بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

صدقِ‌دِل‌سے‌کلمہ‌پڑھنے‌والے‌انسان‌کو‌اَعمال‌کی‌کوتاہی‌کی‌سزا

سوال:۔

کیا جس مسلمان نے صدقِ دِل سے کلمہ طیبہ پڑھا ہو، رسالت وغیرہ پر اِیمان ہو، مگر زندگی میں قصداً کئی نمازیں اور فرائضِ اسلام ترک کئے ہوں، تو ایسا مسلمان اپنی سزا بھگت کر جنت میں جاسکے گا یا ہمیشہ دوزخ کا ہی ایندھن بنا رہے گا؟

جواب:۔

نماز چھوڑنا اور دیگر اَحکامِ اسلام کو چھوڑنا سخت گناہ اور معصیت ہے، احادیث میں نماز چھوڑنے والے کے لئے سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اور ان اَحکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انسان فاسق ہوجاتا ہے اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر ایسے بدعمل شخص کا عقیدہ صحیح ہو، توحید و رسالت پر قائم ہو، ضروریاتِ دِین کو مانتا ہو، وہ آخرکار جنت میں جائے گا، خواہ سزا سے پہلے یا سزا پانے کے بعد۔(۱) لیکن اگر کسی کا عقیدہ ہی خراب ہو، کفر اور شرک میں مبتلا ہو، یا ضروریاتِ دِین کا انکار صریح بلاتأویل کرے، تو ایسے شخص کی نجات کبھی نہ ہوگی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہے گا، کبھی اس کو دوزخ کے عذاب سے رہائی نہیں ملے گی۔(۲)

  1. (۱) ولَا نقول ان المؤمن المذنب مخلد فیھا وان کان فاسقًا أی بارتکاب الكبائر جمیعھا بعد ان یخرج من الدُّنیا مؤمنًا۔ (شرح فقہ اكبر ص:۹۲)۔
  2. (۲) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ ﵞ(النساء ١١٦)۔ قـال رسـول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ تعالٰی لیغفر لعبدہ ما لم یقع الحجاب۔ قالوا: یا رسول اللہ! وما الحجـاب؟ قـال: ان تمـوت النفس وھی مشركۃٌ۔ (مشکوٰۃ، باب الْإستغفـار والتوبۃ ج:۱ ص:۲۰۶)۔ أیضًا فمنکر الضروریـات الدینیۃ کالأركـان الأربعـۃ التی بُنی الْإسـلام علیھا: الصـلٰوۃ، والزكٰوۃ، والصـوم، وحجیـۃ القـرآن ونحوھمـا كـافـر آثـم۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۱۱ طبع لکھنؤ)۔