بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

کیا‌اللہ‌تعالیٰ‌نے‌انسان‌کو‌سزا‌بھگتنے‌کی‌مشین‌بنایا‌ہے؟

سوال:۔

میں کالج کی طالبہ ہوں، لیکن مجھے کچھ دن سے ایک مسئلہ پریشان کر رہا ہے، وہ یہ کہ انسان جوڑوں کی شکل میں جنت کا باسی بنایا گیا تھا، لیکن حوا کے کہنے کے مطابق ممنوعہ پودے سے اس کا پھل کھانے کی وجہ سے اللہ نے سزا کے طور پر جنت سے نکال کر دُنیا میں پھینک دیا۔ جب سے انسان دُنیا میں آیا ہے، وہ سزا بھگت رہا ہے، اور قرآن کے مطابق بہت سی اُمتوں کو اس بنا پر دُنیا میں نیست و نابود کردیا، یعنی کہ انسان کو جنت سے نکالنے کی بنا پر دُہری سزا اس کو مل رہی ہے، بلکہ دُنیا میں بھی اللہ کی طرف سے سزا دی جارہی ہے جو کہ تہری سزا ہوئی، اس کے بعد اگر کوئی انسان اس دُنیا میں کوئی جرم بھی کرلیتا ہے تو قانون کے مطابق اسے اس دُنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے جو کہ چوتھی سزا ہوئی، اس کے بعد آدمی مرجاتا ہے تو قبر میں بھی اسے سزا دی جاتی ہے، اس کے بعد قیامت میں بھی سزا ہے، وہ دوزخ کی سزا ہے جہاں گناہ گار بہت عرصے تک رہے گا، اور اگر دوزخ سے نکالا بھی گیا تو اس کی پیشانی کو بھی داغ دیا جائے گا، اس کے بعد جنتی کہیں گے کہ دوزخی آیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے ان سزاؤں کے نتیجے میں انسان کو صرف سزا بھگتنے کی مشین بنایا ہے؟

جواب:۔

آپ کی ساری پریشانی اس بنا پر ہے کہ آپ نے ایک غلط کہانی اپنے ذہن میں تصنیف کرلی ہے، حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام سے شجرۂ ممنوعہ کے کھانے کی جو خطا سرزد ہوئی تھی، وہ اللہ تعالیٰ نے ان کے معافی طلب کرنے پر انہیں معاف کردی تھی۔(۱) معافی کے بعد اس کا کوئی اثر نہ ان پر رہا، نہ ان کی اولاد پر۔ دُنیا میں بھیجا جانا بطورِ سزا نہیں تھا، بلکہ خلیفۂ اَرضی کی حیثیت سے تھا۔(۲) اس لئے دُنیا میں بھیجے جانے کا اس سزا سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ نافرمان قوموں کے ہلاک کئے جانے کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ ان نافرمان قوموں کو ان کی اپنی سرکشی اور حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام سے ان کے گستاخانہ برتاؤ کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ قصۂ آدم و حوا علیہما السلام سے ان کی ہلاکت کا جوڑ لگانا، بے معنی بات ہے۔ اسی طرح دُنیا میں بھی انسان کو اس قصے کی وجہ سے کوئی سزا نہیں دی جاتی، لہٰذا ان تین سزاؤں کا افسانہ تو آپ کا طبع زاد ہے، جس کا نفسِ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ بعد کی جو تین سزائیں آپ نے ذکر کی ہیں، وہ صحیح ہیں۔ یعنی ہر آدمی کو اس کے بُرے اعمال کی کچھ سزا دُنیا میں بھی ملتی ہے، اور یہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی جانب سے تازیانۂ عبرت ہوتا ہے کہ آدمی سدھر جائے۔(۳) اور قبر میں جو سزا ملتی ہے، یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، اگر اس سزا سے تمام گناہ جھڑ گئے تو آخرت کی سزا سے بچ جائے گا۔(۴) اور آخرت میں اہلِ ایمان کے لئے جو سزا ہے وہ بھی حقیقت میں سزا نہیں، بلکہ ’’تطہیر‘‘ (یعنی پاک کرنے) کے لئے ہے، جس طرح میلے کچیلے کپڑوں کو دھوبی بھٹی میں ڈالتا ہے۔(۵) گویا اہلِ ایمان کے ساتھ تو دُنیا میں بھی، برزخ میں بھی اور آخرت میں بھی رحمت ہی رحمت کا معاملہ ہوتا ہے۔ البتہ کفار اور بے ایمان لوگ، جنھوں نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کی مخالفت اور تکذیب کی، ان کو بلاشک سزا ہوگی، اور ان کو سزا دینا بھی اہلِ ایمان کے حق میں رحمت ہے، جس طرح کہ دُنیا میں ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کو قید کرنا، شریف انسانوں کے لئے اور معاشرے کے لئے رحمت ہے، اور آخرت میں سزا دینا بھی اہلِ ایمان اور اہلِ کفر کے درمیان امتیاز کے لئے ہے۔

یہ تو میں نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کو ان کی بداَعمالیوں پر دُنیا میں، برزخ میں یا آخرت میں سزا ملتی ہے، اور میں نے بتایا کہ یہ سزا کی شکل میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ساتھ دُنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں رحمت ہی رحمت کا معاملہ کیا جانا بالکل ظاہر ہے۔ اس کے بعد آپ کا یہ کہنا کہ: ’’انسان کو صرف سزا بھگتنے کی مشین بنایا گیا ہے‘‘ خود سوچئے کہ یہ کتنی بے جا بات ہے۔۔۔؟

حدیث شریف میں ہے کہ:

’’حق تعالیٰ شانہ‘ نے آسمان و زمین سے پہلے یہ لکھ دیا تھا کہ میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی ہے۔‘‘(۶)

اگر نظرِ صحیح سے کام لیا جائے تو نظر آئے کہ ہم ہر آن اور ہر لمحہ حق تعالیٰ شانہ‘ کے بے انتہا اِنعامات کے سمندر میں ڈُوبے ہوئے ہیں، چاروں طرف نعمتیں ہی نعمتیں اور رحمتیں ہی رحمتیں نظر آتی ہیں، لیکن یہ ہماری کج نظری ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کے ان بے شمار اِنعامات پر نظر نہیں جاتی، نہ ہم ان اِنعامات کا مشاہدہ کرتے ہیں، نہ ان کو سوچتے ہیں، جس سے جذبۂ شکر اور داعیۂ محبت پیدا ہو، اگر کبھی ہماری لغزشوں پر معمولی سی تنبیہ اور گوشمالی کی جاتی ہے، تو ہم شکایات کا دفتر کھول بیٹھتے ہیں، لیکن اپنی اصلاح کی توفیق ہمیں اس وقت بھی نہیں ہوتی، بقول شاعر:

جب میں کہتا ہوں کہ: یا اللہ! میرا حال دیکھ

حکم ہوتا ہے کہ: اپنا نامۂ اعمال دیکھ!

  1. (۱) ﵟ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ ١٢١ ثُمَّ ٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدَىٰ ١٢٢ ﵞ طه ١٢١ و ١٢٢۔
  2. (۲) ﵟ وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ ﵞ البقرة ٣٠۔
  3. (۳) ﵟ وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٢١ ﵞ السجدة ٢١۔ وفی التفسیر: قال ابن عباس: یعنی بالعذاب الأدنٰی مصائب الدنیا وأسقامھا وآفاتھا، وما یحل بأھلھا مما یبتلی اللہ بہ عبادہ لیتوبوا إلیہ ۔۔۔ وقال البراء بن عازب ومجاھد وأبوعبیدۃ: یعنی بہ عذاب القبر۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۱۳۷ طبع رشیدیۃ کوئٹہ)۔
  4. (۴) عن عثمان رضی ا ﷲ عنہ ۔۔۔ (فقال ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ان القبر أوّل منزل من منازل الآخرۃ فان نجا) أی خلص المقبور منہ أی من عذاب القبر (فما بعدہ) أی من المنازل (أیسر منہ) وأسھل، لأنہ لو کان علیہ ذنب لکفر بعذاب القبر (وان لم ینج منہ) أی لم یتخلص من عذاب القبر ولم یکفر ذنوبہ بہ وبقی علیہ شیء مما یستحق العذاب بہ (فما بعدہ أشدّ منہ) لأن النَّار أشدّ العذاب والقبر حفرۃ من حفر النیران ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ ج:۱ ص:۱۷۲، باب إثبات عذاب القبر)۔
  5. (۵) صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۰۴، باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النّار۔
  6. (۶) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ان اللہ تعالٰی کتب کتابًا قبل أن یخلق الخلق، ان رحمتی سبقت غضبی فھو مکتوب عندہ فوق العرش۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۵۰۶، باب بدء الخلق ۔۔۔إلخ)۔