گناہوںسےتوبہ
کیازانی،شرابیکیتوبہقبولہوسکتیہے؟
سوال:۔
کیا زانی و شرابی کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس صورت میں کہ وہ توبہ کرنے کے بعد بھی مندرجہ بالا فعل جاری رکھے اور پھر توبہ کرے، اس طرح یہ عمل تواتر سے جاری رکھے۔ دُوسری بات یہ کہ اس شخص کا خاصہ ہو کہ وہ پابندی سے کلمہ طیبہ کا وِرد کرتا ہو۔
ایک مولانا کا بیان ہے کہ اس شخص کی ہر توبہ کو قبولیت کا شرف حاصل ہوگا صرف اور صرف کلمہ طیبہ کی علت کی بنا پر۔ مزید برآں یہ کہ اگر کوئی شخص پابندی سے کلمہ طیبہ پڑھے اور اَرکان و فرائض خاص طور پر نماز کی پابندی نہ کرے اور تساہل پسندی سے کام لے تو بھی اس شخص کی بخشش ہوگی۔ آگے چل کر وہ بخاری شریف کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ: کیا زانی و شرابی کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اگر وہ کلمہ پابندی سے پڑھتا رہے اور تائب ہونے کے بعد پھر وہی فعل ادا کرتا رہے تو انہوں نے (حضورؐ نے) کہا کہ: ہاں! اس شخص کی توبہ قبول ہوجائے گی۔ اس طرح تین مرتبہ کہا کہ ہاں۔ ہمارے اصرار پر کہ یہ بات ذہن نہیں مانتا اور کسی مفتی کے پاس چل کر اس مسئلے کو بیان کرتے ہیں، مولانا نے فرمایا: کیا احادیث سے بڑھ کر کوئی اور بات ہوسکتی ہے؟ نیز جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ حرفِ آخر ہے اور یہ کہ اب اس بات کو تسلیم کرو تو ٹھیک، ورنہ آپ بھی ان لوگوں میں قرار دئیے جائیں گے جن کو خارجی قرار دیا گیا ہے، اور وہ جو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت پر یقین نہیں رکھتے۔
جواب:۔
آپ نے دونوں مسئلوں کو گڈمڈ کردیا ہے، پہلا مسئلہ یہ ہے کہ سچی توبہ کے کیا معنی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ’’توبہ‘‘ تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے:
۱:۔اپنے بُرے فعل پر دِل سے ندامت ہو، جس طرح کسی بچے سے کوئی سنگین غلطی ہوجائے تو وہ اس قدر شرمندہ ہوتا ہے کہ ڈَر کے مارے والدین کے سامنے آنے کی ہمت نہیں کرتا، اسی طرح بندے کو اپنی بدعملیوں پر ندامت ہو کہ میں کل قیامت کو اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دِکھاؤں گا؟
۲:۔آئندہ کے لئے عزم کرے کہ ان شاء اللہ میں اس بُرے کام کے قریب نہیں جاؤں گا، خدانخواستہ پھر گناہ سرزد ہوجائے تو پھر توبہ کرے، اور اپنے عزم کی تجدید کرتا رہے۔ الغرض توبہ کرتے وقت یہ عزم ہونا چاہئے کہ اب مرتے دَم تک یہ گناہ نہیں ہوگا، اِن شاء اللہ۔
۳:۔ جو غلطی یا غلطیاں ہوچکی ہیں، اگر ان کا کوئی تدارک ہوسکتا ہے تو ان کا تدارک کرے، مثلاً: نمازیں قضا کردی تھیں، ان کو ادا کرے، زکوٰۃ نہیں دی تھی تو حساب کرکے گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ ادا کرے، روزے نہیں رکھے تھے تو ان کو قضا کرے، لوگوں کے حقوق غصب کرلئے تھے تو وہ ان کو واپس کرے، کسی کو مارا تھا، ستایا تھا، غیبت کی تھی، تحقیر کی تھی، تو اس سے معافی مانگ لے۔(۱)
اگر ان شرائط کے ساتھ آدمی توبہ کرے تو اِن شاء اللہ ضرور توبہ قبول ہوگی۔ اس کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور اس کی سیئات کو حسنات سے بدل دیا جائے گا، اور جس نے تمام گناہوں سے سچی توبہ کرلی ہو، اِن شاء اللہ اس کی مغفرت ہوجائے گی۔(۲)
دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جو ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کا قائل ہے، وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہے اور بغیر توبہ کے مرجاتا ہے، اہلِ حق کے نزدیک اس کا معاملہ زیرِ مغفرت ہے، اور اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی سزا دے کر مغفرت فرمادیں۔(۳)
دوم یہ کہ اپنے کسی مقبول بندے کی شفاعت سے اس کی سزا میں تخفیف فرمادیں۔(۴) سوم یہ کہ اپنی رحمتِ بے پایاں کے ماتحت بغیر سزا کے اس کی مغفرت فرمادیں۔(۵)
یہی مطلب ہے بخاری شریف کی اس حدیث کا جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے کہ خواہ کوئی مسلمان کیسا ہی گناہگار ہو بالآخر اس کی ضرور مغفرت ہوگی، بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو، اور یہی مطلب ہے قرآنِ کریم کی اس آیت کا کہ: ’’بے شک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ شریک ٹھہرایا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا اس سے نیچے کے گناہ جس کے لئے چاہے گا‘‘ (النساء:۴۸)۔ اور خارجی فرقے کا مسلک یہ تھا کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب اگر بغیر توبہ کے مرجائے تو اس کی کبھی بخشش نہ ہوگی اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اُمید ہے کہ یہ مختصر سا نوٹ آپ کے لئے کافی و شافی ہوگا۔
- (۱) قد نصوا علی أنّ أرکان التوبۃ ثلٰثۃ، ۱:۔۔۔الندامۃ علی الماضی۔ ۲:۔۔۔والْإقلاع فی الحال۔ ۳:۔۔۔ والعزم علٰی عدم العود فی الْإستقبال ۔۔۔ ثم ھٰذا ان کانت التوبۃ فیما بینہ وبین اللہ کشرب الخمر، وان کانت عما فرط فیہ من حقوق اللہ كصلٰوت وصیام وزكٰوۃ فتوبتہ أن یندم علٰی تفریطہ أوّلًا ثم یعزم علٰی أن لَا یفوت أبدًا ۔۔۔ ثم یقضی ما فاتہ جمیعًا ۔۔۔ وان کانت عما یتعلق بالعباد، فان کانت من مظالم الأموال فیتوقف صحۃ التوبۃ منھا مع ما قدمناہ فی حقوق اللہ علی الخروج عن عھدۃ الأموال وارضاء الخصم فی الحال والْإستقبال بأن یتحلل منھم أو یردھا الیھم أو الٰی من یقوم مقامھم من وکیل أو وارث۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۱۹۴، طبع مجتبائی دہلی، أیضًا: إرشاد الساری ص:۳، طبع دار الفکر، بیروت)۔
- (۲) وأھل الكبائر من أُمّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی النار لَا یخلدون، اذا ماتوا وھم موحدون، رَدّ لقول الخوارج والمعتزلۃ، القائلین بتخلید أھل الكبائر فی النار، لٰـكن الخوارج تقول بتکفیرھم۔ (شرح العقیدۃ الطحاویہ ص:۴۱۷، المکتبۃ السلفیۃ، أیضًا: شرح عقائد ص: ۱۱۶ مبحث أھل الكبائر من المؤمنین لَا یخلدون فی النار، طبع مکتبہ خیر کثیر کراچی)۔
- (۳) وأھل الكبائر من المؤمنین لَا یخلدون فی النّار وان ماتوا من غیر توبۃ لقولہ تعالٰی: ﵟ فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ ٧ ﵞ ونفس الْإیمان عمل خیر لَا یمکن ان یریٰ جزاءہ قبل دخول النّار، ثم یدخل النّار، لأنہ باطل بالْإجماع فتعین الخروج من النّار۔ (شرح عقائد ص:۱۹۲، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۴) والشفاعۃ ثابتۃ للرسل والأخیار فی حق أھل الكبائر بالمستفیض من الأخبار ۔۔۔ وھٰذا مبنی علٰی ما سبق من جواز العفو والمغفرۃ بدون الشفاعۃ، فبالشفاعۃ أولٰی۔ (شرح عقائد ص:۱۹۰)۔
- (۵) ویغفر ما دون ذٰلك لمن یشاء من الصغائر والكبائر مع التوبۃ أو بدونھا۔ (شرح عقائد ص:۱۸۸ طبع ایچ ایم سعید)۔

