گناہوںسےتوبہ
گناہکیتوبہاورمعافی
سوال:۔
ایک بچہ مسلمان گھر میں پیدا ہوتا ہے اور اسی گھر میں پل کر جوان ہوتا ہے، اس کے دِل میں دِین کی محبت بھی ہوتی ہے، لیکن شیطان کے بہکانے پر گناہ بھی کرلیتا ہے حتیٰ کہ وہ گناہِ کبیرہ میں ملوّث ہوجاتا ہے، لیکن گناہِ کبیرہ کرنے کے بعد اس کے دِل کو سخت ٹھوکر لگتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر توبہ کرلیتا ہے اور سچی توبہ کرلیتا ہے۔ کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ اس کو شرعی سزا دُنیا میں نہ دی جائے اور نہ اس کے اقبالِ جرم کے علاوہ گناہ کا کوئی ثبوت موجود ہے۔
جواب:۔
آدمی سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ گناہگار کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔(۱) اور جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور کسی بندے کا حق اس سے متعلق نہ ہو، اور کسی کو اس گناہ کا پتا بھی نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ کسی سے اس گناہ کا اظہار نہ کرے،(۲) بلکہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ و اِستغفار کرے۔(۳)
- (۱) ان التوبۃ اذا استجمعت شرائطھا فھی مقبولۃ لَا محالۃ، اعلم: انك اذا فھمت معنی القبول لم تشك فی أن کل توبۃ صحیحۃ فھی مقبولۃ۔ (احیاء علوم الدین ج:۴ ص:۱۳، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۲) لأن اظھار المعصیۃ معصیۃ لحدیث الصحیحین: ’’كل اُمّتی معافی إلّا المجاھرین‘‘ وان من الجھار أن یعمل الرجل باللیل عملًا ثم یصبح وقد سترہ اللہ فیقول: عملت البارحۃ كذا وكذا، وقد بات یسترہ ربہ ویصبح یکشف ستر اللہ عنہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۷۷)۔
- (۳) وأما العاصی ۔۔۔ فما کان من ذٰلك بینہ وبین اللہ تعالٰی من حیث لَا یتعلق بمظلمۃ العباد ۔۔۔ فالتوبۃ عنھا بالندم والتحسر علیھا۔ (احیاء علوم الدین ج:۴ ص:۳۵، الركن الثالث: فی تمام التوبۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

