گناہوںسےتوبہ
توبہکاطریقہ
سوال:۔
میرا نام شاہد حمید انجم ہے، تعلیم میٹرک، پاکستان پنجاب سے تعلق رکھتا ہوں، عمر ۲۲ سال، غیرشادی شدہ، پیشہ لیڈیز ٹیلر۔ مولانا صاحب! اللہ تعالیٰ نے مجھے لڑکپن میں ہی اپنی ہر نعمت سے نوازا ہے، چھوٹی سی عمر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائی، میں اس قابل نہ تھا، میں نے ۱۹۸۴ء میں حج کیا ہے، حج کے موقع پر حرم شریف میں بیٹھے ہوئے چند گناہوں کو اپنے دِل ونظر میں رکھتے ہوئے میں نے عہد کیا تھا، توبہ کی تھی، آئندہ نہیں کروں گا، حج واپسی سے چھ ماہ بعد تک اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے ساتھ اپنے عہد کو نبھایا، بعد اَزاں میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا، آج تقریباً حج کئے ہوئے پونے دو سال ہوئے، پھر بھی پہلے کی نسبت بہت حد تک کنڑول کیا ہے، لیکن پنجابی میں محاورہ ہے: ’’چوری ککھ دی اور لکھ دی برابر ہوتی ہے‘‘۔
میں بے حد شرمندہ ہوں، اللہ تعالیٰ بخشش کریں، نماز بھی پڑھتا ہوں، عجیب قسم کے خیالات آتے ہیں، اپنے گریبان میں دیکھتا ہوں تو گناہوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ نفسیاتی مریض بھی ہوں، خود اعتمادی نہیں، احساسِ کمتری کا شکار ہوگیا ہوں۔ از راہِ کرم کوئی وِرد، ذکرِ اِلٰہی لکھ کر بھیجئے، جس سے میں بارگاہِ اِلٰہی میں سچی توبہ کرسکوں۔ اللہ تعالیٰ سروَرِ کائنات، آقائے نامدار، مدنی تاج دار، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، سوچتا ہوں زندگی کے ۲۲ سال گزار دئیے، آخرت کے لئے کچھ نہ کیا۔
جواب:۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کراچی آئیں تو مجھ سے ملیں۔ سرِدست آپ چند باتوں کا اہتمام فرمائیں:
اوّل:۔ ایک بار سچے دِل سے تمام گناہوں سے توبہ کرلیں، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرلیں کہ اِن شاء اللہ آج کے بعد کوئی گناہ نہیں کروں گا۔
دوم:۔ ایک دفعہ پیٹ بھر کر توبہ کرنے کے بعد یقین رکھیں کہ اِن شاء اللہ، اللہ تعالیٰ ضرور توبہ قبول فرمائیں گے، اور گناہوں کا بوجھ اور اس کی فکر اور پریشانی جو آپ کمر پر لادے چل رہے ہیں، اس کو اُتار پھینکیں۔
سوم:۔ اگر خدانخواستہ پھر کوئی غلطی ہوجائے تو فوراً توبہ کی تجدید کرلیا کریں، خواہ ستر بار روزانہ تجدیدِ توبہ کرنی پڑے۔(۱)
چہارم:۔ وقتاً فوقتاً اپنے خیالات مجھے لکھتے رہیں، مگر جزئیات لکھنے چاہئیں۔
پنجم:۔ روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت، نمازِ باجماعت اور دُرود شریف، اِستغفار اور تیسرے کلمے کی ایک تسبیح کو معمول بنائیں۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: واللہ اِنِّی لأستغفر اللہ وأتوب الیہ فی الیوم أکثر من سبعین مرۃ۔ (مشکوٰۃ، باب الْإستغفار ص:۲۰۳، طبع قدیمی)۔

