موتکےبعدکیاہوتاہے؟
موتایکاَٹلحقیقتہے،یہآپریشنسےنہیںٹلتی
سوال:۔
میرا بیٹا عمر ۲۰ سال، آج سے تین سال پہلے انتقال کرگیا۔ انتقال سے ایک سال پہلے اس کو کان میں تکلیف ہوئی، ڈاکٹر کو دِکھایا، کچھ دن علاج کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس کا آپریشن ہوگا۔ اس وقت شدید گرمی کا موسم تھا اور رمضان شریف کا مہینہ آنے والا تھا، لڑکا نماز اور روزے کا پابند تھا، اس لئے بیٹے نے کہا: والد صاحب! اگر ابھی آپریشن کروائیں گے تو میری نماز اور روزے جائیں گے، اس لئے رمضان شریف کے بعد آپریشن کروائیں گے۔ اس دوران علاج چلتا رہا تھا، رمضان شریف گزر جانے کے بعد پھر لڑکے کو آپریشن کا کہا تو لڑکے نے کہا: والد صاحب! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے نماز پڑھی اور روزے بھی پورے ماہ کے رکھے، اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتا رہا، اب مجھ کو کان میں کوئی تکلیف نہیں، آپریشن نہیں کروانا۔
خیر اس کے بعد تقریباً ایک سال کے بعد کان میں شدید تکلیف ہوئی، اور آپریشن کروانا پڑا، آپریشن کامیاب نہ ہوا اور لڑکے کا انتقال ہوگیا۔ اب میرا ذہن تین سال سے بہت پریشان رہتا ہے، کیا پہلے آپریشن کرواتے تو کیا میرا بیٹا موت سے بچ جاتا؟ چوبیس گھنٹے ذہن بہت پریشان رہتا ہے، میں نماز پڑھتا ہوں تو ذہن میں یہی بات آجاتی ہے، کاش! میں اپنے جوان بیٹے کا پہلے آپریشن کروالیتا تو میرا بیٹا بچ جاتا۔ برائے مہربانی کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں کہ اگر پہلے آپریشن کروالیتے تو جان بچ جاتی؟
جواب:۔
آپ کو بیٹے کی جواں مرگ کا صدمہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اَجر و صبر عطا فرمائے۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے، وہ اَٹل اور قطعی چیز ہے، کسی نہ کسی بہانے موت آکر رہتی ہے۔ اس لئے آپ کا یہ خیال صحیح نہیں کہ اگر ایک سال پہلے آپریشن کرالیتے تو شاید زندگی بچ جاتی۔ قضائے اِلٰہی کے سامنے بندے کی تدبیریں کچھ نہیں کرتیں، اس لئے آپ اس کو سوچنا چھوڑ دیں اور خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ہوا۔ ’’اِنَّا للّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ کثرت سے پڑھتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبر نصیب فرمائے اور آپ کے بیٹے کو جنت نصیب فرمائے۔(۱)
- (۱) ﵟ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٤٩ ﵞ يونس ٤٩۔ أیضًا وأجمعت الاُمّۃ علٰی أن الموت لیس لہ سن معلوم ولَا زمن معلوم ولَا مرض معلوم ۔۔۔الخ۔ (التذکرۃ للقرطبی ص:۱۰، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

