بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

بخشش‌کی‌اُمید‌پر‌گناہ‌کرنا

سوال:۔

عام طور پر لوگ رحمتِ خداوندی کے زور پر گناہ میں مبتلا رہتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرلیتے ہیں، مثلاً ایک واقعۂ رحمت ہے کہ ایک گناہگار شخص کی مغفرت محض پیاسے کتے کو پانی پلانے سے ہوگئی، اسی طرح کے اور واقعاتِ رحمت ہیں، جن کی بنا پر لوگوں پر تبلیغ اثر نہیں کرتی۔ ان کا خیال ہے کہ فلاں شخص کی مغفرت بغیر توبہ کے صرف ایک چھوٹی سی نیکی پر ہوگئی تھی، تو ہماری مغفرت کیوں نہ ہوگی، جبکہ خدا کی نظر میں تمام گناہگار بندے برابر ہیں؟ رہی دُنیا کی تکالیف تو اَز رُوئے حدیث صالح بندوں پر زیادہ مصائب ہوتے ہیں۔ برائے مہربانی اس مسئلے کا حل بتائیے۔

جواب:۔

یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کردے، مگر آدمی کو محض اس سہارے پر گناہوں پر جرأت نہیں کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بخش دیں گے۔ دراصل ایمان اور یقین کے کمزور ہونے کی وجہ سے آدمی گناہوں کی پروا نہیں کرتا، ورنہ آدمی کو کبھی جرأت نہ ہو۔(۱) اللہ تعالیٰ سے ڈَرنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کے اَحکام کی پابندی کرنی چاہئے، اس کے باوجود اِنسان خطاکار ہے، اللہ تعالیٰ سے معافی اور درگزر کی اِلتجا بھی کرتے رہنا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لو یعلم المؤمن ما عند اللہ من العقوبۃ ما طمع بجنّتہ أحد ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۷، باب الْإستغفار والتوبۃ)۔
  2. (۲) عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول: اللّٰھم اجعلنی من الذین اذا أحسنوا استبشروا واذا اساؤا استغفروا۔ رواہ ابن ماجۃ۔ (مشکوٰۃ، باب الْإستغفار والتوبۃ ص:۲۰۶)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طوبٰی لمن وَجَدَ فی صحیفتہ استغفارًا کثیرًا۔ (ایضًا)۔