بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

زندگی‌سے‌بیزار‌ہوکر‌موت‌کی‌دُعائیں‌کرنا

سوال:۔

زید اپنی زندگی سے بیزار ہے، اس لئے وہ اپنی موت کی دُعائیں مانگتا ہے، کیا اس حالت میں اس کا یہ فعل جائز ہے؟

جواب:۔

حدیث شریف میں ہے کہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔(۱) دراصل موت مانگنے کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ کوئی شخص دُنیوی مصائب و آلام کی وجہ سے موت مانگتا ہے، یہ جائز نہیں، بلکہ عقلاً بھی یہ احمقانہ حرکت ہے، اس لئے کہ مرنے کے بعد کی تکلیف کا تحمل اس سے بھی زیادہ مشکل ہوگا۔ مرزا غالبؔ کے بقول:

اب تو گھبراکے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

پھر یہاں تو کم سے کم کوئی غم خواری کرنے والا ہوگا، کوئی معالج و تیماردار ہوگا، کوئی حال اَحوال پوچھنے والا ہوگا، قبر میں تو قیدِ تنہائی ہے۔ (یا اللہ! تیری پناہ!) اور پھر دُنیا کے مصائب میں ایک چیز موجبِ تسکین رہتی ہے کہ زندگی فانی ہے اور زندگی کے مصائب بھی ختم ہونے والے ہیں، قبر میں تو یہ آس بھی نہیں رہے گی۔ اس لئے مصیبت پر گھبراکر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہئے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگنی چاہئے، اور صبر و شکر کے ساتھ راضی برضا رہنا چاہئے۔

دُوسری صورت یہ ہے کہ آدمی فتنوں سے بچنے کے لئے موت کی تمنا کرے، اس کی اجازت ہے، چنانچہ ایک حدیث میں یہ دُعا منقول ہے: ’’یا اللہ! جب آپ کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ فرمائیں تو مجھے تو فتنے میں ڈالے بغیر ہی قبض کرلیجئے‘‘۔(۲)

تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں موت کا مشتاق ہو، کیونکہ موت وہ پل ہے ’’جو دوست کو دوست تک پہنچاتا ہے‘‘۔(۳) لقائے اِلٰہی کے شوق میں موت کو چاہنا حضراتِ اولیاء اللہ کی شان ہے، لیکن تقاضائے ادب یہ ہے کہ اس حالت میں بھی زبان سے موت نہ مانگنی چاہئے، اِلَّا یہ کہ یہ جذبہ اتنا غالب ہوجائے کہ آدمی کو بے بس کردے۔

  1. (۱) وعن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا یتمنّینَّ أحدكم الموت من ضرّ أصابہ، فإن کان لَا بدّ فاعـلًا فلیقل: اللّٰھم أحینی ما کانت الحیٰوۃ خیرًا لی، وتوفنی إذا کانت الوفاۃ خیرًا لی‘‘ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۳۹)۔
  2. (۲) اللّٰھم انی أسئلك فعل الخیرات ۔۔۔ واذا أردت بقوم فتنۃ فتوفنّی إلیك وأنا غیر مفتون۔ (مستدرك حاكم عن ثوبان ج:۱ ص:۵۲۷، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  3. (۳) وقال حیان بن الأسود: الموت جسر یوصل الحبیبب إلی الحبیب۔ (التذکرۃ فی أحوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ص:۶)۔