گناہوںسےتوبہ
عاقلبالغہونےسےپہلےبچےپرمؤاخذہنہیںہے
سوال:۔
جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اگر وہ مسلمان کے گھر پیدا ہو تو مسلمان بنتا ہے، بریلوی کے گھر پیدا ہوتا ہے تو بریلوی بنتا ہے، اہلِ حق کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ان جیسا بنتا ہے، شیعوں کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو شیعہ بنتا ہے، کسی اور غیرمسلم کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو غیرمسلم بنتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے؟ کچھ علمائے کرام اس کا جواب یہ فرماتے ہیں کہ جب بالغ ہوگا، اس کو عقل و فہم آئے گا تو اس وقت حق جاننے کی کوشش کرنا، اس کا فرض ہوگا۔ میں اس جواب سے متفق نہیں ہوں۔ برائے مہربانی کوئی عقلی دلیل دے کر سمجھائیں۔
جواب:۔
جب تک عاقل و بالغ نہ ہوجائے اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، اور عاقل و بالغ ہونے کے بعد اگر ماں باپ کی تقلید میں غلط کام کرتا ہے تو بے قصور نہیں،(۱) مثلاً: اگر کسی کے ماں باپ کہتے ہیں کہ: ’’فلاں شخص کی چوری کرکے لاؤ‘‘ تو کیا یہ شخص بے قصور ہوگا۔۔۔؟
- (۱) عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتّٰی یستیقظ، وعن الصغیر حتّٰی یكبر ۔۔۔ الخ۔ (ابن ماجہ ص:۱۴۷، ابواب الطّلاق، باب طلاق المعتوہ)۔ عن النواس بن سمعان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ رواہ فی شرح السُّنَّۃ۔ (مشكٰوۃ ص:۳۲۱)۔ وعن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ فی معصیۃ إنما الطاعۃ فی المعروف۔ متفق علیہ۔ (مشكٰوۃ ص: ۳۱۹، کتاب الْإمارۃ)۔

