گناہوںسےتوبہ
سچیتوبہاورحقوقالعباد
سوال:۔
اگر انسان گناہِ کبیرہ کرتا ہے، مثال کے طور پر زنا یا شراب پیتا ہے، کسی کا حق مارتا ہے، کسی کا دِل توڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو نیک ہدایت دیتا ہے، وہ ان گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ کے لئے پرہیز کرتا ہے، کیا اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے؟ میں بچپن میں تقریباً ۱۵ سال کی عمر تک نانی کے ساتھ رہا، میں نے اپنی نانی کا دِل دُکھایا، انہیں تنگ کیا، انہوں نے مجھے بددُعا دی اور نانی کا انتقال ہوئے سات سال ہوگئے ہیں، اب میں ۲۲ سال کا ہوں، میں چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔
جواب:۔
سچی توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں،(۱) البتہ حقوق ذمہ رہ جاتے ہیں، پس اگر کسی کا مالی حق اپنے ذمہ ہو تو اس کو ادا کردے یا صاحبِ حق سے معاف کرالے، اور اگر غیرمالی حق ہو (جیسے کسی کو مارنا، گالی دینا، غیبت کرنا وغیرہ) تو اس کی زندگی میں اس سے معاف کرائے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دُعا و اِستغفار کرتا رہے، اِن شاء اللہ معافی ہوجائے گی۔(۲)
- (۱) ولیس شیء یکون سببًا لغفران جمیع الذنوب إلّا التوبۃ قال تعالٰی: ﵟ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥٣ ﵞ الزمر ٥٣۔ ھٰذا لمن تاب۔ (شرح عقیدۃ الطحاویہ ص:۳۶۸، المکتبۃ السلفیۃ، لَاھور)۔
- (۲) وان کانت عما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الأموال فیتوقف صحۃ التوبۃ منھا ما قدمناہ فی حقوق اللہ علی الخروج عن عھدۃ الأموال وارضاء الخصم فی الحال والْإستقبال ۔۔۔الخ۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۹۴)۔

