گناہوںسےتوبہ
توبہسےگناہِکبیرہکیمعافی
سوال:۔
کیا توبہ کرنے سے تمام کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ اگر معاف ہوجاتے ہیں تو کیا قتل بھی معاف ہوجاتا ہے؟ کیونکہ قتل کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اس مسئلے پر یہاں پر بعض مولانا صاحب اس کے قائل ہیں کہ توبہ سے قتل بھی معاف ہوجاتا ہے، لیکن بعض کہتے ہیں کہ قتل حقوق العباد میں سے ہے، حقوق اللہ تو معاف ہوجاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں آپ وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
قتلِ ناحق ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے جن کو حدیث میں ’’ہلاک کرنے والے‘‘ فرمایا ہے،(۱) یہ حق اللہ بھی ہے اور حق العبد بھی، تاہم جس سے یہ کبیرہ گناہ سرزد ہوگیا ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور ہمیشہ مانگتا رہے، مگر چونکہ اس قتل سے حق العبد بھی متعلق ہے، اس لئے مقتول کے وارثوں سے معاف کرانا بھی ضروری ہے۔(۲)
- (۱) ’’عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا السبع الموبقات۔ قیل: یا رسول اللہ! وما ھن؟ قال: الشرك باللہ، والسحر، وقتل النفس التی حرَّم اللہ إلّا بالحق ۔۔۔الخ‘‘ (ابوداوٗد، کتاب الوصایا ج:۲ ص:۴۱)۔
- (۲) وان کانت عما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الأموال فیتوقف صحۃ التوبۃ منھا مع ما قدمناہ فی حقوق اللہ علی الخروج عن عھدۃ الأموال وارضاء الخصم فی الحال والْإستقبال۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۹۴)۔

