گناہوںسےتوبہ
سچیتوبہاورگناہوںکیمعافی
سوال:۔
اگر کوئی مسلمان ساری زندگی گناہ کرتا رہے، خواہ وہ کسی بھی قسم کے گناہ ہوں۔ بعد میں یہ توبہ کرلے تو اس شخص کی توبہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ آیا اس کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔
سچی توبہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، مگر سچی توبہ کی شرط ہے کہ اگر اس نے نمازیں قضا کی ہوں تو نمازیں ادا کرے، اگر زکوٰۃ نہ دی ہو تو ساری عمر کا حساب کرکے زکوٰۃ دے، اگر روزے نہ رکھے ہوں تو حساب کرکے روزے رکھے، غرضیکہ توبہ جب قبول ہوتی ہے جبکہ اپنی تمام کوتاہیوں کی تلافی بھی کرے۔ اور ظاہر بات ہے کہ ایک دم سے کوتاہیوں کی تلافی ممکن نہیں، لیکن عزم کرے کہ میں تمام گناہوں کی تلافی کروں گا۔(۱)
- (۱) ﵟ وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٢٥ ﵞ۔ وان کانت (التوبۃ) عما فرط فیہ من حقوق اللہ كصلٰوت وصیام وزكٰوۃ فتوبتہ ان یندم علٰی تفریطہ اوّلًا ثم یعزم علٰی أن لَا یفوت أبدًا ۔۔۔ ثم یقضی ما فاتہ جمیعًا۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۹۴، طبع مجتبائی دھلی)۔

