بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

بار‌بار‌توبہ‌اور‌گناہ‌کرنے‌والے‌کی‌بخشش

سوال:۔

آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ دُنیا میں کئی ایسے مسلمان بھی ہیں جو پنج وقتہ نماز قائم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے صغیرہ و کبیرہ گناہ کرتے ہیں جن کو اِسلام منع کرتا ہے، اور پھر یہ لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں، اور پھر دوبارہ وہی کام کرتے ہیں جس سے توبہ کی تھی، اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا جن میں، میں بذاتِ خود شامل ہوں، روزِ قیامت میں کیا حشر ہوگا؟

جواب:۔

گناہ تو ہرگز نہیں کرنا چاہئے، ارادہ یہی ہونا چاہئے کہ کوئی گناہ نہیںکروں گا، لیکن اگر ہوجائے تو توبہ ضرور کرلینی چاہئے، اگر خدانخواستہ دن میں ستربار گناہ ہوجائے تو ہر بار توبہ بھی ضرور کرنی چاہئے،(۱) یہاں تک کہ آدمی کا خاتمہ توبہ پر ہو، ایسا شخص مغفور ہوگا۔

  1. (۱) عن الْاغرّ المزنی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یا أیھا الناس! توبوا الی اللہ، فانی أتوب الیہ فی الیوم مائۃ مرۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۳) وعن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ یحب العبد المؤمن المفَتَّنَ التَّوَّابَ۔ (مشکوٰۃ، باب الْإستغفار والتوبۃ ص:۲۰۶)۔