بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

کیا‌قاتل‌کی‌توبہ‌بھی‌قبول‌ہوجاتی‌ہے؟

سوال:۔

یہ بھی بتائیے کہ کیا قاتل کی توبہ قبول ہوتی ہے؟

جواب:۔

توبہ تو ہر گناہ سے ہوسکتی ہے اور ہر سچی توبہ کو قبول کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے۔(۱) لیکن قتل کے جرم سے توبہ کرنے میں کچھ تفصیل ہے، اس کو سمجھ لینا ضروری ہے۔

قتل بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے، جس کا تعلق بندے کے حق سے بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حق سے بھی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے حق سے اس کا تعلق اس طرح ہے کہ جان اور جسم کا رشتہ اللہ تعالیٰ نے جوڑا ہے، جو شخص کسی کو قتل کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے اس فعل میں مداخلت کرتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے کسی کو ناحق قتل کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، لیکن قاتل اس ممانعت کی پروا نہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی حکم عدولی کرتا ہے۔(۲)

بندے کے حق سے قتل کا تعلق دُہرا ہے، ایک تو اس نے مقتول کو ظلم کا نشانہ بنایا، دُوسرے مقتول کے لواحقین پر ظلم ڈھایا، اس کی بیوی کا سہاگ اُجاڑ دیا، اس کے بچوں کو یتیم کردیا۔ اس کے بہن بھائیوں کا بازُو کاٹ دیا اور اس کے اعزّہ و اقارب کو صدمہ پہنچایا۔

جب یہ بات معلوم ہوئی کہ قتل میں اللہ تعالیٰ کے حق کی بھی حق تلفی ہے، مقتول کے حق کی بھی اور اس کے وارثوں کی بھی۔ اب یہ سمجھنا چاہئے کہ توبہ اس وقت قبول ہوتی ہے جب آدمی کو اپنے جرم پر ندامت بھی ہو اور اس جرم سے جن جن کی حق تلفی ہوئی ہے ان کا حق یا تو ادا کردیا جائے یا ان سے معاف کرالیا جائے۔ لہٰذا قاتل کی توبہ اس وقت قبول ہوگی جب متعلقہ فریقوں سے اس کو معافی مل جائے۔(۳) اللہ تعالیٰ سے اگر سچے دِل سے معافی مانگی جائے تو وہ ارحم الراحمین غنیٔ مطلق ہے، ان کے دربار سے تو معافی مل جائے گی، مقتول دُوسرے جہان میں جاچکا ہے، اس سے معافی کی صورت بس ایک ہے کہ اللہ تعالیٰ قاتل کی سچی توبہ کو قبول فرماکر مقتول کو اس سے راضی کرادیں اور اس پر جو ظلم ہوا ہے، اس کا بدلہ اپنے پاس سے ادا فرمادیں اور مقتول کے وارثوں کی جو حق تلفی ہوئی ہے قاتل ان کو معاوضہ دے کر یا بغیر معاوضے کے محض راہِ للہ معاف کرالے۔ اگر یہ تینوں فریق اس کو معاف کردیں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا جرم معاف ہوجائے گا۔ ورنہ آخرت میں اسے اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ اگر قاتل واقعتا سچی توبہ کرلے، اور ان تینوں فریقوں سے سچے دِل سے معافی لینا چاہے تو اِن شاء اللہ اس کو ضرور معافی مل جائے گی۔ یہاں پر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ شریعت نے ’’قتل‘‘ کی جو دُنیاوی سزا رکھی ہے، یہ سزا اگر قاتل پر جاری بھی ہوجائے تب بھی آخرت کی سزا سے بچنے کے لئے توبہ ضروری ہے۔(۴)

  1. (۱) ﵟ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥٣ ﵞالزمر ٥٣،ﵟ وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابٗا ٧١ ﵞالفرقان ٧١،ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ ﵞ(النساء ١١٦)۔
  2. (۲) ﵟ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ ﵞ الإسراء ٣٣۔ أیضًا عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اجتنبوا السبع الموبقات! قالوا: یا رسول اللہ! وما ھنّ؟ قال: الشرك باللہ، والسحر، وقتل النفس التی حرَّم اللہ إلّا بالحق ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۷، باب الكبائر، الفصل الأوّل)۔
  3. (۳) لَا تصح توبۃ القاتل حتّٰی یسلم نفسہ للقود وھبانیۃ، قولہ لَا تصح التوبۃ القاتل حتّٰی یسلم نفسہ للقود أی لَا تکفیہ التوبۃ وحدھا، قال فی تبیین المحارم: واعلم أن توبۃ القاتل لَا تکون بالْإستغفار والندامۃ فقط، بل یتوقف علٰی ارضاء أولیاء المقتول، فإن کان القتل عمدًا لَا بد أن یمکنھم من القصاص منہ، فإن شـاءوا قـتلـوہ، وإن شاءوا عفوا عنہ مجنا، فان عفوا عنہ کفتہ التوبۃ اھـ ملخصًّا، وقدمنا آنفًا انہ بالعفو عنہ یبرأ فی الدنیا۔ (شامی ج:۶ ص: ۵۴۸، ۵۴۹، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
  4. (۴) ولیس شیء یکون سببًا لغفران جمیع الذنوب إلّا التوبۃ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۳۶۸) ایضًا ان الحد لَا یکون طھرۃ من الذنب ولَا یعمل فی سقوط الْإثم بل لَابُد من التوبۃ فإن تاب کان الحد طھرۃ لہ وسقطت عنہ العقوبۃ الاُخرویۃ بالْإجماع وإلّا فلا۔ (شامی ج:۲ ص:۵۴۴، باب الجنایات)۔