گناہوںسےتوبہ
حقوقاللہکیادائیگیاورحقوقالعبادمیںغفلتکرنےوالےکیتوبہ
سوال:۔
خدا کا بندہ حق اللہ تو اَدا کرتا ہے، لیکن حق العباد سے کوتاہی برت رہا ہے، اس کی مغفرت ہوگی کہ نہیں؟ حق العباد اگر پورا کر رہا ہے، کسی قسم کی اپنی دانست میں کوتاہی نہیں کر رہا ہے، مگر حق اللہ سے کوتاہی کر رہا ہے، کیا اس کی مغفرت ممکن ہے؟
جواب:۔
سچی توبہ سے تو سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،(۱) (اور سچی توبہ میں یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں کا حق تلف کیا ہو ان کو اَدا کرے یا ان سے معافی مانگ لے)۔ اور جو شخص بغیر توبہ کے مرا، اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ خواہ اپنی رحمت سے بغیر سزا کے بخش دے یا گناہوں کی سزا دے۔(۲) حق العباد کا معاملہ اس اعتبار سے زیادہ سنگین ہے کہ ان کو اَدا کئے بغیر آخرت میں معافی نہیں ملے گی، ہاں! اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خصوصی رحمت کا معاملہ فرمائیں اور اہلِ حقوق کو اَپنے پاس سے معاوضہ دے کر راضی کرادیں یا اہلِ حقوق خود معاف کردیں تو دُوسری بات ہے۔(۳)
- (۱) ایضاً ص ۹۳۷ کا حوالہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
- (۲) ویغفر ما دون ذٰلك لمن یشآء من الصغائر والكبائر مع التوبۃ أو بدونھا۔ (شرح عقائد ص:۱۸۸ طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۳) قال المُلّا علی قاری فی باب الكبائر وعلامات النفاق: قسم یحتاج الی التراد أو ھو حق الآدمی والتراد ما فی الدنیا بالْإستحلال أو رد العین أو بدلہ وأمّا فی الآخرۃ یرد ثواب الظالم للمظلوم ۔۔۔ أو أنہ تعالٰی یرضیہ بفضلہٖ وکرمہٖ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۰۲، طبع بمبئی)۔

