بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

بدکاری‌کی‌دُنیوی‌و‌اُخروی‌سزا

سوال:۔

زنا بہت بڑا گناہ ہے، دُنیا و آخرت میں اس کے بُرے اثرات اور سزا کے بارے میں تفصیل سے جواب دیجئے۔ نیز اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو کفارہ کیا ادا کرنا ہوگا؟

جواب:۔

زنا کا بدترین گناہِ کبیرہ ہونا ہر عام و خاص کو معلوم ہے،(۱) اور دُنیا میں اس جرم کے ثبوت پر اس کی سزا غیرشادی شدہ کے لئے سو کوڑے،(۲) اور شادی شدہ کے لئے رَجم (یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردینا ہے)،(۳) آخرت میں جو سزا ہوگی اللہ تعالیٰ اس سے ہر مسلمان کو پناہ میں رکھے۔ جو شخص توبہ کرنا چاہے اس کا کفارہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا اور گڑگڑانا ہے،(۴) یہاں تک کہ توقع ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جرم معاف کردیا ہوگا۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ کسی کے پاس اپنے اس گناہ کا اظہار نہ کرے،(۵) بس اللہ تعالیٰ سے رو رو کر معافی مانگے۔

  1. (۱) ﵟ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا ٣٢ ﵞ الإسراء ٣٢۔
  2. (۲) ﵟ ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِي فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٖۖ ﵞ النور ٢۔
  3. (۳) عن عمر قال: ان اللہ بعث محمدًا بالحق وأنزل علیہ الکتتاب فکان ممّا أنزل اللہ تعالٰی آیۃ الرجم، رجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجمنا بعدہ، والرجم فی کتاب اللہ حق علٰی من زنٰی إذا أحصن من الرجال والنساء إذا قامت البیّنۃ أو کان الحبل أو الْإعتراف۔ متفق علیہ۔ (مشكٰوۃ ص:۳۰۹، کتاب الحدود، الفصل الأوّل)۔
  4. (۴) إن الحد لَا یکون طھرۃ من الذنب ولَا یعمل فی سقوط الْإثم بل لَا بد من التوبۃ، فإن تاب کان الحد طھرۃ لہ وسقطت عنہ العقوبۃ الاُخرویۃ بالْإجماع وإلّا فلا۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۵۴۴، باب الجنایات)۔
  5. (۵) وینبغی أن لَا یطلع غیرہ علٰی قضائہ لأن التأخیر معصیۃ فلا یظھرھا۔ وفی الشرح: قلت والظاھر أن ینبغی ھنا للوجوب وأن الکراھۃ تحریمیۃ، لأن إظھار المعصیۃ، معصیۃ لحدیث الصحیحین: کل اُمّتی معافی إلّا المجاھرین، وإن من الجھار أن یعمل الرجل باللیل عملًا ثم یصبح وقد سترہ اللہ فیقول عملت البارحۃ كذا وكذا، وقد بات یسترہ ربہ ویصبح یکشف ستر اللہ عنہ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۷۷، مطلب إذا أسلم المرتد ھل تعود حسنۃ أم لَا؟)۔