بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

بچپن‌میں‌لوگوں‌کی‌چیزیں‌لے‌لینے‌کی‌معافی‌کس‌طرح‌ہو؟

سوال:۔

آپ کے صفحے کا بہت دنوں سے قاری ہوں اور آپ سوالات کے بے حد اچھے اور سچے لفظوں میں جواب دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت میری عمر تقریباً ۱۹ سال ہے اور کالج میں زیرِ تعلیم ہوں، جس وقت میری عمر تقریباً ۱۱،۱۲ سال کی تھی تو لڑکپن کی شرارتیں اپنے عروج پر تھیں، ہم چند لڑکے بازار وغیرہ جاتے تو کوئی پھل والے کے پھل وغیرہ چرالیتے، یا کسی کو بغیر پیسے دئیے چیزیں لے لیتے تھے، مسجد میں جو چپلیں ہوتی تھیں ان چپلوں کے بند وغیرہ کاٹ دیتے تھے، کوئی چپل اُٹھاکر باہر پھینک دیتے تھے، بس میں ٹکٹ نہیں لیتے تھے، تقریب وغیرہ میں بغیر بلائے کھانا کھا آتے تھے، زمین پر پڑی ہوئی چیز اُٹھالیتے تھے، پیسے وغیرہ۔ یعنی لڑکپن اور جوانی کے دوران خوب یہ کام کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کاموں کا جس میں ہم نے کسی کی چیزیں استعمال کیں، کس طرح نقصان پورا کرسکتے ہیں؟ آپ شرعی لحاظ سے جواب دیجئے اور تفصیل سے دیجئے، ہم آپ کے منتظر ہیں۔

جواب:۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ جن جن لوگوں کا آپ نے نقصان کیا تھا ان سب سے معافی مانگی جائے، لیکن وہ سارے لوگ یاد نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دُعا و اِستغفار کریں، آپ کے اِستغفار سے ان کی بخشش ہوجائے تو وہ آپ کو بھی معاف کردیں گے۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من کانت لہ مظلمۃ لأخیہ من عرضہ أو شیء فلیتحللہ منہ الیوم قبل أن لَا یکون دینار ولَا درھم ۔۔۔ الخ۔‘‘ رواہ البخاری۔ (مشکوٰۃ ص:۴۳۵، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔ وفی شرح المشكٰوۃ: قال المُلّا علی القاریٔ فی باب الكبائر وعلامات النفاق: وقسم یحتاج الی التراد وھو حق الآدمی والتراد اما فی الدنیا بالْإستحلال أو ردّ العین أو بدلہ، وأمّا فی الآخرۃ یرد ثواب الظالم للمظلوم أو ایقاع سیئۃ المظلوم علی الظالم، أو انہ تعالٰی یرضیہ بفضلہ وکرمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۰۲، طبع بمبئی)۔