بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟

کیا‌موت‌کی‌موت‌سے‌انسان‌صفتِ‌اِلٰہی‌میں‌شامل‌نہیں‌ہوگا؟

سوال:۔

آخرت میں موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لاکر ذبح کردیا جائے گا، اس سے تو ہمیشہ کی زندگی لازم آگئی جو حق تعالیٰ کی صفت ہے، پھرﵟ مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ ﵞبھی فرمایا ہے حالانکہ زمین آسمان سب لپیٹ دئیے جائیں گے، ﵟ مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ ﵞ۔

جواب:۔

اہلِ جنت کی ہمیشہ کی زندگی اِمکانِ عدم کے ساتھ ہوگی اور حق تعالیٰ شانہ‘ کے لئے ہمیشہ کی زندگی بغیر اِمکانِ عدم کے ہے، اور اِمکان ایک ایسا عیب ہے جس کے ہوتے ہوئے اور کسی نقص کی ضرورت نہیں رہ جاتی: ﵟإِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ ﵞمیں اسی اِمکان کا ذکر ہے۔(۱)

  1. (۱) وذکر بعض الأفاضل أن فائدتہ دفع توھم کون الخلود أمرًا واجبًا علیہ تعالٰی لَا یمکن لہ سبحانہ نقضہ كما ذھب إلیہ المعتزلۃ حیث أخبر بہ جل وعلا مؤكدًا۔ (تفسیر رُوح المعانی ج:۱۲ ص:۱۴۵)، فإن معناہ الحكم بخلودھم فیھا إلّا المدۃ التی شاء ربك، فھٰھنا اللفظ یدل علٰی أن ھٰذہ المشیۃ قد حصلت جزمًا۔ (التفسیر الكبیر ج:۱۸ ص:۶۵)۔