بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گناہوں‌سے‌توبہ

اپنے‌گناہوں‌کی‌سزا‌کی‌دُعا‌کے‌بجائے‌معافی‌کی‌دُعا‌مانگیں

سوال:۔

مجھ پر اپنے گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے جب بھی رِقت طاری ہوجاتی ہے، بے اختیار دُعا کرتی ہوں کہ خدا مجھے اس کی سزا دے دے، مجھے سزا دے دے۔ کیا مجھے ایسی دُعا کرنا چاہئے یا یہ غلط ہے؟

جواب:۔

ایسی دُعا ہرگز نہیں کرنی چاہئے،(۱) بلکہ یہ دُعا کرنی چاہئے کہ خواہ میں کتنی ہی گناہ گار ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ ان کی رحمت کا ایک چھینٹا دُنیا بھر کے گناہوں کو دھونے کے لئے کافی ہے۔(۲) اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کرنا کہ وہ مجھے گناہوں کی سزا دے، اس کے معنی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی سزا کو برداشت کرسکتے ہیں۔ توبہ! توبہ! ہم تو اتنے کمزور ہیں کہ معمولی تکلیف بھی نہیں سہارسکتے، اس لئے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ عافیت مانگنی چاہئے۔

  1. (۱) عن أنس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عادَ رجلًا من المسلمین قد خَفَت فصار مثل الفرخ فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ھل كنت تدعو اللہ بشیء أو تسألہ ایاہ؟ قال: نعم! كنتُ أقول: اللّٰھم ما كنت مُعاقبی بہ فی الآخرۃ فعجّلہ لی فی الدنیا۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: سبحان اللہ! لَا تطیقہ، ولَا تستطیعہ! أفلا قلت: اللّٰھم آتنا فی الدنیا حسنۃً وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار؟ قال: فدعا اللہ بہ، فشفاہ اللہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۲۰) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا ینبغی للمؤمن أن یتعرض من البلاء لما لَا یطیق۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲۰) عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تدعوا علٰی أنفسكم ولَا تدعوا علٰی أولَادكم ولَا تدعوا علٰی أموالكم ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۹۴، کتاب الدعوات)۔
  2. (۲) قال اللہ تعالٰی: یا ابن اٰدم! انك ما دعوتنی ورجوتنی غفرت لك علٰی ما کان فیك ولَا أُبالی، یا ابن اٰدم! لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتنی غفرت لك ۔۔۔ الخ۔ (جامع العلوم والحِكَم ص:۲۴۱، ایضاً مشکوٰۃ ص:۲۰۴)۔