بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

فتنۂ‌قبر‌سے‌کیا‌مراد‌ہے؟

سوال:۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دُعا کیا کرتے تھے کہ: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے (جو آدمی کو بالکل ہی ازکار رفتہ کردے) اور قرضے کے بوجھ سے اور ہر گناہ سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں آگ کے عذاب سے اور آگ کے فتنے سے اور فتنۂ قبر سے اور عذابِ قبر سے، اور دولت و ثروَت کے فتنے سے اور مفلسی اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، اور فتنۂ مسیح دجال کے شر سے، اے میرے اللہ! میرے گناہوں کے اثرات دھو دے اولے اور برف کے پانی سے اور میرے دِل کو (گندے اعمال اور اخلاق کی گندگیوں سے) اس طرح پاک فرما جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دُوری پیدا کردے جتنی دُوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کردی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری اور مسلم)۔

مولانا صاحب! آپ سے معلوم کرنا تھا کہ اس دُعا میں عذابِ قبر سے تو قبر کا عذاب مراد ہے، ’’فتنۂ قبر‘‘ سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد قبرپرستی کا فتنہ ہوسکتا ہے؟ جس نے آج اُمتِ مسلمہ میں شرک اور بت پرستی کے دروازے کھول رکھے ہیں۔

سوال:۔

آگ کے عذاب سے تو دوزخ کا عذاب ہی مراد ہے، مگر ’’فتنۂ نار‘‘ یا ’’آگ کے فتنے‘‘ سے کیا مراد ہے؟

جواب:۔

’’فتنۂ قبر‘‘ سے قبر کے اندر فرشتوں کا سوال و جواب مراد ہے۔ ’’فتنہ‘‘ کے معنی آزمائش اور امتحان کے بھی آتے ہیں۔(۱)

جواب:۔

دونوں کا ایک ہی مطلب ہے، ’’فتنہ‘‘ کے ایک معنی عذاب کے بھی ہیں۔(۲)

  1. (۱) عن أسماء بنت أبی بکر (رضی اللہ عنھما) قالت: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطیبًا، فذکر فتنۃ القبر التی یفتن فیھا المرء، فلما ذکر ذٰلك ضج المسلمون ضجّۃ۔ رواہ البخاری۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶)۔ ونؤمن بعذاب القبر لمن کان لہ أھلًا، وسؤال منکر ونکیر فی قبرہ عن ربِّہ ودینہ ونبیّہ علٰی ما جاءت بہ الأخبار عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔الخ۔ (عقیدۃ الطحاویۃ مع شرحہ ص:۴۴۷)، وفی المرقاۃ: فتنۃ القبر أی وعذابہ أو ابتلائہ والْإمتحان فیہ۔ (ج:۱ ص:۱۷۵)۔
  2. (۲) فذکر فتنۃ القبر أی وعذابہ أو ابتلائہ والْإمتحان فیہ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۷۵، طبع بمبئی)۔