بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

گناہوں‌کا‌کفارہ‌کیا‌ہے؟

سوال:۔

انسان گناہ کا پتلا ہے، بدقسمتی سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ اور یہ کس طرح ادا کیا جاتا ہے؟

جواب:۔

چھوٹے موٹے گناہ (جن کو صغیرہ گناہ کہا جاتا ہے) ان کے لئے تو نماز، روزہ کفارہ بن جاتے ہیں،(۱) اور کبیرہ گناہوں سے ندامت کے ساتھ توبہ کرنا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا ضروری ہے۔(۲) کبیرہ گناہ بہت سے ہیں اور لوگ ان کو معمولی سمجھ کر بے دھڑک کرتے ہیں، نہ ان کو گناہ سمجھتے ہیں، نہ ان سے توبہ کرنے کی ضرورت سمجھتے ہیں، یہ بڑی غفلت ہے۔ کبیرہ گناہوں کی فہرست کے لئے عربی دان حضرات شیخ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’الزواجر عن اقتراف الکبائر‘‘ یا اِمام ذہبی رحمہ اللہ کا رسالہ ’’الکبائر‘‘ ضرور پڑھیں۔ اور اُردو خوان حضرات، مولانا احمد سعید دہلویؒ کا رسالہ ’’دوزخ کا کھٹکا‘‘ غور سے پڑھیں۔ توبہ کے علاوہ شریعت نے بعض گناہوں کا کفارہ بھی رکھا ہے، یہاں اس کی تفصیل مشکل ہے۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ورمضان إلٰی رمضان مکفّرات مما بینھنّ إذا اجتنبت الكبائر۔ رواہ مسلم۔ (مشكٰوۃ ص:۵۷، کتاب الصلاۃ، الفصل الأوّل)
  2. (۲) والمراد بالتّوبۃ ھنا الرجوع عن الذنب وقد سبق فی کتاب الْإیمان ان لھا ثلاث أرکان، الْإقلاع، والندم علٰی فعل تلك المعصیۃ، والعزم علٰی أن لَا یعود إلیھا أبدًا، فإن کانت المعصیۃ لحق آدمی فلھا ركن رابع وھو التحلل من صاحب ذٰلك الحق وأصلھا أن الندم وھو ركنھا الأعظم واتفقوا علٰی أن التوبۃ من جمیع المعاصی واجبۃ وإنھا واجبۃ علی الفور لَا یجوز تأخیرھا سواء کانت المعصیۃ صغیرۃ أو كبیرۃ۔ (شرح نووی علٰی مسلم ج:۲ ص:۳۵۴ طبع قدیمی)۔