موتکےبعدکیاہوتاہے؟
اِنسانکتنیدفعہمرےگااورجیئےگا؟
سوال:۔
قرآن شریف سے ثابت ہے کہ زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد اَبدی زندگی۔ یوں تو اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہیں، جتنی بار چاہیں ماریں اور جِلائیں، لیکن ان کے کلام میں رَدّ و بدل نہیں ہوسکتا۔ درج ذیل واقعات سے پتا چلتا ہے کہ انسان ایک بار پھر زندہ ہوا، پھر مرا، پھر زندہ ہوگا۔ ۱:۔بحوالہ سورۂ: بقرہ، رُکوع:۲، کے بعد حضرت عزیر پیغمبر تھے، اور بخت نصر ایک کافر بادشاہ تھا، شہر بیت المقدس کو اس نے ویران کیا، حضرت عزیر کا جب اِدھر سے گزر ہوا تو انہوں نے تعجب کیا کہ یہ شہر پھر کیونکر آباد ہوگا؟ بس اسی جگہ ان کی رُوح قبض ہوئی، سو برس بعد زندہ ہوئے تو دیکھا کہ شہر آباد ہوگیا ہے۔ ۲:۔حضرت ایوب کے بیٹے چھت کے نیچے دَب کر مرگئے پھر زندہ کئے گئے۔ ۳:۔حضرت موسیٰ نے مردوں کو زندہ کیا، وہ پھر مرے، پھر زندہ ہوں گے۔ ۴:۔ قبر میں بھی سوال و جواب کے لئے زندہ کیا جائے گا۔
جواب:۔
زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد اَبدی زندگی تو ایک عام اُصول ہے۔ اور جو واقعات آپ نے ذکر کئے ہیں، یہ اِستثنائی صورتیں ہیں۔ آپ نے ۳ نمبروں میں جو واقعات ذکر کئے ہیں، وہ مستثنیات میں سے ہیں، اور قبر کی زندگی کا تعلق دُنیا سے نہیں، بلکہ برزخ سے ہے، اور برزخ میں جو زندگی ملتی ہے وہ ہمارے شعور و ادراک سے ماورا ہے، جیسا کہ ﵟ وَلَٰكِن لَّا تَشۡعُرُونَ ﵞمیں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔(۱)
- (۱) وقولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَقُولُواْ لِمَن يُقۡتَلُ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتُۢۚ بَلۡ أَحۡيَآءٞ وَلَٰكِن لَّا تَشۡعُرُونَ ١٥٤ ﵞ یخبر تعالٰی أن الشھداء فی برزخھم أحیاء یرزقون ۔۔۔ ففیہ دلَالۃ لعموم المؤمنین أیضًا، وان کان الشھداء قد خصّصوا بالذکر فی القرآن تشریفًا لھم وتکریمًا وتعظیمًا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۴۰۶، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

