گناہوںسےتوبہ
کیابغیرسزاکےمجرمکیتوبہقبولہوسکتیہے
سوال:۔
کیا بغیر سزا کے اسلام میں توبہ ہے؟ مثلاً: اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو دیکھیں تو کئی واقعات سے پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجرم کو سزا کا حکم دیا پھر اس کی مغفرت کے لئے دُعا کی۔
جواب:۔
اگر مجرم کا معاملہ عدالت تک نہ پہنچے اور وہ سچے دِل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرنے والے ہیں، لیکن عدالت میں شکایت ہوجانے کے بعد سزا ضروری ہوجاتی ہے، بشرطیکہ جرم ثابت ہوجائے، اس صورت میں توبہ سے سزا معاف نہ ہوگی۔(۱) اس لئے اگر کسی سے قابلِ سزا گناہ صادر ہوجائے تو حتی الوسع اس کی شکایت حاکم تک نہیں پہنچانی چاہئے، اس پر پردہ ڈالنا چاہئے اور اس کی توبہ قبول کرنی چاہئے۔(۲)
- (۱) لَا تسقط الحد الثابت عند الحاكم بعد الرفع الیہ اما قبلہ فیسقط الحد بالتوبۃ۔ (شامی ج:۴ ص:۴، باب الجنایات)۔
- (۲) والشھادۃ فی الحدود یخیر فیھا الشاھد بین الستر والْإظھار ۔۔۔ والستر افضل لقولہ علیہ السلام: للذی شہد عندہ لو سترتہ بثوبك لکان خیرًا لك ۔۔۔الخ۔ (الھدایۃ، کتاب الشہادۃ ج:۳ ص:۱۵۳)۔

