گناہوںسےتوبہ
نماز،روزوںکیپابندمگرشوہراوربچوںسےلڑنےوالیبیویکاانجام
سوال:۔
ایک عورت جو بہت ہی نماز، روزے کی پابند ہے، کسی حالت میں بھی روزہ نماز نہیں چھوڑتی ہے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں روزہ رکھتی ہے اور صبح شام قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہے، اس کے سات بچے ہیں، جو کہ سب ہی اعلیٰ تعلیم پارہے ہیں مگر وہ عورت بہت ہی غصّے والی ہے اور ضدی بھی، بعض موقع پر بچوں اور شوہر سے لڑپڑتی ہے، یہاں تک کہ غصّے کی وجہ سے ان لوگوں سے ماہ دو ماہ تک بولنا ترک کردیتی ہے، یہاں تک کہ شوہر اور بچوں کو مرنے کی بددُعائیں دیتی رہتی ہے، مگر اپنی نماز بدستور پڑھتی ہے، غصہ اتنا زیادہ ہے کہ شوہر اور بچوں کی ہر بات پر جو صحیح بھی ہوتی ہے تو بھی غصّے میں آجاتی ہے، اس کی مرضی کے خلاف اگر کوئی بات ہوجاتی ہے قیامت برپا کردیتی ہے، جبکہ مسلمان کو تین روز سے زیادہ غصہ رکھنا حرام ہوتا ہے، تو کیا ڈیڑھ دو ماہ غصہ رکھ کر نماز، روزہ اور کوئی عبادت قبول ہوتی ہے یا نہیں؟ اور ایسی حالت میں نماز، روزہ ہوسکتا ہے کہ نہیں؟ جبکہ ایک مسئلے میں آپ فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے مسجد اور جماعت کا ترک کرنا گناہِ کبیرہ ہے، یہاں تو غصہ حرام ہے اور اس حرام کے ساتھ نماز، روزہ اور کسی عبادت کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے؟
جواب:۔
نماز روزہ تو اس خاتون کا ہوجاتا ہے، اور کرنا بھی چاہئے۔ لیکن اتنا زیادہ غصہ اس کی نیکی کو برباد کردیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ: ایک عورت نماز روزہ بہت کرتی ہے مگر ہمسائے اس سے نالاں ہیں۔
فرمایا: ’’وہ دوزخ میں ہے۔‘‘ عرض کیا گیا کہ: ایک عورت فرائض کے علاوہ نفلی نماز تو زیادہ نہیں پڑھتی مگر اس کے ہمسائے اس سے بہت خوش ہیں۔ فرمایا: ’’وہ جنت میں ہے۔‘‘(۱)
خصوصاً کسی خاتون کی اپنے شوہر اور اپنے بچوں سے بدمزاجی تو سو عیبوں کا ایک عیب ہے، ایسی عورت کا آخرت میں تو اَنجام ہوگا سو ہوگا، اس کی دُنیا بھی اس کے لئے جہنم سے کم نہیں اور اگر اس کے شوہر صاحب اور بچے (جو بالغ ہوں) نماز روزے کے پابند نہیں تو جو اَنجام اس عورت کا ہوگا، وہی ان کا بھی ہوگا۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رجل: یا رسول اللہ! ان فلانۃ تذکر من کثرۃ صلاتھا وصیامھا وصدقتھا غیر انّھا توذی جیرانھا بلسانھا، قال: ھی فی النَّار! قال: یا رسول اللہ! فان فلانۃ تذکر قلّۃ صیامھا وصدقتھا وصلاتھا وانھا تصدق بالأثوار من الأقط، ولَا توذی بلسانھا جیرانھا؟ قال: ھی فی الجنّۃ! رواہ أحمد والبیھقی فی شُعب الْإیمان۔ (مشکوٰۃ ص:۴۲۴)۔

