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
جواب:۔
قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے اورا س بارے میں قرآنِ کریم کی متعدّد آیات اور احادیثِ متواترہ وارِد ہیں،(۱) ایسے اُمور کو محض عقلی شبہات کے ذریعہ رَدّ کرنا صحیح نہیں۔(۲) ہر شخص کے لئے برزخ کی جتنی سزا حکمتِ اِلٰہی کے مطابق مقرّر ہے وہ اس کو مل جائے گی،(۳) خواہ اس کو وقت کم ملا ہو یا زیادہ، کیونکہ جن لوگوں کا وقت کم ہو، ہوسکتا ہے کہ ان کی سزا میں اسی تناسب سے اضافہ کردیا جائے۔ عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے،(۴) اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھے۔
- (۱) وعذاب القبر للکافرین ولبعض عصاۃ المؤمنین وتنعیم أھل الطاعۃ فی القبر ۔۔۔ ثابت بالدلَائل السمعیۃ۔ (شرح عقائد ص:۹۸)۔ ونؤمن ۔۔۔ بعذاب القبر لمن کان أھلًا ۔۔۔ علٰی ما جاءت بہ الأخبار عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعن الصحابۃ رضوان اللہ علیھم أجمعین، والقبر روضۃ من ریاض الجنّۃ أو حفرۃ من حفر النیران ۔۔۔الخ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۴۷، طبع المکتبۃ السلفیۃ لَاہور)۔
- (۲) قال المروزی: قال أبوعبداللہ: عذابا لقبر حق لَا ینکرہ إلّا ضال أو مضل۔ (کتاب الروح لِابن القیم ص:۸۰، المسئلۃ السادسۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
- (۳) فصل: ومما ینبغی أن یعلم أن عذاب القبر ھو عذاب البرزخ فكل من مات وھو مستحق للعذاب نالہ نصیب منہ، قبر أو لم یقبر۔ (ایضًا کتاب الروح ص:۸۱)۔
- (۴) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ۔۔۔ قالت عائشۃ رضی اللہ عنھا: فما رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: بعد صلّٰی صلاۃ اِلّا تعوذ باللہ من عذاب القبر۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الأوّل)۔

