گناہوںسےتوبہ
بغیرتوبہکےگناہگارمسلمانکیمرنےکےبعدنجات
سوال:۔
اگر کوئی شخص بہت گناہ گار ہو اور وہ توبہ کئے بغیر مرجائے تو ایسے شخص کی نجات کا کوئی راستہ ہے؟ جبکہ اس کی اولاد بھی نہ ہو۔
جواب:۔
مؤمن کو بغیر توبہ کے مرنا ہی نہیں چاہئے، بلکہ رات کے گناہوں سے، دن طلوع ہونے سے پہلے، اور دن کے گناہوں سے رات آنے سے پہلے توبہ کرتے رہنا چاہئے۔(۱) جو مسلمان توبہ کئے بغیر مرجائے اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے اپنے فضل سے بغیر سزا کے معاف کردے، یا سزا کے بعد اسے رہا کردے۔
- (۱) عن أبی موسٰی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ان اللہ یبسط یدہ باللیل لیتوب مسیء النھار، ویبسط یدہ بالنھار لیتوب مسیء اللیل حتّٰی تطلع الشمس من مغربھا۔ رواہ مسلم۔ (مشكٰوۃ ص:۲۰۳)۔ عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لن ینجی أحدًا منكم عملہ، قالوا: ولَا انت یا رسول اللہ؟ قال: ولَا أنا! إلّا أن یتغمدنی اللہ منہ برحمتہ، فسددوا وقاربوا ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۷، باب الْإستغفار والتوبۃ)۔

