گناہوںسےتوبہ
حرامکاریسےتوبہکسطرحکیجائے؟
سوال:۔
ایک شخص ڈاکازنی اور رشوت اور حرام کام سے بڑی دولت کماتا ہے، اور اس کے بعد وہ توبہ کرلیتا ہے اور اس پیسے سے وہ کاروبار شروع کرتا ہے، اب اس کا جو منافع ہوگا وہ حلال ہوگا یا کہ حرام؟ تفصیل سے بیان کریں۔
جواب:۔
ڈاکا اور رشوت کے ذریعہ جو روپیہ جمع کیا وہ تو حرام ہے اور حرام کی پیداوار بھی ویسی ہوگی۔(۱) اس شخص کی توبہ کے سچا ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو روپیہ واپس کردے جن سے ناجائز طریقے سے لے لیا ہے۔(۲)
- (۱) رجل اکتسب مالًا من حرام ثم اشتریٰ فھٰذا علٰی خمسۃ أوجہ ۔۔۔ لٰـكن ھٰذا خلاف ظاھر الروایۃ فإنہ نص فی الجامع الصغیر: إذا غصب ألفًا فاشتریٰ بھا جاریۃ وباعھا بألفین تصدق بالربح۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۲۳۵، مطلب إذا اکتسب حرامًا ثم اشتری فھو علٰی خمسۃ أوجہ)۔ والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیّۃ صاحبہ ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۹۹، مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔
- (۲) وإن کانت عما یتعلق بالعباد فإن کانت من مظالم الأموال فتتوقف صحۃ التَّوبۃ منھا مع ما قدمناہ فی حقوق اللہ تعالٰی علی الخروج عن عھدۃ الأموال وإرضاء الخصم فی الحال والْإستقبال بأن یتحلل منھم أو یردھا إلیھم أو إلٰی من یقوم مقامھم من وکیل أو وارث۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۵۸، طبع مجتبائی دھلی)۔

