گناہوںسےتوبہ
کیامسلمانکاقاتلہمیشہجہنممیںرہےگا؟
سوال:۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘ مؤرخہ ۱۹؍۲؍۱۹۸۸ء کے اسلامی صفحہ پر قاری محمد ایوب صاحب کا ایک مضمون بنام ’’مسلمان کا قاتل اللہ (جل جلالہٗ) کی رحمت سے محروم‘‘ چھپا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اس کے ثبوت میں ایک آیت مبارکہ کا ترجمہ بھی دیا ہے: ’’اور جو کوئی کسی مؤمن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا‘‘ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول بھی تحریر ہے: ’’جس نے مؤمن کو قصداً قتل کیا، اس کی توبہ قبول ہی نہیں‘‘ اسی طرح کسی شخص نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر قاتل توبہ کرلے اور پھر نیک عمل کرنے لگے اور ہدایت پر جم جائے تو؟ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دیا: اس کی ماں اسے روئے، اسے توبہ و ہدایت کہاں؟ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اسے منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اُتری۔ اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی وحی اُتری۔
مندرجہ بالا آیت اور روایت کی روشنی میں آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ ہم یہ ہی سنتے آئے ہیں کہ اللہ جل جلالہٗ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے شرک و کفر کیا ہوگا اور سب کی بخشش فرمادے گا، یہ بھی سنا ہے کہ موحد ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا، یہ بھی سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص نے ۹۹ قتل کئے تھے، وہ توبہ کرنے چلا تو دو قتل اور کر ڈالے، پھر کسی کے مشورے پر وہ توبہ کرنے جارہا تھا کہ راستے میں ہی اسے موت نے آلیا، مگر چونکہ وہ توبہ کا ارادہ لے کر گھر سے نکلا تھا، اس لئے اللہ جل جلالہٗ نے اس شخص کی مغفرت فرمادی۔ اب اگر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی روایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ قبول نہیں اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اور قاری محمد ایوب صاحب نے سورۂ نساء کی آیت نمبر۹۳ کا جو حوالہ دیا ہے، اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اب آپ سے جواب اس بات کا چاہئے کہ آیا قاتل کی بخشش ہے یا نہیں؟
جواب:۔
اگر قاتل سچی توبہ کرلے اور مقتول کے وارثوں سے بھی معاف کرالے اور اگر وہ معاف نہ کریں تو بلا حیل و حجت اپنے آپ کو قصاص کے لئے پیش کردے تو اِن شاء اللہ اس کی بھی بخشش ہوجائے گی۔(۱) اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس سے توبہ نہ ہوسکے، اور کفر و شرک کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کی سزا دائمی جہنم ہو۔ آپ نے جو آیت نقل کی ہے، اس کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ قاتل کی اصل سزا تو دائمی جہنم تھی، مگر اِیمان کی برکت سے اسے یہ سزا نہیں دی جائے گی۔ نیز یہ سزا اس شخص کی ہے جو مؤمن کو اس کے ایمان کی وجہ سے قتل کرے، ایسا شخص واقعی دائمی سزائے جہنم کا مستحق ہے۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا مشہور فتویٰ تو وہی ہے جو سوال پر نقل کیا گیا ہے، مگر بعض روایات میں ہے کہ وہ بھی قبولِ توبہ کے قائل تھے۔ دراصل کسی مؤمن کا قتل اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے بعد توبہ کی توفیق بھی مشکل ہی سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس وبال سے محفوظ رکھیں، آمین!(۲)
- (۱) ولَا یصح توبۃ القاتل حتّٰی یسلم نفسہ للقود، وھبانیۃ (قولہ لَا تصح توبۃ القاتل حتّٰی یسلم نفسہ للقود) أی: لَا تکفیہ التوبۃ وحدھا، قال فی تبیین المحارم: واعلم أن توبۃ القاتل لَا تکون بالْإستغفار والندامۃ فقط بل یتوقف علٰی ارضاء أولیاء المقتول، فإن کان القتل عمدًا لَابُدّ ان یمکنھم من القصاص منہ، فإن شاؤا قتلوہ، وإن شاؤا عفوا عنہ مجانًا، فإن عفوا عنہ کفتہ التوبۃ۔ ملخصًا وقدمنا آنفا أنہ بالعفو عنہ یبرأ فی الدُّنیا۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۵۴۹، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) ﵟ وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا ﵞ ۔۔۔ الخ‘‘۔ أمّا أھل السُّنّۃ والجماعۃ فیأوّلون ھٰذہ الآیۃ كما ذکرنا للإجماع علٰی أن المؤمن لَا یُخلَد فی النار وان مات بلا توبۃ وان الكبیرۃ لَا یخرج المؤمن من ایمانہ مستندًا ذٰلك الْإجماع علٰی ما تواتر من الکتاب والسُّنّۃ من قولہ تعالٰی: ﵟ مَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ ٧ ﵞ وقد ذکرنا الكلام فی تفسیرہ ۔۔۔ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من قال لَا إلٰہ إلّا اللہ دخل الجنّۃ وإن زنٰی وإن سرق‘‘ متفق علیہ۔ (تفسیر مظہری ج:۲ ص:۱۹۷، سورۃ النساء)۔

