بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

گناہِ‌کبیرہ‌کے‌مرتکب‌حضرات‌کے‌ساتھ‌کیسا‌تعلق‌رکھا‌جائے؟

سوال:۔

گناہِ کبیرہ کرنے والے شخص کے ساتھ جو کہ مسلمان ہو، دُوسرے مسلمانوں کا رویہ کس نوعیت کا ہونا چاہئے؟ مثلاً: زنا، شراب اور چوری کے مرتکب شخص، یا وہ لوگ جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہو، مثلاً: والدین کا نافرمان، ماہِ رمضان میں روزہ نہ رکھنے والا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود شریف نہ پڑھنے والا۔ یہ تمام کبیرہ اور رذیل گناہ ہیں لیکن مسلمانوں میں ایسے گناہگاروں کی کمی نہیں ہے، ہمارے احباب، دوستوں، ملنے والوں میں ایسے کئی لوگ ہمیں موجود نظر آتے ہیں، ایسے شخص یا اَشخاص سے کیا رویہ رکھا جائے؟ کیا ترکِ تعلقات کیا جائے، دوستی نہ استوار کی جائے؟ ذہن میں سوال اُبھرتا ہے یہ اللہ کے اس قدر بڑے نافرمان اور جن پر رحمت للعالمین نے لعنت فرمائی ہے، ان سے کیا تعلق رکھا جائے؟ میری طبیعت ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص ’’داڑھی‘‘ کا تمسخر اُڑائے تو میں اس کی صورت دیکھنا پسند نہیں کرتا، اگرچہ خود باریش نہیں ہوں، لیکن میں اپنے قلب میں ہر اس چیز سے محبت کرتا ہوں جس سے اللہ اور رسول فرماتے ہوں، میرا عمل کمزور ہے لیکن میرا ایمان کمزور نہیں۔ دُعا فرمائیں کہ میرا عمل بھی نیک اور صالح لوگوں جیسا ہو۔

جواب:۔

ایمانِ کامل کا تقاضا تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھا جائے، ان سے تعلقات رکھنا ضعفِ ایمان ہے۔(۱) اللہ تعالیٰ ہماری ان کوتاہیوں کو معاف فرمائیں۔

  1. (۱) عن أبی أُمامۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أحب ﷲ وأبغض ﷲ وأعطیٰ ﷲ ومنع ﷲ فقد استكمل الْإیمان۔ رواہ أبوداوٗد۔ (مشكٰوۃ ص:۱۴، کتاب الْإیمان، الفصل الثانی)۔