بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

کیا‌قبر‌میں‌آنحضرت‌صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم‌کی‌شبیہ‌دِکھائی‌جاتی‌ہے؟

سوال:۔

ہماری فیکٹری میں ایک صاحب فرمانے لگے کہ جب کسی مسلمان کا انتقال ہوجائے اور اس سے سوال جواب شروع ہوتے ہیں تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو قبر میں بذاتِ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں۔ تو اس پر دُوسرے صاحب کہنے لگے کہ نہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود نہیں آتے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ مردے کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ تو مولانا صاحب! ذرا آپ وضاحت فرمادیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پورے جسمانی وجود کے ساتھ قبر میں آتے ہیں یا ان کی ایک طرح سے تصویر مردے کے سامنے پیش کی جاتی ہے، اور اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا جاتا ہے؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود تشریف لانا یا آپ کی شبیہ کا دِکھایا جانا کسی روایت سے ثابت نہیں۔(۱)

  1. (۱) وفی روایۃ عند أحمد والطبرانی: ما تقول فی ھٰذا الرجل؟ قال: من؟ قال: محمد، فیقول ۔۔۔إلخ۔ قال ابن حجر: ولَا یلزم من الْإشارۃ ما قیل من رفع الحجب بین المیت وبینہ صلی اللہ علیہ وسلم حتّٰی یراہ ویسئل عنہ لأن مثل ذٰلك لَا یثبت بالْإحتمال علٰی أنہ مقام إمتحان وعدم رؤیۃ شخصہ الکریم أقویٰ فی الْإمتحان، قلت: وعلٰی تقدیر صحتہ یحتمل أن یکون مفید البعض دون بعض، والأظھر أن یکون مختصا بمن أدرکہ فی حیاتہ علیہ الصلاۃ والسلام وتشرف برُؤیۃ طلعتہ الشریفۃ۔ (مرقاۃ شرح مشكٰوۃ ج:۱ ص:۱۶۵، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الأوّل)۔